پرتشدد احتجاج کا کوئی جواز نہیں 

پرتشدد احتجاج کا کوئی جواز نہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر ملک بھر میں سوگ رہا، کراچی، حیدرآباد، سکھر، نوابشاہ، لاہور، اسلام آباد، کوہاٹ، پشاور اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں اتوار کو احتجاجی مظاہرے ہوئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں ہوئے اِن احتجاجی مظاہروں کے دوران 25 مظاہرین جاں بحق ہوئے، کراچی امریکی قونصل خانے کے باہر 10، سکردو میں سات، گلگت میں چھ اور اسلام آباد میں دو مظاہرین اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ مظاہرین نے گلگت اور سکردو میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کو بھی آگ لگا دی۔ مشتعل افراد نے کراچی میں امریکی قونصل خانے پر دھاوا بولا، توڑ پھوڑ کرنے کے بعد انہوں نے قونصل خانے کو آگ لگا دی۔جواب میں قونصل خانے کی سکیورٹی پر معمور گارڈ نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 10 مظاہرین جاں بحق جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کو آنسو گیس استعمال کرنا پڑی۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے سلطان آباد پْل کے نیچے رکھے گئے کنٹینر میں قائم سلطانہ آباد ٹریفک پولیس چوکی اورمختلف مقامات پر دو سے زائد موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگائی۔ مائی کلاچی روڈ اورایم ٹی خان روڈ پر پولیس اوراحتجاج مظاہرین کے درمیان جھڑپیں میدان جنگ کا منظر پیش کرتی رہیں، مظاہرین نے متعدد پولیس موبائلوں کے شیشے توڑ ڈالے۔ حکومت سندھ نے قونصلیٹ کے باہر احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ احتجاج کی آڑ میں شرپسندی برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نے ریڈ زون اور خصوصی طور پر ڈپلومیٹک انکلیو کا ہنگامی دورہ بھی کیا۔ اسلام آباد میں ہونے والی جھڑپوں میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔ اسلام آباد کی انتظامیہ نے احتجاج کے پیش نظر ریڈ زون جانے والے تمام راستے بند کر دیئے تھے لیکن آبپارہ چوک پر جمع ہونے والے مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کی طرف مارچ کا اعلان کر دیا جس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی جبکہ مظاہرین نے پولیس پر شدید پتھراؤ کیا۔ حالات اِس نہج پر پہنچ گئے کہ علماء کرام کو اپنے اپنے فقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تنبیہ کرنا پڑی۔ اہلِ تشیع کے علماء کرام نے مشتعل مظاہرین کو پْر اَمن رہنے کی تلقین کی، صدر جعفریہ الائنس پاکستان علامہ شہنشاہ نقوی نے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت سے عالمِ اسلام ایک اہم رہنما سے محروم ہوگیا جس کی وجہ سے اْمتِ مسلمہ سوگوار ہے لیکن مسلمان کے نزدیک چونکہ شہادت ایک سعادت ہے، اِس لیے مظاہرین کو مشتعل نہیں ہونا چاہئے۔ اْنہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی سرزمین عالمی بالخصوص صیہونی سازشوں کی وجہ سے بدامنی کا شکار ہے، سرحدوں پر مسائل ہیں جبکہ ملک پر دہشت گردی کے بادل منڈلا رہے ہیں، ایسے میں مظاہرین کو احتیاط کرنی چاہئے۔ اْن کا کہنا تھا کہ قیادت افراد کے جانے سے ختم نہیں ہوتی، نبیؐ کے جانے کے باوجود اسلام زندہ رہا، اِس لیے عوام کو پْراَمن رہنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اہلِ تشیع کے جید علمائے کرام نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے اہم ملاقات کی جس میں ایران کی صورتحال، قومی یکجہتی اور احتجاج کے حوالے سے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرِ داخلہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ہر مسلمان کا غم و غصہ بجا ہے، وہ اور پوری حکومت اْن کے ساتھ ہیں اور احتجاج میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں، دشمن پاکستانیوں کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے، قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرایا جانا چاہئے، علمائے کرام نے مشکل وقت میں ہمیشہ قوم کی رہنمائی کی، مظاہرین صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پْراَمن احتجاج کریں اور اِس ضمن میں علمائے کرام مظاہرین کی رہنمائی کریں، قومی اتحاد، یکجہتی، ہوش مندی اور استحکام ہی اِسوقت پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ علمائے کرام نے وزیر داخلہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی کراتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہوئے، ایرانی شہری غم و غصے میں باہر نکل آئے، سڑکوں پر تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی لیکن کہیں سے ہلاکتوں اور توڑ پھوڑ کی اطلاع نہیں ملی لیکن یہاں تو احتجاج کا انداز ہی نرالا ہے، مظاہرے پر تشدد ہوتے ہیں، توڑپھوڑ کر کے اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے، سڑکیں بند کر دی جاتیں، شہر کے شہر بند کرا دیے جاتے ہیں، کیا المیہ ہے کہ 25 قیمتی جانیں اس احتجاج کی نذر ہو گئیں۔ایمبیسی اور کونسل خانوں کے باہر اگر کوئی احتجاج کرنا چاہے تو ضرور کرے لیکن کسی بھی سفارتخانے کے اندر داخل ہونے اور  توڑ پھوڑ کرنے کی کوئی منطق نہیں ہے۔ ماسوائے عراق اور پاکستان کے دنیا بھر میں کہیں ایسا احتجاج نہیں ہوا جہاں سفارتخانوں کیاندر گْھس کر توڑ پھوڑ کی گئی ہو، اْس کی املاک کو جلایا جا رہا ہو۔ ہمیں بطور قوم سنجیدگی اور تدبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ جذبات میں بہہ کر ایسے اقدامات کرنا جو قانون، اخلاق اور قومی مفاد کے خلاف ہوں، کسی طور دانشمندی نہیں ہے۔ کسی بھی ملک کا سفارتخانہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اْس ریاست کی نمائندہ سرزمین تصور کیا جاتا ہے۔ اْس کی حدود میں مداخلت، زبردستی داخل ہونے کی کوشش، توڑ پھوڑ یا آگ زنی نہ صرف جرم ہے بلکہ یہ ایک حساس سفارتی معاملہ بھی بن سکتا ہے، جس کے نتائج دور رس اور سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں سکیورٹی فورسز کا سخت ردِعمل آنا بعید از قیاس نہیں، اور حالیہ احتجاج میں ایسا ہوا بھی جب امریکی سفارتخانے کے گارڈ نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔

اختلافِ رائے اور احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، مگر حق کے استعمال کا طریقہ بھی ذمہ دارانہ ہونا چاہیے۔ مہذب معاشروں کی پہچان یہی ہے کہ وہاں احتجاج منظم، پْرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا ہے۔ املاک کو نقصان پہنچانا، جلاؤ گھیراؤ کرنا یا تصادم کی فضا پیدا کرنا نہ صرف ریاستی اداروں کو مشکل میں ڈالتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کے تشخص کو بھی متاثر کرتا ہے۔ توڑ پھوڑ کرنے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، نقصان اپنا ہی ہو گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے رویّوں میں بلوغت اور تحمل پیدا کریں۔ اگر احتجاج کرنا ہے تو طے شدہ مقامات پر کیا جائے اور پْرامن انداز اپنایا جائے۔لوگ آئیں، اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کریں اور پھر نظم و ضبط کے ساتھ منتشر ہو جائیں۔ یہی شعور، یہی ضبط اور یہی ذمہ داری ایک باشعور اور باوقار قوم کی اصل پہچان ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -