پولیس کو کیسا ہونا چاہیے؟

پولیس کو کیسا ہونا چاہیے؟
پولیس کو کیسا ہونا چاہیے؟

  

پولیس کو بنیادی طور پر عوام کا خادم ہونا چاہیے،شہریوں اور حکومت کو پولیس سے جو توقعات ہیں ان پر پوار اترا جائے تو کوئی شک نہیں پنجاب پولیس پاکستان کی بہترین پولیس ثابت نہ ہو۔اگر دیکھا جائے تو پولیس کے جوان اتنی محنت کرتے ہیں سردیوں میں ٹھنڈی راتوں کوگرمیوں میں جھلسا دینے والی گرمی میں امن و امان اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھے ہوئے ہوتے ہیں،جرائم کی بیخ کنی،بڑے بڑے ملزمان کو پکڑ رہے ہیں اندھے قتل کے مقدمات کو ٹریس کر رہے ہوتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود جو عزت اور مقام انھیں ملنا چاہیے وہ نہیں مل رہا کیا یہ ”پنجاب پولیس“کیلئے لمحہ فکریہ نہیں ہے،آج بھی لوگ پولیس سٹیشن جاتے ہوئے کیوں گھبراتے ہیں افسران بالا کو چاہیے کہ وہ خود کو اس قابل بنائیں کہ پنجاب بالخصوص لاہورکے اندر تھانہ کلچر میں موثر انداز میں تبدیلی لائیں جو بھی شہری اپنی دادرسی کیلئے تھانے کے اندر آئے پولیس اہلکار اس کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آئیں،اس  حوالے سے  بے شک آپ کو حلف لینا پڑے لیکن یہ کام ضرور کیا جانا چاہیے جس کا مقصد آپ کو یہ باور کروایا جانا چاہیے کہ اگر آپ خود کوان لوگوں کی جگہ رکھ کر آپ سوچیں اگرآپ کی بیٹی یا بیٹے کا کوئی مسئلہ ہو آپ کے گھر ڈکیتی یا چوری ہو جائے خدانخواستہ آپ کے گھر کوئی قتل یا ریپ ہو جائے یا اس طرح کا کوئی اور واقعہ رونما ہو جائے تو آپ کیا محسوس کریں گے کہ آپ تھانے میں جائیں آپ کے ساتھ ایس ایچ او کا رویہ کیسا ہونا چاہیے،تھانے کے دروازے پر جو سنتری کھڑا ہے اس کوکیسے پیش آنا چاہئے اگر آپ 15پر کال کریں تووہ آپ سے کس لہجے میں بات کرے رات کو اگر آپ کو ناکہ پر روکا جائے تو اس پولیس آفیسر یا کانسٹیبل کا رویہ آپ کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے،کیا آپ یہ محسوس نہیں کریں گے کہ ناکہ پر روکنے والا کانسٹیبل آپ کو سلیوٹ کرے اور عزت اور اخلاق سے پیش آئے کیونکہ آپ کو اس چیز کو یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کی تنخواہوں سمیت جتنی بھی سہولیات ہیں عوام کے ٹیکسوں سے ادا کی جاتی ہیں، بحیثیت انسپکٹر جنرل آف پولیس،سی سی پی او،آرپی او جب سے آپ تعینات ہوئے ہیں جتنی آپ نے عوام کے لئے کاوشیں کی ہیں، جو حکومت نے آپ کے اوپر ذمہ داریاں ڈالی تھیں اوروزیر اعظم نے جو خواب دیکھا تھا اس کے مطابق آپ نے پوری جفاکشی کے ساتھ فرائض منصبی اد ا کئے جو عوام کی آپ سے امیدیں تھیں یوں تو آئی جی پولیس،سی سی پی او اور آرپی اوتک بہت کوشش کی جاتی ہے کہ کرپشن نہ کی جائے، عوام کے معیار پر پورا اتریں، منشیات و قبضہ گروپ،شوٹرزسمیت تمام مافیاز اور قانون شکن عناصرکو کٹہرے میں لایا جائے،کرائم کنٹرول کیا جائے،پھر میر اآپ سے وہی سوال ہے پولیس کوجو پیار محبت ملنی چاہیے تھی کیوں نہیں ملی، جو معاشرے میں ان کامقام ہونا چاہیے تھا کیوں نہیں ہے،اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہمارا اخلاق اور تعلقات اپنے لوگوں کے ساتھ کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں، اگر کسی شہری کو پولیس سٹیشن آنا پڑ جائے تو وہ کیوں گھبراتا ہے یہ سب میں نے آپ کو روزانہ پیش آنے والے واقعات بتانے کی کوشش کی یہ وہ سارے مسائل ہیں اگر آپ منفی چیزوں کو چھوڑ کر مثبت چیزوں کی طرف جائیں گے تو ہم ناصرف پنجاب بالخصوص لاہور پولیس بلکہ دنیا کی بہترین پولیس فورس ثابت ہوں گے،ہمیں اس بات کا عہد کرنا ہو گاکہ سپاہی سے لے کر آئی جی پولیس تک تھانہ کلچر میں تبدیلی کیلئے کام کریں گے، جو بری روایات پڑچکی ہیں اس کا قلع قمع کریں گے جو بھی شہری تھانے میں آئے یا اس کوناکے پر روکا جائے یا اس کا ٹریفک پولیس والوں کے ساتھ کوئی معاملہ ہو کسی نے ریڈ زون جانا ہو ان کو کسی قسم کی بھی مدد کی ضرور ت ہو جہاں پرعوام کا پولیس کے ساتھ سامنا ہو جوشہریوں اورگورنمنٹ کو آپ سے توقعات ہیں ان پر پوار اترا جائے تو کوئی شک نہیں کہ پنجاب پولیس پاکستان کی بہترین پولیس ثابت نہ ہو۔

مزید :

رائے -کالم -