خواتین کی بہتری اولین ترجیح، 2ماہ میں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے: کشمالہ طارق

خواتین کی بہتری اولین ترجیح، 2ماہ میں انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے: ...

  

     اسلام آباد (آن لائن)وفاقی محتسب برائے تحفظ ہراسانی کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ ہمارے ادارے کا مقصد مختلف سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں میں خواتین کو بغیر کسی عدم تحفظ کے کام کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے، پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر دونوں اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تین افراد پر مشتمل انسداد ہراسانی کمیٹیاں تشکیل دیں جن میں کم از کم ایک خاتون شامل ہونی چاہیے۔ شکایت کے لئے وقت کی معیاد مختص نہیں ہے دس سال پرانا کیس بھی دائر کیا جا سکتا ہے  جبکہ ہراسمنٹ کے متعلق آن لائن شکایات کا سلسلہ جاری ہے اور دو ماہ کے اندر کیسز کو نمٹا دیا جاتا ہے،خواتین کی بہتری کیلئے مل کر کام کرنا ہماری اولین ترجیح ہے انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد، لاہور پشاور اور کراچی میں چار دفاتر کھولے ہیں ساٹھ دن کے اندر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔پرائیویٹ اداروں کو تحفظ کی یقین اور آگاہی مہم کی ضرورت وفاقی محتسب برائے تحفظ ہراسانی میں  فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد نے دورہ کیا جس میں دو طرفہ تعاون پر اظہار خیال کیا گیا ہے اس موقع پر وفاقی محتسب برائے تحفظ ہراسانی اور  فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری  کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے مطابق  ہراسگی کے واقعات کو  روکنے کیلئے شعور اجاگر کیا جائے گا جبکہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے تحت رجسٹرڈ تمام کمپنیوں کی ویب سائٹس پر وفاقی محتسب برائے ہراسمنٹ کے قواعد و ضوابط اور ہراسگی کے متعلق پیغامات کی تشہیر کی جائے گی۔

کشمالہ طارق

مزید :

صفحہ آخر -