روس، یوکرین میں فائر بندی، مذاکرات آج، جنرل اسمبلی میں ماسکو کیخلاف قرار داد منظور، مہاجرین کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا

روس، یوکرین میں فائر بندی، مذاکرات آج، جنرل اسمبلی میں ماسکو کیخلاف قرار داد ...

  

        کیف،ماسکو،واشنگٹن،نیویارک(نیوزایجنسیاں)  روس اوریوکرین میں فائربندی،مذاکرات آج پولینڈ اور بیلاروس کی سرحد پر ہونگے،ادھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جنرل اسمبلی میں رو س کیخلاف قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں 193میں سے 141ارکان نے روس کیخلاف قراردادکی حمایت جبکہ روس سمیت ایریٹریا،شام،بیلاروس،شمالی کوریانے قرارداد کومستردکردیا اور پا کستا ن اور چین سمیت 35ارکان غیر حاضر رہے،قراردا میں جنگ بندی اور فوج کی واپسی کے مطالبے سمیت روسی جارحیت کی مذمت کی گئی ہے۔ قبل ازیں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ر و س سے مطالبہ کیاتھا وہ شہریوں پر بمباری بند اور مذاکرات دوبارہ شروع کرے۔ولادیمیر زیلنسکی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا یہ ضروری ہے کم از کم لوگوں پر بمباری بند کی جائے۔زیلنسکی نے ٹوئٹر پر مغربی رہنماؤں کی حمایت پرانکا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا آج پہلے سے کہیں زیادہ، ہمارے لیے یہ محسوس کرنا ضروری ہے کہ ہم اکیلے نہیں۔ادھر یوکرین کا کہنا ہے روسی کیساتھ جنگ میں اب تک 5700 روسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ کیف میں ٹی وی ٹاورپرروسی حملے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے۔ یوکرین میں مہاجرین کا بحران سنگین ہوتا جارہا ہے، اقوام متحدہ کے مطا بق اب تک چھ لاکھ ساٹھ ہزار شہری ملک سے باہر جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے 1.7ارب ڈالر انسانی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔روس یوکرین جنگ سے عام شہری شدید متاثر ہیں ور جان بچانے کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ اب تک 6 لاکھ 60 ہزار افراد یوکرین سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ پناہ گزینوں میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ہمسایہ ملک پولینڈ میں داخلے کیلئے لوگوں کو 60 گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ رومانیہ کی سرحد پر پناہ گزینوں کی 20 کلومیٹر لمبی قطاریں لگ گئیں۔اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق یوکرین کے اندر 10 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جانے پر مجبور ہوگئے، یوکرینی پناہ گزینوں کی پولینڈ آمد بڑے پیمانے پر جاری ہے، شہری ٹرین اور سڑک کے ذریعہ سرحد عبور کر رہے ہیں۔پولش وزیر خارجہ کے مطابق وارسا اب تک تقریباً4 لاکھ پناہ گزینوں کو جگہ دے چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے مہاجرین کی امداد کے لئے مزید امداد کا مطالبہ کردیا ہے، اقوا م متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور اور ایمر جنسی ریلیف کے نمائندہ خصوصی مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لئے ایک اعشاریہ سات ارب ڈالر درکار ہیں۔ادھر عالمی عدالت نے روس کے  یوکرین پر حملے کے حوالے سے ماسکو کیخلاف جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کر دیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے کہاہے کہ روس یوکرین میں جنگی جرائم کا ارتکاب کررہاہے۔ جبکہ عالمی عدالت نے روس کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کردی ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساقی نے بریفنگ کے دوران میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ یوکرین میں روس کے جنگی جرائم کی تحقیقات کرائی جائے۔ روس کے صدر پوٹن نے فرانسیسی ہم منصب کو بتایا تھا کہ روس یوکرین میں سویلین ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنائیگا۔روس نے یوکرائن کے سب سے بڑے شہر خیرسون پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ان کے فوجیوں نے یوکرائن کے جنوبی شہر خرسون پر قبضہ کرلیا ہے۔گزشتہ شب شہر میں روسی فوج دیکھے گئے تھے اور شہر کے میئر نے بھی تصدیق کی تھی کہ خرسون کے ریلوے اسٹیشن اور بندرگاہ روسی قبضے میں ہیں۔مزید یہ کہ یوکرین نے روس کے خلاف لڑنے کیلئے یوکرین آنیوالے جنگجوؤں پر سے ویزا پابندی ختم کردی۔خیال رہیکہ یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے غیر ملکی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے بنائی گئی رضاکاروں کی 'انٹرنیشنل بریگیڈ' میں شمولیت اختیار کرلیں۔یوکرین میں مرکزی ٹی وی کی عمارت پر روس کے میزائل حملے میں 5 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کو بھاری جانی و سامان حرب  کے نقصانات کے دعویٰ سامنے آئے ہیں جس میں روس کا کہنا ہے کہ  اب تک یوکرین کی 1325 فوجی تنصیبات تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ یوکرائنی حکام کا دعویٰ ہے کہ روسی فوج کے 29 لڑاکا طیارے‘29 جنگی ہیلی کاپٹرز مار گرائے‘198 ٹینک، 846 بکتر بند، 77 توپیں اور 2 جنگی بحری جہاز بھی تباہ کیے جا چکے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی فوج نے یوکرین کے دارالحکومت کیف میں مرکزی ٹی وی کے ٹاور پر میزائل حملہ کیا جس میں 5 افراد ہلاک ہو گئے۔روسی وزارت دفاع کے مطابق اب تک یوکرین کی 1325 فوجی تنصیبات تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ یوکرین نے جنگ میں اب تک 5710 روسی فوجیوں کی ہلاکت کا اور 200 فوجیوں کو جنگی قیدی بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روسی فوج کے 29 لڑاکا طیارے اور 29 جنگی ہیلی کاپٹرز مار گرائے جا چکے ہیں جبکہ 198 ٹینک، 846 بکتر بند، 77 توپیں اور 2 جنگی بحری جہاز بھی تباہ کیے جا چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 6 لاکھ 80 ہزار افراد یوکرین سے نکل چکے ہیں۔

فائربندی 

مزید :

صفحہ اول -