48گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد پیش کر دینگے: فضل الرحمن، پیپلز پارٹی کا مارچ پنجاب میں داخل، عمران خان لندن بھاگنے والے ہیں: بلاول 

    48گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد پیش کر دینگے: فضل الرحمن، پیپلز پارٹی کا ...

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے اگلے 48 گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی، نمبرز پورے ہیں،اپوزیشن جماعتیں حکومت کے اتحادیوں پر انحصار نہیں کر رہی ہیں، اتحادیوں کے بغیر بھی نمبرز پورے ہیں،اسٹیبلشمنٹ کا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں،ن لیگ، پیپلزپارٹی کا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ ہے یا نہیں، میرے علم میں نہیں ہے،تمام اپوزیشن جماعتوں کا مو جو دہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن  نے کہا اسٹیبلشمنٹ سے کسی نے انفرادی طور پر رابطہ کیا تو ادارے نے اس کا نوٹس لیا۔تمام اپوزیشن جماعتوں کا مو جو د ہ حکومت کو گرانے پر اتفاق ہے۔ حکومت گرانے کے بعد نئی حکومت کے قیام سے متعلق ابھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ جب وہ مرحلہ آئے گا تو اس پر بھی فیصلہ کر لیا جائیگا۔ ہمارا فوکس ہے کہ خزاں جائے، بہار آئے یا نہ آئے، ہم عدم اعتماد سے پہلے کسی داخلی تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتے،اگلے 48 گھنٹوں میں تحریک عدم اعتماد لائی جائیگی۔اپوزیشن جماعتیں حکومت کی اتحادیوں پر انحصار نہیں کر رہی  ہیں۔ہمارا انحصار انفرادی شخصیات پر ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس تحریک کی کامیابی کیلئے نمبرز پورے ہیں۔ ایمپائر بظاہر نیوٹرل نظر آ رہے ہیں۔ہم نے ایمپائر سے کوئی سپورٹ نہیں لینی۔ہم نے ایمپائر سے حکومت کی سپورٹ ختم کرانا تھی۔اب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر اعتماد کر رہی ہیں۔کیونکہ اب اپوزیشن جماعتوں کی ضرورت کامن ہو گئی ہے۔عدم اعتماد کی تحریک کی سو فیصد کامیابی کا یقین ہے۔حکومتی اتحادیوں سے بھی اپوزیشن جماعتیں رابطے میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا اگلے دو سے تین دن بہت اہم ہیں، تحریک عدم اعتماد اور اجلاس کی ریکوزیشن دونوں پر غور ہورہا ہے، ہماری لیگل ٹیم رابطے میں ہے، سارے امور کو دیکھا جارہا ہے، اپوزیشن کی لیڈرشپ اس وقت مسلسل رابطے میں ہے،دوسری طرف مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء شاہد خاقان عباسی نے پارٹی قائد نواز شریف کی ہدایت پر مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی، جس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا جبکہ باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو اور وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر مشاو رت کی گئی، تحریک عدم اعتماد کیلئے نمبرز گیم کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پی ڈی ایم کے دونوں رہنماؤں کا تحریک عدم اعتماد کیلئے نمبر گیم پر اطمینان کا اظہار کیا۔تحریک عدم اعتماد کے ٹائم فریم پر بھی مشاورت کی گئی۔ دریں اثنامتحدہ اپوزیشن کی 9 رکنی کمیٹی نے حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتما د لانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا نمبر گیم پورے ہیں جلد از جلد تحریک عدم اعتماد لائی جائے۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ سردار ایاز صادق، سعد رفیق، رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن کمیٹی میں (ن) لیگ کی نمائندگی کی جبکہ یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور نوید قمر نے پیپلزپارٹی کی نمائندگی کی، کامران مرتضی، مولانا اسعد محمود، اکرم درانی نے جے یو آئی کی نمائندگی کی۔کمیٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں جماعتوں نے حکومتی اراکین کیساتھ ہونیوالی پیشرفت کمیٹی کے سامنے رکھی اور کہا کہ کمیٹی نے تحریک عدم اعتماد کے لئے حکمت عملی اور نمبر گیم پر کام کیا ہے۔ذرائع کے مطابق کمیٹی ارکان کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحادیوں کے بغیر باآسانی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوسکے گی۔متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کیخلاف ممکنہ تحریک عدم اعتما د جمع کرانے کی تیاریوں اور نمبر گیمز پورے ہونے کے بارے میں مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیراعظم میاں نوازرشریف کو آگاہ کر دیا گیا۔ آئندہ دو سے تین روز کے اندرتحریک عد م اعتماد باضابطہ طورپر جمع کرائے جانے کاامکان ہے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سر دار ایاز صادق، رانا ثناء اللہ اور خواجہ سعد رفیق نے سابق وزیر اعظم نوازشریف اور پارٹی صدر شہبازشریف کو متحدہ اپوزیشن کی نو ر کنی کمیٹی کے اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے جس میں تحریک انصاف کے ارکا ن قومی اسمبلی سے ہونیوالے رابطوں کی تفصیلات شامل ہیں۔دریں اثناء سابق وزیر اعظم نوازشریف سے مسلم لیگ (ن)کی سینیٹر نزہت عامر اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن سابق وزیر احمد رضا قاردی نے بھی ملاقاتیں کی ہیں جن میں ملکی صورتحال اور مسلم لیگ (ن)کی آئندہ الیکشن کی حکمت عملی طر بات چیت کی گئی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے شہباز شریف اور آصف زرداری سے رابطے کئے جس کے بعد آصف زرداری اسلام آباد پہنچ گئے،شہباز شریف آج جمعرات کو آئیں گے۔

مولانا فضل الرحمن

 گھوٹکی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی نظام کو ختم کرنا ہوگا۔ملک پر کٹھ پتلی حکومت مسلط، الٹی گنتی شروع ہوچکی، جیالوں کا لشکر اسلام آباد پہنچ کر ان سے حساب لے گا۔گھوٹکی میں عوامی لانگ مارچ سے خطاب میں پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہم پنجاب میں داخل ہورہے ہیں، اب تو دما دم مست قلندر ہوگا، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لانے کا وقت آگیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کو نظر آئے گا، کون عوام کے ساتھ اور کون سلیکٹڈ چور کے ساتھ کھڑا ہے، جمہوری اور انسانی حقوق پر ڈاکہ مارنے والے کو جانا ہوگا،  بلاول بھٹو زرداری نے کہا  عمران خان کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، وہ کرسی چھوڑنے کے بعد لندن بھاگنے والے ہیں،حکومت ووٹوں سے بنے تو وہ دکھ درد کا احساس بھی کرتے ہیں، ایمپائر کی انگلی سے حکومت بنے تو اسے عوام کی پروا نہیں ہوسکتی، تبدیلی لانے والے نے تبدیلی کے نام پر بحران پیدا کیا،جیالوں کا لشکر اسلام آباد پہنچے گا، پنجاب میں داخل ہونے کے بعد دمادم مست قلندر ہوگا، عدم اعتماد ہمارا جمہوری ہتھیار ہے جسے ہم استعمال کریں گے، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد لے کر آئیں گے، جو شخص کرسی پر بیٹھا ہے اس کا مستقبل نہیں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہاں کی عوام نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا، میں نے یہاں کی بات کی تھی کہ عمران خان کو سندھ سے ایک ووٹ نہیں ملے گا، اور پھر انہیں اسی ضلع سے پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، برے وقت کے دوستوں کو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا، میں بھی گھوٹکی کی عوام کو کبھی نہیں بھلا سکتا، تمام صوبوں کے عوام اس وقت تکلیف میں ہیں، ہر شخص کی زندگی مشکل بنادی گئی ہے، تبدیلی کا نعرہ تباہی کی صورت میں سامنے آیا ہے، یہ نیا پاکستان نہیں مہنگا پاکستان ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت ووٹوں سے بنے تو وہ دکھ درد کا احساس بھی کرتے ہیں، ایمپائر کی انگلی سے حکومت بنے تو اسے عوام کی پروا نہیں ہوسکتی، تبدیلی لانے والے نے تبدیلی کے نام پر بحران پیدا کیا، کٹھ پتلی عوام کی طرف نہیں ایمپائر کی طرف دیکھتا ہے، عمران خان نے ہر آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے، ہمارے معاشی و عوامی حقوق، جمہوریت اور ووٹ پر ڈاکا مارا ہے، نوجوان ڈگریاں لے کر دھکے کھا رہے ہیں لیکن روزگار نہیں مل رہا، عمران خان نے حکومت پر تنقید کرنا میڈیا کا کام ہے، یہ کون ہوتے ہیں جو میڈیا کو کہیں مجھ پر تنقید نہ کریں، ہر طبقہ آج تکلیف میں ہے، مایوسی ہی مایوسی ہے، عوام نے غلط شخص سے امیدیں باندھ لی تھیں، محنت کے باوجود ہاری کو اس کا پھل نہیں ملتا، زرعی ملک کا کسان بھوکا سوئے تو اس ملک کی معیشت کا کیا حال ہوگا۔ہم آج بھی نوجوانوں کو روزگار اور مزدوروں کو ان کی محنت کا صلہ دلوا سکتے ہیں، ہمیں اس سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی نظام کو ختم کرنا ہوگا، حقوق ملتے نہیں چھیننا پڑتا ہے، پیٹرول اور بجلی قیمت میں کمی ان کی ڈرامہ باری ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں پہنچان نہیں سکتے، لیکن یہ ان کی بھول ہے، حکومت سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے، اب عمران خان کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے، جیالوں کا لشکر اسلام آباد پہنچے گا، پنجاب میں داخل ہونے کے بعد دمادم مست قلندر ہوگا، ہم پر امن اور جمہوری لوگ ہیں، عدم اعتماد ہمارا جمہوری ہتھیار ہے، جسے ہم استعمال کریں گے، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد لے کر آئیں گے، جو شخص کرسی پر بیٹھا ہے اس کا مستقبل نہیں ہے، عمران خان نے کرسی چھوڑنے کے بعد باہر لندن بھاگنا ہے۔

بلاول بھٹو

مزید :

صفحہ اول -