آسٹریلیا کے بد نام زمانہ آئس ڈیلرز کو مُتنبّع کر دیا گیا کہ اب وقت آگیا کہ اُن سب کو ملک بدر کر دیا جائے۔ امیگریشن منسٹرنے 41 آئس ڈیلرز کے ویزے کینسل کیے

 آسٹریلیا کے بد نام زمانہ آئس ڈیلرز کو مُتنبّع کر دیا گیا کہ اب وقت آگیا کہ ...
 آسٹریلیا کے بد نام زمانہ آئس ڈیلرز کو مُتنبّع کر دیا گیا کہ اب وقت آگیا کہ اُن سب کو ملک بدر کر دیا جائے۔ امیگریشن منسٹرنے 41 آئس ڈیلرز کے ویزے کینسل کیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:63
آسٹریلیا کے منشیات فروش 
آسٹریلیا کے بد نام زمانہ آئس ڈیلرز کو مُتنبّع کر دیا گیا ہے کہ اب وقت آگیا کہ اُن سب کو ملک بدر کر دیا جائے۔ ”ایبٹ گورنمنٹ“ کے آخری فیصلے کے مطابق امیگریشن منسٹر Peter Dutton نے پچھلے ہفتے 41 نامی گرامی اور مجرم آئس ڈیلرز کے ویزے کینسل کیے ہیں۔ ڈیلی ٹیلیگراف کی اطلاع کے مطابق4 کو تو ملک بدر کر دیا گیا جبکہ باقی اپنی اپنی جیل کی معیاد پوری ہونے پر یا ڈی ٹینشن سینٹر سے اپنی اپنی ملک بدری کے مُنتظر ہیں۔ سابقہ Bikie Boss Colin Picard جو ابھی جیل میں ہے۔ جُونہی قید پوری کرتا ہے اُسے نیوزی لینڈ بھیج دیا جائے گا۔ اِسی طرح ایک بد نام زمانہ مُنشیات فروش Mc Culloh کو انگلینڈ بھیج دیا جائے گا جُونہی وہ اپنی جیل ٹرم پُوری کرتا ہے۔
باقی آئس ڈیلرزکو اپنے اپنے ملک میں واپس ڈیپورٹ کر دیا جائے گا جن میں اٹلی، بوسنیا، ٹولگا، ویت نام، ملائشیا اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ اُن خطرناک مُنشیات فروشوں کو ٹھکانے لگانے میں، اُن کو تو اِس بات کی پرواہ ہی نہیں ہے کہ وہ کتنی زندگیوں کو برباد کر رہے ہیں۔ آئس ڈیلرز کی سرکوبی مُمکن ہوئی جب کولیشن گورنمنٹ نے مائیگریشن ایکٹ میں ترمیم کر کے Character test Provision رکھوائی۔
ڈیپورٹ کیے گئے میں سے ایک جو پکڑا گیا تھا اُس سے 1.4 kilogram of iceاور 25 کلو گرام حشیش برآمد ہوئی تھی۔ جس کی مالیت 1 ملین ڈالر بنتی ہے۔ ان 41 میں سے 15 ایسے بھی ہیں جو دُوسری ممنوعہ مُنشیات جیسے Cocaine, LSD and Cannabis MDMA, Heroin بیچتے ہیں۔ یہ  منشیات فروشوں کے خلاف جو قدم اُٹھایا گیا وہ نیشنل سیکورٹی Priority کے طور پر تھا۔ 
AMF Bowling in Castle Hills 
اور Stanhop Village میں ڈنر 
بچّوں کو2 ہفتے کی چھٹیاں ہیں۔ اِس لیے اُن کی تفریح کے لیے پروگرام بنتے ہی رہتے ہیں۔ آج ساڑھے بارہ بجے AMF Bowling کے لیے گھر سے چل پڑے۔ یہی کوئی آدھ گھنٹہ میں ہم وہاں پہنچ گئے۔ گاڑی پارک کی اور ہال کے اندر دائیں طرف کاؤنٹر سے بچّوں کے لیے AMF Bowling کے 20آسٹریلین ڈالر کے ٹکٹ لیے اور ساتھ ہی شوز بھی کرایہ پر لینے پڑتے ہیں کہ جگہ سلپری ہوتی ہے۔ پھسلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا ہال ہے۔ یاد رہے کہ صباء عمران اور بچّے بھی وہاں اپنی گاڑی میں پہنچ چکے تھے۔ اِس میں سامنے کی دیوار پر بڑی 11 سکرینز لگی ہوئی ہیں جہاں مختلف قسم کی گیمز اور دوسری ایڈورٹائز منٹس کا ایک لگاتار سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔ وہاں پر سکرین سے 2 عدد Upward Slanting راستے بنائے گئے ہیں۔ اِن کی لمبائی 35-30 فٹ کے قریب ہوگی اور اِس کے اختتام پر ایک سٹینڈ میں بالز جن کی موٹائی سمجھیں درمیانے درجے کے تربوز کے برابر ہوگی اور اِن کے رنگ سبز، سُرخ، سلیٹی، ہلکا سبز، نارنجی، سلیٹی، ہلکا سرخ وغیرہ اور یہاں سے اُوپر 22 عدد سارے ہال میں Display سکرینز لگی ہوئی ہیں جس میں گیم میں حصّہ لینے والوں کا نام آجاتا ہے اور پہلے راؤنڈ میں 10 دفعہ بال پھینکنا ہوتا ہے۔ اِس طرح چھ Contestants اِس میں بیک وقت حصّہ لیتے ہیں۔ بال پھینکا جاتا ہے وہ نیچے لڑھکتے لڑھکتے آگے آخر میں لگی بوتلز سے ٹکراتا ہے وہ جتنی بھی بوتل کو Dismantle کر ے اُس حساب سے Display سکرین پر (10) میں سے حاصل کردہ نمبر درج ہوجاتے ہیں۔ چھے بچّے باری باری دس دفعہ بال پھینکتے ہیں اور نمبر درج ہوتے جاتے ہیں۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اول نمبر کون ہے دوئم کون اور آگے نمبر کن کن کا ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -