سادگی اور بچت کا کلچر

سادگی اور بچت کا کلچر
سادگی اور بچت کا کلچر

  

وزیراعظم عمران خان نے اور باتوں کے علاوہ سرکاری اخراجات میں سادگی اور بچت پر کافی زور دیا ہے۔ ہماری معیشت غیرملکی قرضوں پر چل رہی ہے لہٰذا بچت ہماری ضرورت ہے اس کے علاوہ ہمارے مذہب میں بھی عملی زندگی میں سادگی پر بڑا زور دیا گیاہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں فضول خرچی، نمودونمائش اور بے جا اسراف کو بڑا پسند کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک دو شادیوں کا اخبارات اور سوشل میڈیا پر بڑا تذکرہ رہا ہے۔ ایک شادی گوجرانوالہ میں ہوئی اور دوسری آصف زرداری کی بیٹی کی تھی۔ اِن شادیوں پر اخراجات اور نمودونمائش کے نئے ریکارڈ قائم کئے گئے ہیں۔ کسی طرح بھی ان باتوں کی حوصلہ افزائی نہیں جا سکتی۔ ایک طرف پیسے کی یہ ریل پیل ہے اور دوسری طرف غربت کے مظاہر دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ایسے حالات میں معاشرے میں امن و امان، سکون اور ٹھہراؤ کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟۔ حکومت کے علاوہ رائے عامہ کو متاثر کرنے والے طبقوں یعنی علماء، دانشوروں اور صحافیوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان غلط رحجانات کی حوصلہ شکنی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ اِس کام کیلئے ایک منظم تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم عمران خان عموماً سادہ لباس پہنتے ہیں اور پشاوری چپل بھی اُن کی پسندیدہ ہے۔کھانا پینا بھی سادہ ہے اور سرکاری سطح پر وہ کئی معاملات میں اِن چیزوں کا عملی نفاذ بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات اور غیرملکی دوروں پر خاصی بچت کی ہے۔ سُنا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں چائے نہیں دی جاتی اِس بات سے میں ذاتی طور پر متفق نہیں ہوں۔ کابینہ کا اجلاس گھنٹوں جاری رہتا ہے اور وہاں اہم فیصلے ہوتے ہیں اس لئے انسان میں توانائی کا لیول ٹھیک ہونا چاہئے اور پھر چائے پر بہت معمولی خرچ آتا ہے۔ اتنے معمولی اخراجات سے بہرحال معیشت پر کوئی مثبت یا منفی اثرات نہیں پڑ سکتے ہاں البتہ وزیراعظم ہاؤس میں ماضی کے اللّے تلّلوں اور غیرملکی دوروں پر بے پناہ اخراجات میں بچت بہت خوش آئند ہے۔ توقع کرنی چاہئے کہ اب اِس قسم کے معاملات میں اِن روایات پر آئندہ حکومتیں بھی عمل کریں گی۔اس لئے ان اقدامات میں میانہ روی اور کسی منظق کا عمل دخل ہونا چاہئے تاکہ یہ روایات Sustainable بن سکیں۔

حکومت جو کچھ بچت کے سلسلے میں کر رہی ہے اسے سراہنا چاہئے تاہم معاملہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا کیونکہ یہ نسبتاً چھوٹی چھوٹی بچتیں ہیں۔ وزیراعظم کو اب چائے پانی، مرغیوں اور انڈوں سے آگے نکلنا چاہئے اور بہت سے شعبے ہیں جہاں فیصلوں کی ضرورت ہے اور وزیراعظم نے ماضی میں اِن معاملات پر وعدے وعید بھی کئے ہوئے ہیں مثلاً پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ ہم برسراقتدار آ کر گورنر ہاؤسز کو گِرا دیں گے لیکن اس معاملے میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ پنجاب کا گورنر ہاؤس سینکڑوں ایکڑز پر محیط ہے جس میں بیٹھنے والے گورنر صاحب کا کردار آئین کے مطابق کافی محدود ہے۔ یہی حال دوسرے گورنر ہاؤسز کا ہے۔ وزیراعظم کو اِس معاملے پر کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔ اِن گورنر ہاؤسز کو گرانے کی ضرورت نہیں کسی بہتر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ یہ کروڑوں نہیں اربوں کی زمین ہے اِس کا صحیح استعمال ضروری ہے پھر کم از کم پنجاب میں مختلف اضلاع میں پولیس اور ڈی ایم جی کے افسروں کی رہائش گاہیں بیسیوں ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہیں اِن کی تفصیل سوشل میڈیا پر عام ہے۔ وزیراعظم صاحب کو اس معاملے میں کوئی فیصلہ کرنا چاہئے اور یہاں بھی اربوں کی آمدنی ہو سکتی ہے۔ ڈی سی او یا ڈی آئی جی کے اتنے بڑے گھروں میں رہنے کا کیا جواز ہے؟

گریڈ 22 کے افسران کو اسلام آباد میں پانچ سو گز کا ایک پلاٹ ملا کرتا تھا۔ سابق وزیراعظم شوکت عزیز صاحب نے بیوروکریسی کو خوش کرنے کے لئے دو پلاٹس کر دیئے۔ پھر سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ایک پلاٹ کر دیا بعد میں پتہ نہیں کس نے دو دو پلاٹس دینے کا استحقاق بحال کر دیا۔ عمران خان صاحب اس معاملے پر توجہ کریں۔ اول تو پلاٹس کا کلچر سرے سے ختم ہونا چاہئے۔ افسروں کو ایگزیکٹو فلیٹس بنا کر دیئے جائیں۔اس کے لئے آبپارہ کے ساتھ والا علاقہ موزوں جگہ ہے۔ آج سے بہت پہلے ایک وزیراعظم تھے محمد خان جونیجو وہ ایک زمیندار تھے اور کوئی زیادہ پڑھے لکھے بھی نہیں تھے نہ انہوں نے کبھی انقلابی ہونے کا دعویٰ کیا تھا لیکن انہوں نے کسی پبلسٹی کے بغیر کئی انقلابی کام کئے مثلاً انہوں نے فیصلہ کیا کہ تمام سرکاری افسر ایک ہزار سی سی کی گاڑی استعمال کریں گے۔ عمران خان سے اُمید تھی کہ وہ کچھ ایسے ہی غیرروایتی فیصلے کریں گے۔ 1300 سی سی سے اوپر گاڑی کی کسی سرکاری افسر کو ضرورت نہیں اگر وزیراعظم صاحب ان معاملات پر انقلابی فیصلے کر دیں تو اِس سے اُن کا امیج بہت بلند ہو گا اور ہمیشہ اُن کا حوالہ دیاجائے گا لیکن افسوس کہ انہوں نے حال ہی میں چار وزرا ء اور مشیروں کو کروڑوں روپے کی لگژری گاڑیاں دے کر اپنی سوچ او رفلاسفی کی نفی کر دی ہے۔ اُن سے یہ توقع نہیں تھی۔

مزید :

رائے -کالم -