شیر لاہور حافظ سلمان بٹ کا تعزیتی ریفرنس

شیر لاہور حافظ سلمان بٹ کا تعزیتی ریفرنس
شیر لاہور حافظ سلمان بٹ کا تعزیتی ریفرنس

  

یہ الحمرا مال روڈ کا ہال نمبر ایک ہے جو اس وقت کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ بیشتر بڑے بڑے نام جب اپنا کوئی پروگرام الحمرا میں رکھتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کہ اس ہال میں اپنا پروگرام  نا رکھیں بلکہ ہال نمبر دو اور تین کا رخ کریں کیونکہ بہ نسبت ایک نمبر ہال کے ان دو ہالوں کو بھرنا آسان ہے۔ لیکن یہاں منظر کچھ اور ہے۔ نا صرف ایک نمبر  ہال بھر چکا ہے بلکہ نیچے موجود لابی میں بھی عوام کا جم غفیر موجود ہے اور ہاؤس فل ہونے کی وجہ سے اب عوام الحمراء کے لان کا رخ کر رہے ہیں۔ ہاؤس فل بھی کیوں نا ہو۔ یہ تمام لوگ جو یہاں موجود ہیں اپنے پیارے سپوت، جان لاہور، شان لاہور حافظ سلمان بٹ کو یاد کرنے جمع ہوئے ہیں۔  

ہال میں اس وقت ہر شعبہ ہائے زندگی سے جڑے نامور افراد پہنچ چکے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق، خواجہ سعد رفیق، اعجاز چودھری، امیر العظیم، سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی، حسان و جبران اور دیگر مہمانان یہ سب یہاں اس شخصیت کو یاد کرنے اور گواہی دینے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ حافظ سلمان بٹ کی پوری زندگی ایک بے خوفی، نڈر اور دلیرپن کی عبارت تھی۔  ان میں  کچھ ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو عرصہ سنتالیس سال سے اس شخص کو جانتے ہیں۔ ان میں ریلوے مزدوروں کی ملکی نمائندہ پریم یونین کے عہدیداران اور کارکنان موجود ہیں۔ ان کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ لیبر یونین ہال کی طرز پر حافظ سلمان  بٹ کے نام سے بھی ایک نیا مزدوروں اور ان کی یونین کے لیے لیبر ہال بنایا جائے۔ جس پر نیشنل لیبر فیڈریشن کے عہدیداروں نے فیڈریشن کا مرکزی دفتر حافظ سلمان بٹ کے نام کرنے کا اعلان کیاہے۔

یہاں جبران بٹ کے بقول حافظ سلمان کا پہلا عشق اسلامی جمعیت طلباء کی اعلی قیادت بھی اپنے مربی و رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچی ہے۔ حمزہ صدیقی کہتے ہیں کہ حافظ صاحب جیسے اعلی و ارفع کردار ہی جمعیت کا معاشرے میں وقار برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کو ایسی قیادت کی نرسری بننے پر فخر ہے۔

پی ایچ اے کے چیرمین انجینئیر یاسر گیلانی نے کیا خوب  کہا کہ بٹ صاحب کے جانے کے بعد شہر لاہور کے سیاسی ورکرز اپنے ایک سیاسی لیڈر سے محروم ہوئے ہیں، ہم سب سیاسی ورکرز ہی دراصل حافظ سلمان کے سیاسی ورثاء ہیں۔

 سجاد میر نے تو گویا میرے دل کی ہی بات کہہ ڈالی، میں جو ان کی رحلت کے بعد اپنی کوتاہ قامتی کے باعث کچھ لکھنے کی ہمت نہ کرپارہا تھا۔ حالانکہ تحریر کے لیے میں نے ان کی تصاویر پر مشتمل ڈیٹا نا صرف اکٹھا کر لیا تھا بلکہ کچھ کو شئیر بھی کیا۔ پھر سوچا کہ ایسے بڑے نام پر لکھوں بھی تو کیا۔ جو احوال سنا رہے یا لکھ رہے ان کی یاداشتوں میں کچھ لمحات تو فیضیابی کے ہیں۔  پھر سوچا کہ چلو ان سے نہیں حسان و جبران سے بھی تو بھائیوں جیسا تعلق ہے وہی بیان کرڈالوں۔ کیا ہوا اگر حافظ سلمان بٹ کی جوانی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ وہ خوابناک قصے کہانیاں جن کا ذکر خواجہ سعد رفیق اور دیگر رفقاء کرتے ہیں ان کا چشم دید گواہ نہیں۔ میری بڑی خالہ جان ان دنوں جامعہ پنجاب میں تھیں اور حافظ صاحب کے حوالے سے وہ اور والدہ اکثر و بیشتر ہم جوانوں کو حیا وپاکیزہ جوانی کا مطلب سمجھانے کے لیے یہ خوابناک قصہ سناتی ہیں کہ عین شباب میں یونیورسٹی کی لڑکیاں اس وجیہہ، دراز قامت ہینڈسم اور خوبصورت جوان کو دیکھنے اور بطور یونین لیڈر ملنے کے لیے کتنی ہی تیاری کے ساتھ آتیں، خوب بناؤ سنگھار کرتیں مگر یہ حیا و عفت کا پیکر ان کی طرف ایک نظر تک اٹھا کر نا دیکھتا۔ یہ واقعی وہ سبق ہے نوجوانی کا جو ابوالاعلیٰ مودودی کا نظریہ، سوچ اور اسلامی جمعیت طلباء جیسی مبارک نوجوانوں کی تحریک ہی دے سکتی ہے اور آج کے دور میں پھر ایسےجوان اور افراد ولی اللہ ہی کہلانے کے قابل ہیں۔

 جوانی کے مزید قصے سننے کو نہیں ملے تو کیا ہوا، میں نے ان کے بڑے صاحبزادے حسان بٹ کی جوانی کو یاد کیا۔ 

 کیسے حسان بٹ کو پہلی بار پنڈال میں دیوانہ وار نعرے لگاتے دیکھا تھا۔ ایسی ہی تو ہوگی ان کی جوانی بھی۔ یہ شاہ بلوط، جو اس بڑھاپے میں بھی اپنی کسی محفل میں، کہیں بھی بطور مربی بولتا تھا یا باطل کے ایوانوں میں اس کی للکار گونجتی تھی یا پھر لاہور کا کوئی محلہ، گلی یا نکڑ ہوتی تو یہ شیر اپنے جوش خطابت اور ولولے میں سب جوانوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیتا۔ 

بات چل رہی تھی سجاد میر کی جو کہتے ہیں کہ حافظ سلمان بٹ کے ساتھ کم جبکہ زیادہ وقت ان سے رشک کرتے گزرا۔ سیاسی میدان میں جس نے بڑے بڑے برج الٹ دیے۔ میاں صلو، میاں اظہر جو وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھتے تھے انہیں ہرا دیا۔ کھیلوں میں، مزدور یونین میں سیاست میں ہر جگہ ایک ہی شخص چھایا ہوا ہو تو رشک تو کرنا بنتا ہے۔ 

معروف اینکر پرسن مبشر لقمان نے شرکائے محفل کے سامنے انکشاف کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں سودی نظام کے خلاف پہلی رٹ حافظ سلمان بٹ نے کی۔ مولانا جاوید قصوری نے شرکائے محفل پر واضح کیا کہ نظریے مرا نہیں کرتے اور کردار پیدا کرتے ہیں اور کردار تاریخ میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہتے ہیں۔ وہ عبدالغفار عزیز، ڈاکٹر وسیم اختر، نعمت اللہ خان، سید منور حسن، قاضی حسین احمد، میاں طفیل محمد کی صورت میں ہمیشہ زندہ وجاوید رہتے ہیں۔  فٹبال ایسوسی ایشن کی نمائندگی کے لیے زاہد حسین شاہ موجود ہیں جو گواہی دے رہے ہیں کہ 

عاجزی سے بہادری کے ساتھ اصول پر کھڑا ہونا حافظ سلمان بٹ کا وطیرہ تھا۔ جہاں جہاں جن جن شعبوں میں بھی کردار ادا کیا وہ لمبے عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ فٹبال جتنے لوگوں کو سکھایا اور کھلایا اور فٹبال کی ترقی کے لیے جو جو کام کیے اتنا سب کچھ کسی نے نہیں کیا۔ 

 جبران بٹ نے حافظ سلمان بٹ کے والدین، بھائیوں اور پھر اپنی والدہ کی قربانیوں کا ذکر کیا وہیں والد کی خوبیوں بیان کرتے ہوئے کہا کہ اطاعت امیر کی ان سے بہترین مثال کوئی نہیں تھی۔ بیشک ان کی بینائی آخری سالوں میں جاتی رہی مگر اسلامی انقلاب کا خواب ہر وقت ان کی آنکھوں میں رہتا تھا۔ 

حسان بٹ نے بھی اپنے والد محترم کے بچھڑنے پر سب احباب کی محبتوں کا ذکر کیا۔ نیشنل لیبر فیڈریشن، پریم یونین، جمعیت ، فٹبال فیڈریشن سب کی انگنت محبتوں پر شکر گزار نظر آئے۔ 

امیر العظیم نے اپنی مختصر گفتگو میں واضح گواہی دی کہ حافظ سلمان بٹ کسی بھی دور میں کبھی بھی منصب کے طالب نہیں رہے۔ 

اعجاز چودھری نے حافظ سلمان بٹ کو لاہور اور پنجاب کا سب سے زیادہ چاہے جانے والا لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حافظ سلمان صوفی درویش لیڈر تھے۔ وہ سیاسی میدان میں ویسی پذیرائی حاصل نہیں کرسکے جس کے وہ حقدار تھے۔ وہ ولی اللہ تھے دنیا کی دولت سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ کسی مالی بے ضابطگی میں کبھی ملوث نہیں رہے۔ 

خواجہ سعد رفیق حافظ سلمان بٹ کی محبت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان سے اپنائیت کا بڑا گہرا تعلق تھا۔ اٹھاسی کے الیکشن میں جب میری اپنی جماعت میرے ساتھ نہیں کھڑی تھی تو حافظ سلمان میرے پاس خود چل کر آئے اور معاملہ حل کیا اور میں نے ان کے الیکشن کی بھرپور کمپین کی۔ 2001ء کے بلدیاتی الیکشن میں مئیر لاہور کے لیے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے پاس اکثریت کے باوجود کوئی ایسا بندہ نہیں تھا جسے الیکشن لڑواتے کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ وہاں سے ایک کال آئے گی اور یہ سب لیٹ جائیں گے۔ حافظ صاحب کے بارے میں یقین تھا کہ کچھ بھی ہو جائے وہ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے۔ وہ الیکشن دراصل حافظ صاحب جیت گئے تھے مگر پیسے اور ریاستی مشینری کی بنیاد پر وہ الیکشن ہارے۔ وہ یقینا ایک مرد قلندر، کوئی اور ہی دنیا کا آدمی تھا۔ پاکستان ریلوے کے ٹرن آؤٹ میں حافظ سلمان نے جو رہنمائی کی اس کی بنا پر ریلوے نے ترقی کا سفر کیا اور اس مقام پر پہنچی۔ وہ ہر کسی کے دلوں کی دھڑکن تھے اور ایک  آفاقی شخصیت تھے۔ دلیری اور دانائی ایک شخص میں مشکل ملتی یے۔  

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ حافظ سلمان بٹ کی وفات پر صرف گھر والے ہی نہیں، صرف دوست احباب ہی نہیں، ان کے مخالفین بھی روئے۔ جتنے دوسرے لوگوں کے فون آئے اس سے لگا کہ انہوں نے دلوں کو مسخر کیا ہے۔ پیسے اور دولت کے زور پر اس شہر کو حقیقی قیادت سے محروم رکھا گیا۔ حافظ سلمان بٹ نے نظریے پر زندگی نچھاور کردی۔ حتی کہ جبران اور حسان کے بیٹے اپنے پوتے بھی جماعت کو وقف کردیے۔  

تقریب کے دوران حافظ سلمان بٹ کی یاد میں اسد قریشی اور حافظ لئیق نے نغمے بھی پیش کیے وہیں حافظ سلمان بٹ کے یادوں پران سے محبت کرنے والے دھاڑیں مارکر  روتے بھی نظر آئے۔ اللہ انہیں جنت الفردوس کا اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ وادخلہ فی جنت الفردوس۔ آمین ثم آمین

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -