قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کا اجلاس 20منٹ میں ختم ،چاروں بل مو خر 

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کا اجلاس 20منٹ میں ختم ،چاروں ...
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کا اجلاس 20منٹ میں ختم ،چاروں بل مو خر 

  

اسلام آباد  (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کا اجلاس 20منٹ میں ختم قانون سازی کرنیوالے اراکین اجلاس میں شریک نہ ہوسکے چاروں بل مو خر کردیئے گئے وزارت قانون وانصاف کے حکام نے کمیٹی اجلاس کو بتایا وزارت قانون و انصاف نے پشاور ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کی سمری وزیراعظم آفس کو ارسال کردی، سیکرٹری قانون نے قومی اسمبلی کی لا اینڈ جسٹس کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری صدارتی آرڈرز کے ذریعے کی جاتی ہے اس کیلئے آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں۔

چیئرمین ریاض فتیانہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قانون و انصاف کمیٹی اجلاس میں رکن اسمبلی محسن داورڑ کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کیلئے پیش کردہ ترمیمی بل پر سیکرٹری قانون نے آگاہ کیا کہ وزارت قانون و انصاف نے پشاور ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد 20 سے بڑھا کر 30 کرنے کی سمری وزیراعظم آفس کو ارسال کردی ہے۔ وزارت قانون نے ججز کی تعداد بڑھانے کیلئے پشاور ہائی کورٹ و وفاقی وزرات خزانہ سے بھی منظوری لے لی ہے، سیکرٹری قانون نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ہائی کورٹس میں ججز کی تقرری صدارتی آرڈرز کے ذریعے کی جاتی ہے اس کیلئے آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں۔محسن داورڑ نے کہا کہ اگر وزارت قانون نے کرنا یوتا تو چار سال میں کرچکے ہوتے۔کمیٹی میری پیش کردہ بل کو منظور کرے۔ 

کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ اگر وزارت قانون نے سمری ارسال کی ہے تو ہم آئندہ اجلاس تک بل کو موخر کرتے ہیں اگراس دوران سمری منظور ہوجاتی ہے تو ٹھیک ورنہ ہم بل پر غور کریں گے۔محسن داورڑ نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ پر اس وقت کیسز کا دباو ہے۔ فاٹا کے انضمام کے بعدپشاور ہائی کورٹ پر مقدمات کا بوجھ بڑھ چکا ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔رکن قومی اسمبلی علی گوہر کی جانب سے ایڈیٹرل جنرل آف پاکستان کی تقرری کی طریقہ کار کے بارے میں اپنا بل کمیٹی اجلاس میں پیش کیا ہے چیئرمین قائمہ کمیٹی ریاض فتیانہ کی جانب سے جب اس بارے میں اراکین کمیٹی کو کہا گیا کہ وہ اپنا اس پر اظہار خیال کریں تو بل کے محرک علی گوہر نے کہا کہ اس بل کوفلحال مو¿خر کردیا جائے کیونکہ میری پارٹی کاکہناہے کہ اس پر مزید غوروفکر کی ضرورت ہے۔

 رکن قومی اسمبلی غلام دستگیر خان اور عبدالقادر پٹیل کی اجلاس میں غیر حاضری کیوجہ سے بل کو مو  خر کردیا گیا اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی ریاض فتیانہ کا کہناتھا کہ اجلاس دس منٹ تاخیر سے شروع ہوا اور بیس منٹ میں اجلاس کی کارروائی ختم ہوگئی رکن کمیٹی شنیلہ رت نے کہا کہ بعض اراکین قانون سازی کی شوق میں غیرسنجیدہ پیش کررہے ہیں اس کی روک تھام ہونی چاہیئے جس پر چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ سپیکر کی سربراہی میں ایک فنکشنل کمیٹی کام کررہی ہے لیکن عرصے سے اس کاکوئی اجلاس نہیں ہوا ملکی حالیہ سیاست کیوجہ سے سپیکر اسمبلی سے درخواست کرونگا کہ حالات جو بھی ہوایسے مشروم بلوں کی روک تھام کی جائے تاکہ سنجیدہ قانون سازی ہوسکے ۔ 

مزید :

قومی -