عدلیہ اور آزادی اظہار کی خونی لکیر 

عدلیہ اور آزادی اظہار کی خونی لکیر 
 عدلیہ اور آزادی اظہار کی خونی لکیر 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 کیا کبھی ہوا کہ کسی ملک میں یکایک شورش بپا ہو اور سربراہ مملکت سب کچھ چھوڑ کر محاذ کی طرف دوڑ پڑا ہو۔ جی صرف ایک بار ہوا۔ آزادی اظہار کچلنے کی خاطر جنگ یمامہ میں ایسے ہی ہواتھا۔ مسلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کی خبر پہنچی نہیں کہ نادیدہ ہیجان نے مدینے کو لپیٹ لیا۔ خلیفہ ابوبکرؓ کے بے ربط الفاظ کا مفہوم یوں تھا: ”کوئی شخص یہاں نہ رہے، میرے رہنے کی صورت یہی ہے کہ درندے آ کر میری تکا بوٹی کر ڈالیں۔ علی کرم اللہ وجہہ نے انہیں خلیفہ والی ذمہ داری یاد دلا کر روک لیا ورنہ وہ یمامہ کو دوڑ رہے تھے۔ حضرت عمرؓ کے بھائی زیدؓ جنگ میں شریک مجاہدین سے یوں مخاطب ہوئے: ”لوگو! اب میں تبھی بات کروں گا جب ان سب کو مار ڈالوں گا یا یہ کہ میں شہید ہو جاو_¿ں". 13 سالہ مدنی معرکوں میں 259 صحابہ شہید ہوئے۔ سالانہ 20 عمومی شہادتیں اوسطاً لیکن “حق آزادی اظہار“ کچلتے ہوئے اس ایک معرکے میں 1200 صحابہ شہید ہوئے تھے۔

آج فیل بے زنجیر آزادی یقینا مغربی ممالک میں ملتی ہے۔ آزادی اظہار کے نام پر وہاں کسی سربراہ مملکت، پیر پیغمبر، یا مقدس کتاب پر ہر کوئی ہرزہ سرائی کر سکتا ہے، لیکن اسی آزادی اظہار کے سہارے چند پروفیسروں نے جنگ عظیم دوم سے قبل کی یہودی آبادی سامنے رکھی اور گیس چیمبر کی گنجائش دیکھ کر ثابت کیا کہ نازی جرمنی میں 60لاکھ یہودیوں کا قتل عام صرف مبالغہ ہے کہ تب تو یورپ میں اتنے یہودی تھے ہی نہیں۔ گیس چیمبر پوری گنجائش پر بھی اتنے افراد نہیں مار سکتے، وغیرہ وغیرہ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس تحقیق کا تجزیہ ہوتا۔ لیکن ہوا یہ کہ برطانوی مورخ ڈیوڈ ارونگ کو اس تحقیق کی پاداش میں 3 سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ (گارڈین 20 فروری 2006ئ) ادھر جرمن اپیل کورٹ نے 93 سالہ ضعیف خاتون مورخ ارسلا کی اپیل خارج کرتے ہوئے انہیں سال کے لیے جیل بھیج دیا۔ جرم یہ تھا کہ اس نے جرمن اشوٹز کیمپ میں 11 لاکھ یہودی کے قتل عام سے علمی انکار کیا تھا۔

اسلامی ریاست میں بدھ، قادیانی، مسیحی سبھی رہ سکتے ہیں۔ قاضی فائز عیسی کی من پسند آیت ”دین میں کوئی جبر نہیں“یقینا یہاں کارآمد ہے، لیکن آرٹیکل 20 کی ادھوری عبارت اور ”دین میں کوئی جبر نہیں“ والی اس آیت کے سہارے وہ ایک ایسا غیر محتاط فیصلہ لکھ بیٹھے ہیں جس نے ان کی قدآور شخصیت کو گہنا کر رکھ دیا۔ جج حضرات آئین اور قانون میں خوب علم و مہارت رکھ کر بھی اٹارنی جنرل کو بلاتے ہیں، عدالتی معاون مقرر کرتے ہیں، وکلاءسے پوچھتے ہیں، بار کونسل وکلا کو بلاتے ہیں۔ اس سب کے بعد وہ گاہے فیصلہ محفوظ کر لیتے ہیں کہ کوئی کچا پن رہ گیا ہو تو سوچ بچار کے بعد دور ہو جائے، لیکن قرآنی آیت یاد آنے کی دیر ہوتی ہے، مفسر بن کر وہ از خود تشریح کر گزرتے ہیں، افسوس ہے۔ جس کا کام اسی کو ساجھے!

ہر ملک اور ہر مذہب نے کچھ رہنما اصول بنائے ہوتے ہیں، کچھ اصول لچکدار ہوتے ہیں جن کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ خلیف المسلمین سیدنا علی المرتضیؓ کے سامنے خارجیوں کا ایک گروہ لایا گیا۔ وہ انہیں گالیاں دے رہے تھے۔ایک تو قتل کی دھمکی دے رہا تھا۔ امتناعی نظر بندی کا اختیار روز اول سے موجود رہا ہے۔ خلیفہ سے بھی یہی کہا گیا کہ انہیں گرفتار کر لیا جائے، جواب ملا:”جب تک یہ لوگ جرم نہ کریں، انہیں کیوں پکڑا جائے“لچکدار اصولوں کی یہ ایک مثال ہے کہ جاو_¿، تمہیں آزادی ہے،جو جی میں آئے کرو، گالیاں دو، دھمکیاں دو، دیتے رہو، لیکن کچھ اصول ریڈ لائن کہلاتے ہیں۔ یہ وہ خونی لکیر ہوتی ہے، جس کے قریب بھٹکنے والے کو معاف نہیں کیا جاتا۔یہاں آزادی اظہار نامی آزادی اورخونی لکیر میں بعد المشرقین ہوتا ہے۔ انہی حضرت علیؓ کے اسی مدینہ میں خبر پہنچی کہ مسلمہ کذاب نے (آرٹیکل 20کی ادھوری عبارت لے کر) آزادی اظہار کے سہارے نبوت کا دعوی کر دیا ہے. اب کون سی ریاست؟ کیسا خلیفہ؟ کس کا گھر؟ کیسا خاندان؟ پاو_¿ں میں جوتی نہیں تو رخ یمامہ کی طرف، کسی کا کوئی بستر مرگ پر ہے تو اپنا رخ یمامہ کی طرف۔ وجہ؟ وجہ یہ تھی کہ قرآن میں ایک آیت اور بھی ہے: ”دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے“ یہ دین (اسلام ) مسلمانوں کی ریڈ لائن ہے، یہی خونی لکیر ہے، حق و باطل کے مابین یہی وہ لکیر ہے جسے کھینچنے کو 1200 اصحابؓ رسول نے متبرک جسم کٹوا دیئے تھے۔

چند دیگر قوموں کی صرف ایک خونی لکیر ملاحظہ ہو: لگ بھگ دو درجن مغربی ممالک میں جنگ عظیم دوم میں یہودی قتل عام (holocaust) کے خلاف بولنا جرم ہے. یعنی اگر کوئی یہ کہے کہ ہٹلر نے 60 لاکھ یہودی قتل نہیں کیے تو اسے قید کر دیا جاتا ہے۔ آسٹریا میں اس انکار پر 10 سال، سلوویکیا میں 6 ماہ تا 3 سال، رومانیہ میں 6 ماہ تا 5 سال, پولینڈ میں جرمانے کے ساتھ 3 سال، لکسمبرگ میں 8 دن تا 6 ماہ، اٹلی میں 2 تا 6 سال ، اسرائیل میں پانچ سال، ہنگری میں 3 سال, جرمنی میں 3 ماہ تا 5 سال سزا ہے۔ فرانس میں اس جرم کی مختلف شکلوں کی مختلف سزائیں ہیں۔ کینیڈا میں 2 سال تک، اور بلغاریہ میں ایک سال تک کی سزا ہے۔ اندازہ کرلیں کہ آزادی اظہار کے مبلغ ان مغربی ممالک میں علمی مشق کے دِل پسند نتائج نہ نکلیں تو محقق کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ ہوش مندوں کے لیے یہ قانون کسی سرسامی ذہنی کیفیت کا نتیجہ ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارے تصورات، اسے خونی لکیر کہنے والوں سے مختلف ہیں۔ تو کیا لازم ہے کہ آرٹیکل 20 میں جو لکیر ہم نے کھینچ رکھی ہے، عدالتی کام چھوڑ کر اسی کا رخ کیا جائے؟

ملک کو امن درکار ہے۔ چیف جسٹس نے کسی ذہنی ارتکاز کے بغیر رواروی میں ایک شاہانہ فیصلہ لکھ دیا ہے۔نتائج سے اب وہ بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں۔ ان سے جو کام کسی بدنیتی کے بغیر ہوا، اسے ہوا دے کر اچھالنے والوں کا لب و لہجہ سن کر لرزہ طاری ہو جاتا ہے، تاہم فیصلے پر نظر ثانی باقی ہے۔ سپریم کورٹ نے کئی اداروں اور افراد سے رہنمائی کرنے کو کہا ہے۔ سماعت کے موقع پر علما سے امید ہے کہ وہ اس غیر محتاط فیصلے کو احتیاط کا چولا پہنا دیں گے اور خلاص۔ ملک کو امن درکار ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کی نیت پر شبہ کرنے کی کوئی وجہ مجھے تو نہیں ملی۔ الفاظ کی سخاوت البتہ انہیں قدم قدم پر سبق دیتی ہے لیکن وہ ہیں کہ کفایت شعاری کی طرف جاتے ہی نہیں۔ ایک ویڈیو ملی جس میں ان کے سامنے کھڑے تو وکیل ہیں۔ لیکن پہلے ایک دو منٹ ہی میں اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کسی سکول ماسٹر اور نکمے طلباءکی کلاس چل رہی ہے۔ اگے تیرے بھاگ لچھیے۔

مزید :

رائے -کالم -