رٹا لگانے کے بجائے کتابیں سوچ سمجھ کر پڑھیں 

رٹا لگانے کے بجائے کتابیں سوچ سمجھ کر پڑھیں 

  

محمد الیاس (موٹیویشنل سپیکر) 

 ہْنر دینا منع ہے 

رٹا مارنے اور زیادہ نمبر لینے والوں کا حال یہ بھی ہو سکتا ہے تو اپنے بچوں کو یہ بات ذہن نشین کروا دیں کہ رٹا لگانے کی بجائے کتابیں سمجھ کر پڑھا کریں کہ نوکری ملنا آسان ہو اور اس کے ساتھ ساتھ  تعلیم کا عملی زندگی میں بھی کچھ فائدہ ہو۔

پچھلے ماہ اسلام آباد جاتے ہوئے گاڑی میں دو لڑکوں سے ملاقات ہوئی جو آپس میں گفتگو میں مگن تھے جن سے تعارف چلتے چلتے سوال جواب شروع ہو گئے-  اپنا شعبہ بتانے کی دیر تھی تو انہوں نے مجھے بھی کچھ دیر سوچنے پر مجبور کر دیا جنہوں نے چھ سال قبل میٹرک میں ٹاپ کیا تھا اور پورے شہر اور مضافات میں ان ہونہار طلبا کا چرچا تھا، بڑے بڑے پینا فلیکس پر ان کی ادارے کے نام کے ساتھ تصاویر لگی تھیں، بڑے کالجز کی طرف سے فری ایجوکیشن کی پیش کش ہوئی اور انہوں نے من پسند کالجز کا انتخاب کر کے اس میں داخلہ بھی لیا، اگلے چار سالوں میں کامیابی کا تناسب بھی قدرے بہتر رہا، گریڈ میں استحکام رہا تب ان کو یوں لگا جیسے دنیا فتح کر لیں گے، ان کے گریڈ ان کی کامیابی کی دلیل اور گارنٹی ہیں۔ 

ان کی میٹرک کی سند ان کی اعلی ملازمت پر قبولیت کی سند ہے لیکن نتائج اس کے برعکس رہے، وہ جس بڑے ادارے میں انٹرویو دینے گئے بہت کم نمبروں سے ٹیسٹ پاس ہوسکے، تحریری ٹیسٹ پاس کر بھی لیے تو انٹرویو میں رہ گئے، پینل کے سوالات ان کے سر سے گزر گئے، اسناد میں اے پلس گریڈ دھرے کے دھرے رہ گئے، ریک میں رکھی ٹرافی ان کے کسی کام نہ آئی،  اور میں خاموشی سے دونوں کو سن رہا تھا، دونوں کے چہروں پر مایوسی اور انجانا سا عدم تحفظ تھا، میری طرف دیکھتے ہوئے ایک جملہ بولا "سر تعلیی نظام نے بہت ظلم کیا ہے ہم پر" میں نے مسکرا کر کہا: بیروزگاری تو ہمارا بہت پرانا مسئلہ ہے شہزادے، میرٹ نہیں دیکھا جاتا۔

نہیں دوسرا تڑپ کر بولا، ہمیں بیروزگاری نے نہیں، ہماری ڈگریوں نے مارا ہے، ہمیں وہ کچھ سکھایا ہی نہیں گیا جو اگلے دس سال ہمارے کام آتا، میں ایک بار پھر غور سے سننے لگا، آج ان کے بولنے کی باری تھی، ہمیں اعتماد نہیں سکھایا گیا، انگریزی میں پورے نمبر دے کر انگریزی بولنا نہیں سکھایا گیا، میتھ میں سو بٹہ سو لینے والے اپنی ہی زمین کا رقبہ نہیں نکال سکتے، اردو میں پورے نمبر لے کر بھی……، میرٹ ہمارے قدموں کی دھول ہے لیکن نالج ہمارے پاس صفر ہے، آپ نے نمبروں کی مشینیں بنائی ہیں مگر علم نہیں، آواز اس کے گلے میں رندھ گئی۔ 

میرے پاس کوئی جواب نہ تھا، میرے ابو کے زمانے میں ڈاکٹری کا میرٹ %78 فیصد تھا، اب % 91 پر بھی پاکستان کے سب سے تھکے ہوئے کالج میں  بھی داخلہ نہیں ملتا، اn کے چہرے پر  تھکن ہی تھکن تھی، لگتا تھا نوکریاں ہمارے قدموں میں گریں گی، آج جس کمپنی میں جاتے ہیں وہاں پورے نمبر لینے والے سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن ٹیسٹ اور انٹرویو میں سب رہ جاتے ہیں، کہاں گئے وہ نمبر؟ وہ اپنا کتھارسس کر رہے تھے یا سوال؟ میرے پاس کوئی جواب نہ تھا، ہم نمبروں کی مشینیں ہی تو بنا رہے ہیں، میرے نظروں میں کوویڈ میں میٹرک اور ایف ایس سی میں پورے نمبر لینے والے گیارہ سو ستانوے طلبا گھوم گئے، چار سال بعد اْن کے سوالات اِن سے بھی تلخ ہوں گے، گیارہ سو طلبا اپنے ٹیچر کو فون کر کے کہیں گے "آپ سے بات کرنی ہے" اور جواب  میں وہی خاموشی، طویل خاموشی ملے گی……

یہ آج کے دور کا ہمارا تعلیمی معیار ہمیں ڈگریوں اور نمبروں تک ہی محدود رکھتا ہے جبکہ ہمارا ہنر جس سے ہماری زندگی کا ایک گہرا تعلق ہے بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔

 دور کا ہمارا تعلیمی معیار ہمیں ڈگریوں اور نمبروں تک ہی محدود رکھتا ہے 

ہمارا ہنر جس سے ہماری زندگی کا ایک گہرا تعلق ہے بالکل نہ ہونے کے برابر ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -