مہنگائی پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

مہنگائی پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

  

پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے بعد بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کی حکمت عملی بھی اختیار کی جانی چاہیے۔قیمتوں میں اس کمی کا فائدہ اگر عام آدمی تک نہیں پہنچتا تو اس کمی سے عام آدمی کی زندگی آسان نہیں ہو سکتی۔ہمارے ہاں یہ روایت موجود ہے کہ پٹرول اور بجلی کی قیمت بڑھتی ہے تو دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھا دی جاتی ہیں،ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، باربرداری کے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے،فیکٹری مالکان اس اضافے کو اپنی لاگت میں شامل کر کے مارکیٹ میں اشیاء فراہم کرتے ہیں،مگر جب کی قیمت کم ہوتی ہے تو بڑھی ہوئی قیمتیں اُس تناسب سے کم نہیں کی جاتیں۔حتیٰ کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی ایک بار بڑھ جائیں تو کم نہیں ہوتے، جس سے عام آدمی کو صرف اتنا ہی ریلیف ملتا ہے کہ اُسے  فی لٹر پٹرول سستا ملنے لگتا ہے،لیکن مہنگائی کم نہیں ہوتی۔وزیراعظم عمران خان جب چودھری برادران سے ملنے اُن کے گھر گئے تو ذرائع کے مطابق جہاں چودھری پرویز الٰہی نے وزیراعظم کی طرف سے تیل اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کو  سراہا، وہاں یہ مشورہ بھی دیا کہ وزراء کی ڈیوٹی لگائی جائے کہ وہ مہنگائی کو کم کرنے کے لیے نگرانی کریں اور بڑھی ہوئی اشیاء کی قیمتیں نیچے لانے کے لیے انتظامیہ کو مجبور کریں۔ ہمارے نزدیک یہ کام وزراء کا نہیں،بلکہ ضلعی انتظامیہ کا ہے۔15فروری کو جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 12روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا تو اندرون شہر اور شہروں کے درمیان چلنے والی ٹرانسپورٹ کے کرائے 15سے20فیصد تک بڑھا دیئے گئے۔اس کی کسی مجاز اتھارٹی سے اجازت لی گئی اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ نے ٹرانسپورٹروں کو ایسے من مانی کرنے سے روکا،اب جبکہ بجٹ تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں استحکام آ گیا ہے تو ضرورت اِس بات کی ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کا ازسر نو تعین کیا جائے اور اس حوالے سے عوام کو جتنا ریلیف دیا جا سکتا ہے اُسے یقینی بنایا جائے۔موجودہ حکومت کے ساڑھے تین برسوں میں یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ  مہنگائی نے زیادہ عوام کی زندگی اجیرن کی ہے۔ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ایک دن کسی شے کی قیمت ایک ہو اور اگلے دن بڑھ جائے۔ایسا موجودہ حکومت کے دور میں ایک عمومی وتیرہ بن گیا ہے۔ وزیراعظم درجنوں بار صوبائی حکومتوں کو یہ ہدایات جاری کر چکے ہیں کہ وہ مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں۔انہوں نے اپنی کئی تقریروں میں بھی اس کی ضرورت پر زور دیا۔صوبائی حکومتیں جن کے پاس انتظامیہ اور پولیس کا کنٹرول ہوتا ہے اس حکم پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار اس حوالے سے انتظامیہ کو اَن گنت احکامات جاری کر چکے ہیں،مگر مہنگائی کا سلسلہ رُک نہیں سکا۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ انتظامیہ چھوٹے چھوٹے دکانداروں پر چھاپے مارتی ہے اور انہیں جرمانے بھی کئے جاتے ہیں، لیکن تھوک مارکیٹوں میں جہاں سے اشیاء کی ترسیل ہوتی ہے، جاتے ہوئے اُس کے پَر جلتے ہیں۔ عوام نے جہاں وزیراعظم کے اس فیصلے کو سراہا ہے جس میں انہوں نے تیل اور بجلی کی مد میں معاشی ریلیف دیا ہے،وہاں یہ مطالبہ بھی ہو رہا ہے کہ حکومت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں کمی لانے کے بھی اقدامات کیے جائیں۔تمام اضلاع میں مارکیٹ کمیٹیاں قائم ہیں،جو  ڈپٹی کمشنر کی زیر نگرانی کام کرتی ہیں عموماً دیکھا گیا ہے کہ مارکیٹ کمیٹی روزانہ اشیائے ضروریہ کے نرخ تو جاری کر دیتی ہے، مگر اُس پر عمل کرانے کے لئے کوئی طریقہ اختیار نہیں کیا جاتا،جس کی وجہ سے اِن مارکیٹ کمیٹیوں کی افادیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اشیاء کے جو سرکاری نرخ مقرر کئے جائیں، بازار میں اُن کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے ہر ضلع میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ موجود ہوتے ہیں، جن کا کام ہی یہ ہے کہ مصنوعی مہنگائی کو روکیں۔لیکن اُن کی عدم فعالیت برقرار رہتی ہے۔ڈپٹی کمشنروں اور کمشنروں کی طرف سے درجنوں کے حساب سے شوکاز نوٹس بھی جاری ہوتے ہیں،مگر اُن کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی۔واقفانِ حال یہ بھی کہتے ہیں کہ جب سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا عہدہ ختم ہوا ہے اور ضلعی سطح پر انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات علیحدہ ہوئے ہیں،انتظامیہ کی گرفت کمزور پڑ گئی ہے،جس کے باعث اُن کا ایسے امور پر زیادہ کنٹرول نہیں رہا۔اربابِ اختیار کو اس پہلو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں کام کرنے والے  خود سر خود کو اتنا بااختیار نہ سمجھنے لگیں کہ انہیں قانون کی کوئی پروا ہی نہ رہے۔پاکستان میں سیاست کا پہیہ مہنگائی کے گرد گھومتا ہے۔اِس وقت بھی حکومت کے خلاف اپوزیشن کے پاس سب سے بڑا ایشو مہنگائی کا ہے۔وزیراعظم نے بھی اسی ایشو کے اثرات کو کم کرنے کے لیے تیل اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی ہے،مگر ظاہر ہے یہ سب کافی نہیں،جب تک عوام کو اس کمی کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء اسی تناسب سے سستی نہیں ملتیں،اُن کے لیے یہ کمی اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہو گی۔ اس سلسلے میں حکومتوں کو ایک موثر نظام بنانے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے احساس پروگرام کے ذریعے فی خاندان دو ہزار روپے کا ریلیف دیا ہے۔ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے،لیکن مہنگائی اتنی تیزی سے بڑھی ہے کہ محدود آمدنی والوں کے لیے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ ایسے اعداد و شمار جمع کروا رہے ہیں،جن سے اندازہ ہو سکے ملک میں اشیائے خورد و نوش کی کھپت اور پیداوار کتنی ہے تاکہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر نظر رکھی جا سکے۔شاید اس حوالے سے ابھی کوئی موثر کام نہیں ہوا۔محکمہ شماریات ہر ہفتے ایک رپورٹ جاری کر کے بری الذمہ ہو جاتا ہے کہ کن اشیاء کی قیمتوں میں کس تناسب سے اضافہ ہوا۔ابھی تک تو مہنگائی کا گراف ہمیشہ اوپر ہی گیا ہے،جبکہ عوام کی آمدنی میں اُس تناسب سے اضافہ نہیں ہوتا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کچھ اضافہ کر کے اُن کی اشک شوئی کی گئی تاہم لاکھوں پنشنرز حکومت کی طرف اب بھی امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ حکومت کی اصل کامیابی یہ ہو گی کہ وہ تیل اور بجلی کی مدات میں دیئے جانے والے ریلیف کے اثرات و دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لا کر عوام تک منتقل کرے۔یہ کام مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں،بس اس کے لیے گورننس کو بہترکرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -