عمر ایوب کی قومی اسمبلی میں حکومت کیخلاف لفظی گولہ باری جاری تھی مگر اسد قیصر،( ن) لیگی ر ہنماسے بات چیت میں مصروف نظر آئے

عمر ایوب کی قومی اسمبلی میں حکومت کیخلاف لفظی گولہ باری جاری تھی مگر اسد ...
عمر ایوب کی قومی اسمبلی میں حکومت کیخلاف لفظی گولہ باری جاری تھی مگر اسد قیصر،( ن) لیگی ر ہنماسے بات چیت میں مصروف نظر آئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کا انتخاب ہارنے کے بعد عمر ایوب قومی اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے مگر اس دوران ان کے ساتھی رکن اسد قیصر ، (ن) لیگی رکن حنیف عباسی سے گفتگو کرتے پائے گئے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار عمر ایوب کو وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کے بعد تقریر کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے (ن) لیگی حکومت کو پی ڈی ایم حکومت کا تسلسل اور وزیراعظم کا انتخاب غیر قانونی قرار دیا، لفظی گولہ باری کرتے ہوئے عمر ایوب نے شہباز حکومت کو فاشسٹ حکومت بھی کہا۔ اس دوران (ن) لیگی رہنما عطاء تارڑ کی پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی تو حنیف عباسی نے لیگی رہنما کو پیچھے کر دیا۔

اسی دوران اسد قیصر اور حنیف عباسی آپس میں گفتگو کرنے لگے جس کے بعد حنیف عباسی نے لیگی رہنماؤں کو پیچھے بھیج دیا اور خطاب میں مصروف عمر ایوب کی نسشت کے سامنے (ن) لیگی رہنماؤں نے احتجاج ختم کر دیا اور اپنی نشستوں پر واپس چلے گئے۔ اس کے بعد پی ٹی آئی رہنما بھی اپنی نشستوں پر جا کر بیٹھ گئے۔

مزید :

قومی -