فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے تک آپریشن غضب للحق جاری رہیگا 

     فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے تک آپریشن غضب للحق جاری ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                                                             اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق کی تازہ ترین تفصیلات جاری کر دیں۔سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 435 خوارج ہلاک 630 زخمی ہوئے۔عطا تارڑ نے کہا کہ طالبان رجیم کی 188 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دیں، 31 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا، کارروائی کے دوران دشمن کے 188 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں جبکہ افغانستان کے 51 مختلف مقامات پر مؤثر فضائی حملے کئے گئے۔اس سے قبل سکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ پاک افواج نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے خوست میں فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا اسلحہ ڈپو تباہ کر دیا۔ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر بلا اشتعال جارحیت کے بعد فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو ہر محاذ پر شدید دباؤ اور پسپائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے دوران پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی ایک اور پوسٹ کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا۔افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پاک فوج کی جوابی کارروائیاں جاری ہیں، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان فورسز پوسٹوں پر اسلحہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے افغان طالبان کی ایک اور پوسٹ کو دھماکا خیز مواد سے اڑایا، آپریشن غضب للحق اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک جاری رہے گی،افغانستان میں جاری آپریشن ”غضب للحق“ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک افغان طالبان حکومت ”فتنہ الخوارج“ اور ”فتنہ الہندوستان“ کی سرپرستی ترک کرنے کی قابلِ تصدیق یقین دہانی نہیں کرواتی۔اب تک دہشت گردوں کی 180 سے زائد چوکیاں تباہ کی جا چکی ہیں اور 30 سے زائد اہم لانچ پیڈز کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔پاکستان اندھا دھند کارروائی نہیں کر رہا بلکہ صرف مخصوص دہشت گرد انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اان خیالات کا اظہار  پاکستان کے ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خطے کی صورتحال، جاری فوجی آپریشنز اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم ترین بریفنگ دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک جاری رہے گی۔سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ افغانستان میں جاری آپریشن ”غضب للحق“ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک افغان طالبان حکومت ”فتنہ الخوارج“ اور ”فتنہ الہندوستان“ کی سرپرستی ترک کرنے کی قابلِ تصدیق یقین دہانی نہیں کرواتی۔اب تک دہشت گردوں کی 180 سے زائد چوکیاں تباہ کی جا چکی ہیں اور 30 سے زائد اہم لانچ پیڈز کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔پاکستان اندھا دھند کارروائی نہیں کر رہا بلکہ صرف مخصوص دہشت گرد انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو سیلف ڈیفنس   زمرے میں آتا ہے۔افغان طالبان حکومت ”پراکسی ماسٹر“ بن کر خطے کا امن سبوتاژ کر رہی ہے اور مسخ شدہ مذہبی نظریے کی آڑ میں جنگی معیشت کو فروغ دے رہی ہے۔پاک فوج کی داخلی معاملات میں شمولیت پر وضاحت دیتے ہوئے عہدیدار نے کہا کہ گورننس کے خلا اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے فوج کو کردار ادا کرنا پڑا۔ 

عطاء تارڑ

مزید :

صفحہ اول -