ایران پر حملہ ابتدا ہے، اب بڑی کارروائی کرنے جا رہے ہیں:صدر ٹرمپ

    ایران پر حملہ ابتدا ہے، اب بڑی کارروائی کرنے جا رہے ہیں:صدر ٹرمپ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                                                             واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ موجودہ فوجی کارروائی ایران کے خلاف صرف ابتدا ہے، بڑی لہر ابھی آنا باقی ہے، حملے میں ایران کے 49رہنما مارے گئے ہیں۔غیرملکی میڈیاکے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے ابھی انہیں سختی سے نہیں مارا، بڑی لہر ابھی باقی ہے، بڑا حملہ جلد ہوگا۔جنگ کی مدت سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ یہ زیادہ دیر تک جاری رہے، میں سمجھ رہا تھا کہ ایران پر حملے میں چار ہفتے لگیں گیں، مگر  ہم تھوڑا سا شیڈول سے آگے ہیں۔امریکی صدر نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کو خارج از امکان قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہاکہ دیگر صدور کی طرح زمینی فوج نہ بھیجنے کی بات نہیں کروں گا،  امکان ہے کہ زمینی فوج کی ضرورت نہیں ہوگی، ایسا بھی ممکن ہے کہ زمینی فوج ضرورت بن جائے۔۔انھوں نے آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کے بارے میں بتایا کہ حملے کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ تہران میں ایک اجلاس میں موجود تھے۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان حملوں میں تقریباً 49 اعلیٰ ایرانی رہنما مارے گئے جن میں فوجی اور سکیورٹی قیادت کے افراد بھی شامل تھے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران آپریشن کا مقصد انھیں ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا، ان کے بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کی تباہی اور ایرانی بحریہ کو نیست و نابود کرنا تھا۔انھوں نے تمام اہداف کے حصول تک ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس جنگ کا مقصد ایران سے دنیا کو لاحق خطرات اور عالمی امن یقینی بنانا ہے۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ ملک اپنی سرحدوں سے باہر دہشت گرد افواج کو اسلحہ، فنڈز اور ہدایات فراہم کرنا جاری نہیں رکھ سکتا۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج ملک ان چار امریکی فوجیوں کے لیے سوگ منا رہا ہے جو ایران کے خلاف کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ 

 ٹرمپ

مزید :

صفحہ اول -