”کم عمری“ میں برانچ منیجر کی کرسی پر بیٹھنے پر یار لوگ مجھے پیار سے ”پپّو منیجر“ کہتے، لوگ اُدھیڑ عمر کے لوگوں کو اس حیثیت میں دیکھنے کے عادی ہو چکے تھے

”کم عمری“ میں برانچ منیجر کی کرسی پر بیٹھنے پر یار لوگ مجھے پیار سے ”پپّو ...
”کم عمری“ میں برانچ منیجر کی کرسی پر بیٹھنے پر یار لوگ مجھے پیار سے ”پپّو منیجر“ کہتے، لوگ اُدھیڑ عمر کے لوگوں کو اس حیثیت میں دیکھنے کے عادی ہو چکے تھے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:199
 اور پپّو منیجر بن گیا 
یہ 1973ء کی آخری سہ ماہی کی بات ہے جب جعفری کے کراچی تبادلے کے احکامات آگئے۔ جعفری خوش تھا کہ وہ اپنی فیملی میں واپس جا رہا تھا اور ہم کسی حد تک غمگین تھے، وہ اپنی ذات کی حد تک جیسا بھی تھا لیکن اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کا رویہ بڑا ہی دوستانہ ہوتا تھا۔ یار باش شخص تھا اکثر بینک کے عملے کو جیب سے کچھ نہ کچھ منگوا کر کھلاتا رہتا۔ یاد نہیں پڑتا کہ اس نے کبھی کسی کو سنجیدگی سے جھاڑپلائی ہو یا مالی نقصان پہنچایا ہو۔ اس کو ایک شاندار الوداعی دعوت دے کر بہت عزت و احترام سے رخصت کیا گیا۔
جعفری کے جانے کے فوراً بعد مجھے حکم ملا کہ میں برانچ کا مکمل چارج سنبھال لوں اور یوں میری ترقی برانچ منیجر کی حیثیت سے ہو گئی۔ میری اس”کم عمری“ میں اتنی بڑی برانچ میں منیجر کی کرسی پر بیٹھنے پر یار لوگ مجھے پیار سے ”پپّو منیجر“ کہتے تھے کیونکہ ان دنوں لوگ ہمیشہ اُدھیڑ یا بڑی عمر کے لوگوں کو اس حیثیت میں دیکھنے کے عادی ہو چکے تھے۔
میں نے کامیابی سے برانچ کو 6 مہینے تک چلایا، میرے ساتھ آرمی کی یونٹوں نے بھی بڑا تعاون کیا اور کئی بڑے بڑے اکاؤ نٹ میرے بینک میں کھلے جس سے میری اعلیٰ انتظامیہ بہت مطمئن اور خوش تھی اور انھوں نے خطوط کے ذریعے میری مجموعی کارکردگی کو سراہا اور مجھے خصوصی ترقیاں بھی دی گئیں۔ اِسی دوران میں نے ہمت کی اور کچھ وقت نکال کر انتہائی بہادری اور جرأت سے اعلیٰ بینکنگ کے مطلوبہ امتحانات بھی پاس کر لیے۔
ابھی یہ سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ مری میں میری تعیناتی کی مدت مکمل ہو گئی اور مجھے بھی معمول کے مطابق اپنے تبادلے کا پروانہ مل گیا۔ ان تبادلوں کی ہمیں اس قدر عادت ہو گئی تھی کہ ذرا بھی تاخیر ہو جاتی تو ہم حیرت اور پریشانی میں مبتلا ہو جاتے، آنکھوں پر ہاتھ رکھے دور دور تک اپنے متبادل کی راہ دیکھتے رہتے تھے۔ بینک کی انتظامیہ ایک حد سے زیادہ اپنے آفیسروں کو کسی ایک جگہ نہ رہنے دیتی تھی کہ مبادا وہاں کے مقامی لوگوں کے ان آفیسروں کے ذاتی تعلقات بن جائیں اور وہ دوستی میں حد سے گزر کر کوئی غیر قانونی کام نہ کر بیٹھیں۔اور واقعی ہی دانستگی یا نادانستگی ایسا ہو بھی جاتا تھا۔
مری میں جو مستقل منیجر تعینات ہوا اس کو دسمبر میں آنا تھا لیکن وہ جان بوجھ کر حیلے بہانوں سے کچھ تاخیری حربے استعمال کر رہا تھا۔ اس کے پاس بچوں کی تعلیم اور امتحانات کا بہانہ تھا، ورنہ حقیقت یہ تھی کہ وہ سردیوں کا شدید ترین موسم گزار کر آنا چاہتا تھا۔ پھر ایک دن وہ آ ہی گیا، اور ایک دو دن ہوٹل میں قیام کیا، اس دوران میں اپنا سامان سمیٹتارہا اور وہ بینک کا چارج لینے میں مصروف رہا۔ اور پھر مارچ کی ایک خنک مگر شاندار صبح کو میں مری کو خدا حافظ کہہ کر اپنی نئی برانچ کے لیے روانہ ہو گیا۔
تلاش منزل کے مرحلوں میں 
نئی برانچ جو مجھے سونپی گئی تھی وہ اٹک آئل کمپنی کھوڑ کی تھی۔ یہ ایک بالکل چھوٹا سا گاؤں نما قصبہ تھا جس میں صرف ایک بازار تھا اور قریب ہی اٹک آئل کمپنی کے دفاتر اور ان کے ملازمین کی رہائشی کالونی تھی۔ ایک طرف انتہائی دیہاتی ماحول تھا تو دوسری طرف اٹک آئل کمپنی کی جدید سہولتوں سے آراستہ رہائش گاہیں اور ائر کنڈیشنڈدفاتر تھے۔ کالونی میں عملے کے لیے سوئمنگ پول، کلب، سینما، سٹور وغیرہ بھی موجود تھے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -