الحمد اسلامک یونیورسٹی میں طاہرہ اقبال کے ناول”گراں“ کی تقریب پذیرائی 

الحمد اسلامک یونیورسٹی میں طاہرہ اقبال کے ناول”گراں“ کی تقریب پذیرائی 

  

ڈاکٹر محمد اشرف کمال

گزشتہ دنوں الحمد اسلامک یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے ایوارڈ یافتہ ناول’]گراں“کے حوالے سے الحمد یونیورسٹی میں ایک تقریب پذیرائی کا انعقاد کیا۔ جس کی مجلس صدارت میں ڈاکٹر انوار احمد اور ڈاکٹر اصغر ندیم سید شامل تھے۔ جب کہ مہمانان خصوصی میں معروف فکشن رائٹر جناب محمد حفیظ خان اور جناب حمید شاہد شامل  تھے۔مہمانان اعزاز میں ڈاکٹر خالد سنجرانی اور اشرف کمال کے نام تھے۔ نظامت سنبھالتے ہوئے ڈاکٹر شیر علی نے اس تقریب کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ طاہرہ اقبال اس دور کی ایک اہم ناول نگار خاتون ہیں جنھوں نے اپنی دھرتی اور مٹی کے ساتھ ساتھ ثقافت کو بھی اپنے ناولوں میں ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ ان کے ناول ”گراں“کو ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔

نازیہ پروین نے کہا کہ پنجابی کی دھرتی اور ماں بولی کی بات ہو تو جو دو نام اس پہ واری واری جاتے نظر آتے ہیں وہ دو نام  امرتا پریتم اور طاہرہ کے اقبال کے نام ہیں۔ انھوں نے پنجاب کی مٹی سے وفاداری کا فرض نبھایا ہے۔ گراں میں پنجاب کی دھرتی کے ساتھ ساتھ پوٹوھاری ثقافتی بیانیے بھی موجود ہے۔ اس میں تارکین وطن کی بیرون ملک ناروا سلوک اور تذلیل کو بھی بیان کیا گیا ہے ۔

ڈاکٹر اشرف کمال نے کہا کہ اس ناول میں طاہرہ منفرد اسلوب اپنایا ہے۔ انھوں نے جگہ جگہ اردو زبان میں پنجابی کی آمیزش کی ہے جس کی وجہ سے ناول میں ایک نیا رویہ سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اس ناول میں لفظوں سے منظرا ور پیکر تراشے ہیں۔خوبصورت الفاظ میں منظر کشی کی۔عورت، تخلیق،اور کہانی ایک مثلث کے تین زاویے ہیں۔ 

ڈاکٹر خالد سنجرانی نے کہا کہ ناول اور افسانہ پڑھنے کا ڈھب جو ہم نے انوار صاحب اور اصغر ندیم سید سے سیکھا تھا وہ ہماری بڑی قیمتی متاع ہے۔اس میں جو سجی ہوئی عورت اور گھر میں بیٹھی ہوئی عورت کے درمیان جو فرق وہ انھوں نے جس طرح پیش کیا وہ اہمیت کا حامل ہے۔ ایک تخلیق کار کا یہ بڑا اعتماد ہوتا ہے کہ وہ اس لحن کو اس لہجے کو اپنی تخلیق کا حصہ بنائے کہ جو گمنامی میں ہے جو پہاڑوں کے اندر چھپے ہوئے ہیں جو روپوش ہیں یا جنھیں ہم عوامی حوالے کہہ سکتے ہیں۔

جناب محمد حفیظ خان  نے کہا طاہرہ اقبال نے بغیر کسی نمودو نمائش کے بڑی خاموشی سے کام کیا۔ ان کے اندر جو کردار موجود ہے وہ تمام کرداروں سے اوپر بیٹھا ہوا کردار ہے۔ بہت سارے کردار ناول نگار کے اندر موجود ہوتے ہیں انھوں نے جو کردار اپنے لیے چنا ہے وہ بڑا حلیم ہے۔ جس طریقے سے انھوں نے اپنے لوکیل کو پاکستانی فکشن کا حصہ بنایا ہے وہ ہم سب کے لیے فخر کا باعث ہے۔ یہ ایک بڑا ناول ہے میری خواہش ہے کہ اس کو دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہونا چاہئے۔

جناب حمید شاہد نے کہا کہ یہ اردو کی خدمت ہے کہ انھوں نے مقامی زبانوں سے ایسے الفاظ کو اپنا حصہ بنایا ہے جو کہ پہلے اردو کا حصہ نہیں تھے۔انھوں نے پوٹوہار کے ایک گاؤں کو سامنے رکھ کر ناول لکھا۔ یہ میں صرف لوکیل اور زبان ہی اہم نہیں بلکہ جو کہانی انھوں نے پیش کی ہے وہ بھی اہم ہے کہ جو ایک علاقے کا کلچر تھا اسے سامنے رکھیے اور اسے پورے برصغیر پہ لیجائے پھر بھی یہ کہانی اپنے معنی دے رہی ہوگی۔ انھوں نے اس ناول کے کرداروں اور کہانی کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا۔

ڈاکٹر طاہرہ اقبال نے کہا مجھے خوشی ہے کہ اتنی بڑی بڑی شخصیات نے اس ناول کو پڑھا اور اس کے حوالے سے بات کی۔ میں کہوں گی کہ ہر کتاب کی ایک قسمت ہوتی ہے اور وہ اپنی قسمت لے جاتی ہے میں نے تو اپنے آباء اجداد کی کہانی لکھی تھی۔میں نے  بچپن میں اپنے آباء اجداد کو دیکھا اور ان کے بارے مین لکھنا چاہتی تھی۔ کتاب کے لیے ایوارڈ تو ایک طرف رہ گیا یہ بات بڑی اہم ہے کہ فکش کے اتنے بڑے نقادوں نے اس پر بات کی ہے۔اس ناول کے حوالے سے مجھے اس وقت بڑی خوشی ہوئی جب انڈیا سے ایک نقاد نے اس کے کردار خزان سنگھ کے بارے میں بتایا کہ وہ میرے دادا تھے جو اس گاؤں میں رہتے تھے۔

جناب ڈاکٹر اصغر ندیم سید نے کہا کہ میں اسے ہندوستانی سماج کے بڑے ناولوں میں شمار کرتا ہوں سب نے ثقافتی جڑوں کی بازیافت کی ہے۔ کافی مماثلتیں ہیں جو ہندوستان کے ناولوں سے اس ناول تک پہنچی ہیں۔ ہم نے اب تک یوپی کا سماج دیکھا تھا بمبے کا سماج دیکھاتھا پنجاب کا سماج دیکھا تھا ان ناولوں میں کم وبیش غریب طبقے کی وہ عکاسی موجود ہے جو ہمارے ہاں طاہرہ اقبال کے ناول میں موجود ہے۔اس میں ایک بہت بڑی ذہنی فکری اور روحانی تبدیلی ہے اگر اسے ہم سمجھ پائیں تو ناول ”گراں“ کو گراں مایہ سمجھ سکتے ہیں۔ یہ کاملا ردو ناول میں طاہرہ اقبال نے کیا ہے وہ جب نیریٹ کرتی ہیں ایک منظر کو پہلو کو پنگھٹ کو تو وہ صرف کپڑے نہیں دھوئے جارہے اس کی نظر آسمان تک، موسم تک جو تبدیل ہونا وہاں تک بھی چلی جاتی ہے۔یہ دو زبانوں میں لکھا ہوا ناول ہے۔

ڈاکٹر انوار احمد نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا  طاہرہ اور شیر علی کی وجہ سے ہمیں احساس ہورہا ہے کہ ہم گرائیں ہیں ایک گراں کے لوگ ہین۔ ہم جس طرح اس معاشرت کو محسوس کر رہے ہیں جسے تخلیق کار نے لکھا۔اس میں ایک کسک موجود ہے تقسیم ہند کے حوالے سے جو کردار وہ چاہے گراں کے چند گھر تھے جو تقسیم کی وجہ سے گئے ان کا نقصان پورا نہیں ہوا۔ اور باغی کردار بھی اہم ہیں۔آخر میں ڈاکٹر شیر علی نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔  

مزید :

ایڈیشن 1 -