کپتان خود میدان میں! 

کپتان خود میدان میں! 
کپتان خود میدان میں! 

  

وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی۔ وہ روس کے دورے سے واپسی کے بعد لاہور  آئے تھے اور ان کا مقصد حلیف جماعتوں کو اعتماد میں لینا تھا۔ موجودہ سیاسی محاذ آرائی کی صورت حال میں ان کا یوں باہر نکل کر ملاقاتیں شروع کرنا ان کے مزاج کے مطابق ہے کہ کرکٹ کے میدان میں بھی وہ آخری گیند تک مقابلے کے قائل تھے۔ یہ سیاست ہے۔ اس میں انہوں نے اپنا مزاج برقرار رکھا۔ ان کی گردن تنی رہی اور وہ اپنی فیلڈ میں رہ کر دوسروں سے بات کرنا بھی گوارہ نہ کرتے تھے۔ اب بھی اپوزیشن کے حوالے سے ان کا مزاج وہی ہے، کوئی مانے یا نہ مانے لانگ مارچ اور عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے اپوزیشن رہنماؤں کی سرگرمیوں نے حالات میں تبدیلی تو پیدا کی اور خود کپتان کو میدان میں اترنا پڑا کہ اب تک ان کے کھلاڑی (وزرا+ ترجمان) بیانات کے ذریعے باؤنسر مارتے چلے آ رہے ہیں۔ اور کسی نے بلاک ہول میں گیند نہیں کرائے کہ مخالف ٹیم گھبرا کر آؤٹ ہوتی۔ وہ خود اسی لئے سامنے آئے اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ابتدا چودھریوں سے کی کہ ان کی پوزیشن سید برادران (بادشاہ گروں) جیسی ہو چکی ہے کہ کل تک یہی کہا جاتا تھا کہ ان کی دی گئی بیساکھیاں ہٹ جائیں تو حکومت گر جائے گی کوئی وزیر با تدبیر تو یہ ہمت نہ کر سکا۔ سوائے چیئرمین سینٹ کہ چودھریوں  سے رابطہ کرتا۔ جبکہ آصف علی زرداری نے راستہ کھولا تو میاں محمد شہباز شریف بھی چلے آئے اور یوں یہ گھر ایک مرکزی حیثیت اختیار کرتا چلا گیا۔ ماضی میں یہ گھر حزب اختلاف کا بہت بڑا مرکز تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک کے دوران چودھری ظہور الٰہی اصرار کے ساتھ تو ستاروں کی میٹنگ اپنے گھر بلاتے اور سب شوق سے آتے تھے چودھری ظہور الٰہی اتنے بہتر میزبان تھے کہ میٹنگ کے اختتام پر جب کھانے کا وقفہ ہوتا تو ہم رپورٹر حضرات مختلف راہنماؤں سے کارروائی کے بارے میں سوال کرتے۔ لیکن چودھری ظہور الٰہی (مرحوم) آکر کہتے ”او منڈیو، چھڈو گلاں پہلے روٹی کھا لو فیر سوال پچھدے رہنا“ اور یہ روٹی بہت پر تکلف کھانا ہوتا مختلف انواع کی خوراک شکم سیر والوں اور پرہیز کرنے والوں کے لئے بھی موجود ہوتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ دوپہر کی ایک میٹنگ ختم ہونے کے بعد جب سوال ہوا کہ اگلی میٹنگ کہاں ہو گی تو ہمارے مولانا شاہ احمد نورانی جھٹ بولے: یہیں چودھری ہاؤس میں اور کہاں وجہ یہ تھی کہ اس گھر میں ماحول اور گنجائش بہت تھی۔ ان دنوں یہ گھر پھر سے مرکز نگاہ ہے اور چودھری شجاعت مرکزی کردار ہیں جبکہ سیاست چودھری پرویز الٰہی کر رہے ہیں۔ بات تو وزیر اعظم کی آمد کے حوالے سے تھی۔ آج کے ماحول کے مطابق ماضی اور حال میں یہ فرق آیا کہ پہلے ملاقات یا میٹنگ کے بعد باقاعدہ پریس کانفرنس ہوتی اور ان دنوں اعلامیہ آتا ہے کہ سوال جواب سے بچت ہو اور یہ الگ بات ہے کہ سیاسی حضرات اپنے مطلب کی خبر اندرونی کہانی کے عنوان سے پیش کر دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں مجھے ایک دلچسپ ٹکر نے بہت محظوظ کیا، جو اردو زبان کے حوالے سے ایسا بن گیا تھا لکھا گیا سکرین پر آیا۔ ہم عمران خان سے سیاست کریں گے؟ مقصد تھا کہ عمران خان کے ساتھ مل کر سیاست کریں گے لیکن ٹکر سے یہ تاثر ابھرا کہ عمران خان سے سیاست کریں گے مطلب ان کو سیاسی چکر دیں گے۔ تاہم اعلامیہ نے واضح کیا جس کے مطابق اعتماد قائم رکھنے کی بات کی گئی اور کہا گیا کہ وہ چال بے سود ہے جس کی کامیابی کے امکان نہ ہوں۔

وزیر اعظم مطمئن لوٹے، جیسے پہلے والے بھی امید سے واپس آئے تھے اور اب تو کپتان نے فیصلہ کیا کہ وہ دوسرے اتحادیوں سے بھی ملیں گے۔ وہ جہاں بھی جائیں گے نتیجہ یہی ہوگا۔ اگرچہ اس کے باوجود وقت پر حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ بہر حال موجودہ صورت حال میں کپتان کی کوشش درست سمت ہے اور ان کو ابتدا ہی سے ایسا کرنا چاہئے تھا کہ اب تو کوئی مانے یا نہ مانے تاہم تاثر یہی ہے کہ کپتان خطرہ محسوس کر کے ہی ملاقاتوں پر آمادہ ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے حالات کو موافق تر بنانے کے لئے رعائتوں والی حکمت عملی بھی اختیار کی اور عوام کے لئے کئی مراعات کا اعلان کیا۔ لیکن یہ سب لوگوں کو مطمئن نہ کر سکے، معذرت سے عرض کروں گا کہ یہ سلسلہ تو اس ہاتھ دے اور اس ہاتھ لے والا ہو گیا۔ جس روز عمران خان نے تقریر کی پٹرولیم دس روپے لیٹر سستی کیں اور بجلی کی فی یونٹ میں 5 روپے کی کمی کی۔ اسی روز صبح فیول ایڈجسٹمٹ کے نام پر بجلی مہنگی کرنے کا تحفہ دیا گیا۔ محترم عمران خان نے بجٹ تک قیمتیں منجمد رکھنے کا اعلان کیا۔ لیکن اوگرا نے پانی پھیر دیا کہ ایل پی جی مہنگی کر دی گئی اور اب قدرتی گیس کے نرخوں میں اضافہ منظور کر کے گیند واپس حکومتی کورٹ میں پھینک دی ہے۔ وزیر اعظم کو اپنے کہے کے مطابق اس اضافے کو مسترد کرنا ہوگا، ایسی صورت میں گیس کمپنیاں نقصان کا شور مچا کر سبسڈی میں اضافہ مانگیں گی اور یوں خزانے کا بوجھ نئے سال کے بجٹ پر اثر انداز ہوگا۔ حکومت اور عوام کی مشکلات کم نہ ہو سکیں گی کہ آئی ایم ایف کی شرائط تو ماننا ہوں گی۔ یہ مالیاتی ادارہ جو درحقیقت امریکہ کا پریشر گروپ ہے روسی دورے کے زیر اثر ناراضی کا ہی مظاہرہ کرے گا۔ وزیر اعظم نے جو رعائتی پروگرام شروع کیا اسے بہتر قرار دیا جانا چاہئے لیکن عوام پر اثر نہیں ہوا، پٹرول پندرہ روز قبل بارہ روپے فی لیٹر مہنگا کر کے دس روپے کم کیا گیا۔ اب سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ اگر یہی کرنا تھا تو پہلے بارہ روپے کیوں اضافہ کیا دو ڈھائی روپے سے گزارہ کر لیتے لیکن اشیاء ضرورت کے جو نرخ بڑھ چکے وہ واپس نہیں ہوں گے اور نہ ہی حکومتی مشکلات کم ہوں گی کہ اگلے ماہ سے رمضان المبارک شروع ہونے والا ہے۔ ہمارے ”دین دار“ تاجر بھائیوں نے رمضان اور عید بھی تو کمانی ہے۔ آخر وہ بھی تو بنکوں کے توسط سے حاصل کی گئی کاروں کی اقساط دیتے ہیں۔

ان حالات کو دیکھتے ہوئے ماضی ہی کو یاد کرتا ہوں کہ جب مقبول راہنما ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف انتخابی دھاندلی کے نام سے اتحاد بنا کر تحریک کا آغاز کیا گیا تو انہوں نے بھی کوئی پرواہ نہ کی کہ ان کو اپنی مقبولیت کا بہت یقین اور بھروسہ تھا۔ چنانچہ جب چند حلقوں کی دھاندلی کا الزام لگا تو صوبائی اتخابات سے قبل ایک اہم شخصیت نے محترم بھٹوصاحب کو مشورہ دیا کہ وہ اپوزیشن کا مطالبہ فوری طور پر مان لیں اور ضرورت ہو تو نئے انتخابات کرا دیں، فتح ان کی ہو گی، لیکن اس تجویز کی مخالف مشاورت جیت گئی اور جب بھٹو نے ”حوصلہ دکھانے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مراعات اور قومی اتحاد کے مطالبات کی روشنی میں جمعہ کی چھٹی۔ اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کمیٹی بنانے کا اعلان،شراب پر پابندی اور حتیٰ کہ متنازعہ حلقوں میں دوبارہ انتخابات کا اعلان بھی کیا تو یہ سب کام نہ آیا اور پھر 5 جولائی ہو گیا تھا اس لئے جو مکا بعد میں یاد آئے اسے اپنے منہ پر مار لینا چاہئے، کپتان کو ملکی مفاد کے لئے قومی مفاہمت کرنا ہو گی اگر ایسا نہ ہوا تو وہ ہر صورت دباؤ میں رہیں گے اور ملک میں سیاسی استحکام بھی نہ ہوگا۔ میری تو دلی خواہش قومی مصالحت اور جمہوریت کے پھلنے پھولنے کی ہے۔ سب کو اپنا کردار اس کے مطابق ادا کرنا ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -