ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
 ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے

  

مصنف: عمران الحق چوہان 

قسط: 7

میں فون کا استعمال بھی کم سے کم کر رہا تھا تا کہ بیٹری بچائی جا سکے۔ میں نے طاہر کو فون کیا اور اسے بتا یا کہ میں کہاں ہوں، موسم کس قدر خراب ہے، راستے مکمل مسدود ہیں اور یہ کہ میں دراصل سخت خوف زدہ بھی ہوں۔ اوریہ بات ایسی تھی کہ میں صرف طاہر ہی کو بتا سکتا تھا، اپنے بارے میں سچ سب سے نہیں کہا جا سکتا۔ وہ خود بھی ٹی وی پر خبریں سن کر گھبرایا ہوا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ اگر ہمیں کو ئی حادثہ پیش آ جائے تو ہماری تلاش تھا کوٹ سے شروع کرے۔ مزید  اسے دعا کر نے، (امریکیوں کے) گُوگل پر موسم کی خبر رکھنے اور ہمیں آ گاہ کرتے رہنے کو کہا۔

مغرب کی اذان ہوئی تو مجھے مسجد جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔شام رات میں بدلی لیکن موسم کے تیور نہیں بدلے۔ اندھیرے نے دریا کی غراہٹ کو زیادہ مہیب اور بادلوں کو زیادہ بوجھل بنا دیا تھا۔ ہوٹل کے صحن میں بھی کافی پانی کھڑا ہو چکا تھا۔ برا مدے میں جلتے زردبلبوں اورنیلی ہر ی ٹیوبوں کی روشنی میں مسافروں کی چہل پہل سے پرے تاریکی تھی جس میں بوندوں کی ٹپ ٹپ ایک تواتر کی ساتھ آ رہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا کے جھو نکے آئے تو ہم نے سویٹر اور جیکٹیں پہن لیں۔ رات کا بد ذائقہ کھانا بے دلی سے کھا یا۔ رفتہ رفتہ کھا نے کی ہمہ ہمی بھی دم توڑ گئی اور ماحول پر خا مو شی غالب آ نے لگی۔ نجی ٹی وی کی ٹیم کے مرد سگریٹوں سے دل بہلا رہے تھے۔ لڑکی نے ہلکی سی چادر کی بُکل مار لی تھی اور اپنے قریب والے ساتھی سے سر جوڑے دبی آواز میں باتیں کر رہی تھی جنھیں فرحان اور ندیم اپنے تخیلاتی انٹینا سے کیچ کر کے ڈی کوڈ کرنے اور باقیوں تک آن ائیر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ میرے دماغ میں نیند، خوف اور تھکاوٹ کا غبار بھرا ہوا تھا۔ میں کرسی سے اٹھ کر بس میں چلا گیا کہ شاید کچھ دیر آ نکھ لگ جائے۔بس کے اندر گھٹن اور ڈیزل کی بوجھل بُو تھی۔ دو تین اور مسافر اپنی نشستوں پرچادریں لپیٹے سو رہے تھے۔ گیلی سیٹوں اور ٹپکتی چھت کی وجہ سے محفوظ ٹریول کی انتہائی غیر محفوظ بس غالبؔ کا غریب خا نہ بنی ہو ئی تھی۔ ایسے میں کچھ دیر سونا تو کجا آرام سے بیٹھنا بھی مشکل تھا کیوں کہ پانی پنٹ میں جذب ہو نے کے بعد اب میری پنڈلیوں پر بہ رہا تھا۔تھوڑی دیر بعد میں دوبارہ ابا سین ہو ٹل کے برا مدے میں لوٹ آ یا۔ دو روز سے مسلسل بیٹھے رہنے، نیند کی کمی اور ذہنی تناؤ سے پٹھے کھنچنے لگے تھے۔ اعظم کمر سیدھی کر نے کے لیے چا در اوڑھ کرچارپائی پر لیٹ گیا۔ ہم سُتے ہو ئے چہروں کے ساتھ اس کے گرد یوں بیٹھے تھے جیسے قریب المرگ آ دمی کے گرد مایوس اور سوگ وار لوا حقین بیٹھے ہو تے ہیں لیکن ابھی اس غریب کی کمر پو ری سیدھی بھی نہیں ہو ئی تھی کہ ہو ٹل والا دوڑ کر آیا اور اعظم کے پاؤں کا انگو ٹھا ہلا کر بولا

 ”اُٹ کر بیٹو بئی، لیٹنے کا پیسا الگ سے ہے۔“

اعظم فورا ً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔ ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہو تی ہے!

 فر حان نے کمرے میں چارپائی کرائے پر لینے کی تجویز دی لیکن میں دریا کے قریب کسی جگہ لیٹنے کو تیار نہیں تھا۔ اس اندیشوں اور خدشوں سے لتھڑی رات میں دریا کے کنارے پر، ایک مخدوش ہو ٹل کے خستہ کمرے میں، کسی گندے بستر میں غا فل سو سکنے کی ہمّت مجھ میں تو بالکل نہیں تھی۔ میرے خوف کو دیکھ کر با قیوں نے بھی ارادہ بدل دیا۔ میں دل میں بارش تھمنے اور اس علاقے سے خیر، خیریت سے نکلنے کی دعا مسلسل کر رہا تھا۔ عشاء کے قریب طاہر نے فون پر بتایا کہ انٹر نیٹ پر موسمی پیش گوئی کے مطابق کل اس علاقے پر بادل چھٹنے کا امکان ہے اور پرسوں سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ میرے دل کو ذرا تسلّی ہوئی۔ یہ اطلاع ساتھیوں کو دے کر میں تھیلے سے جان سٹائن بیک کی کتاب نکال کر پڑھنے لگا۔ندیم کانوں میں ٹو نٹیاں لگا کر موسیقی سے دل بہلانے لگا۔ سمیع، فرحان اور اعظم وقت گزاری کے لیے ساتھ والی لڑکی کی باتیں کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد میں نے ندیم سے ائیر فون لے کر گا نا سننا چاہا لیکن چھو ٹے چھوٹے بٹن سے میرے کان میں اٹک کر ہی نہیں دیے۔میں نے اس پر غصے کا اظہار کیا تو ندیم نے اس کی وجہ یہ بتا ئی کہ میرے کانوں کا ماڈل بہت پرانا ہے اور اس زمانے کا ہے جب ایسے آ لات نہیں ہو تے تھے۔ گویا قصور ان بٹنوں کا نہیں میرے کانو ں کے آ ؤ ٹ ڈیٹڈ(out dated) ڈیزائن کا تھا۔میں نے کتاب پڑھنے ہی میں عافیت سمجھی۔بارش کی نان سٹاپ کِن مِن اور ٹپ ٹپ سے کان پک گئے تھے۔ ہو ٹل کے برا مدے کی ٹین کی چھت کے نیچے، مسجد کے اندر، بس میں ہر جگہ بارش کی سر سراہٹ اور بھنبھنا ہٹ ہمیں گھیرے ہوئے تھی۔ (جاری ہے)

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -