ایتھوپیا پہنچتے ہی انسان 7 سال پیچھے کیوں چلا جاتا ہے؟ دلچسپ حقائق جانیے

ایتھوپیا پہنچتے ہی انسان 7 سال پیچھے کیوں چلا جاتا ہے؟ دلچسپ حقائق جانیے
ایتھوپیا پہنچتے ہی انسان 7 سال پیچھے کیوں چلا جاتا ہے؟ دلچسپ حقائق جانیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ادیس ابابا (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایتھوپیا اپنے دلچسپ قدرتی عجائبات، نایاب جنگلی حیات اور دلکش تاریخ کے باعث گھومنے پھرنے اور چھٹیاں گزارنے کی ایک زبردست جگہ ہے، لیکن اگر آپ وہاں جاتے ہیں تو یاد رکھیں، آپ وقت میں سات سال پیچھے چلے جائیں گے۔

ایتھوپیا میں قلعوں سے لے کر صحراؤں اور نایاب جنگلی حیات تک ہر چیز موجود ہے۔

ایتھوپیا کے سب سے دلچسپ پہلوؤں میں سے ایک اس کا منفرد کیلنڈر سسٹم ہے، جہاں 12 مہینوں والے مغربی گریگورین کیلنڈر کے بجائے 13 ماہ پر مشتمل ایتھوپین کیلنڈر استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ملک ہمیشہ باقی دنیا سے سات سال پیچھے رہتا ہے۔

ایتھوپیا کے باشندوں نے 11 ستمبر 2007 کو نئے ہزاریہ یعنی سال 2000 کا خیرمقدم کیا تھا۔یہ منفرد کیلنڈر ایتھوپیا کے بھرپور ثقافتی اور مذہبی ورثے سے گہرا جڑا ہوا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ 13 ماہ کا یہ نظام قدیم قبطی کیلنڈر سے شروع ہوا ہے، جو مذہبی تہواروں کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ایتھوپیا کے کیلنڈر میں 13 واں مہینہ ”پیگوم“ شامل ہے، جو پانچ دنوں پر مشتمل ہے اور لیپ سال میں یہ چھ دنوں کا ہوتا ہے۔

یہ اضافی مہینہ مذہبی تہواروں، فصلوں کی کٹائی کی تقریبات اور ثقافتی تقریبات سے وابستہ ہے، جو ایتھوپیا کے طرز زندگی میں ایک مخصوص تال میل پیدا کرتا ہے۔یہ کیلنڈر ملک کے زرعی موسموں سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔

اگرچہ کیلنڈر میں یہ تضاد مسافروں کے لیے اہم چیلنجز کا باعث نہیں بنتا، لیکن یہ ایتھوپیا کے ثقافتی منظر نامے کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

زیادہ تر ایتھوپین لوگ اب گریگورین کیلنڈر سے واقف ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں۔

تیرہ مہینوں کا یہ کیلنڈر ٹائم کیپنگ پر ایک منفرد نقطہ نظر پیش کرتا ہے جو اس کی قدیم جڑوں اور ثقافتی شناخت کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ قدیم ترین انسانوں کی سرزمین بھی ہے۔

ایتھوپیا کے افار علاقے میں مختلف آثار قدیمہ کی دریافتیں اس بات کی مضبوطی سے نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ وہ جگہ ہو سکتی ہے جہاں سے انسانی ابتداء کا ثبوت ہوسکتا ہے۔

1974 میں، اس خطے میں لوسی کی دریافت ہوئی تھی جو کہ 3.2 ملین سال پرانا انسانی ڈھانچہ ہے، جسے اب تک کا سب سے قدیم انسانی ڈھانچہ قرار دیا گیا ہے۔

ایتھوپیا میں غالب مذہب آرتھوڈوکس عیسائیت ہے، جس کی پیروی تقریباً نصف آبادی کرتی ہے۔ اس عقیدے کے پیروکار سال میں تقریباً 200 سے 250 دن روزہ رکھتے ہیں۔

ایتھوپیا کا روزہ روایتی تصور سے مختلف ہے، جس میں انڈے، گوشت اور دودھ سمیت تمام جانوروں کی مصنوعات سے پرہیز کرنا شامل ہے۔

یہ روزے مذہبی تعطیلات کے دوران رکھے جاتے ہیں جو کہ ایتھوپیا میں بے شمار ہیں، اس کے ساتھ سال بھر میں ہر بدھ اور جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے۔ نتیجتاً، ریستورانوں میں عام طور پر آپ کو سبزیوں پر مشتمل کھانے ہی ملیں گے۔