اس دنیا کے غم، جانے کب ہوں گے کم

  اس دنیا کے غم، جانے کب ہوں گے کم
  اس دنیا کے غم، جانے کب ہوں گے کم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

انسان کتنا بھی ترقی کر جائے وہ اپنے ہی پھیلائے ہوئے جال سے نہیں نکل سکتا۔ ایک وہ زمانہ تھا جب ٹیکنالوجی نے معجزے نہیں دکھائے تھے۔ اس وقت جنگیں بھی تلواروں، نیزوں، گھوڑوں اور اونٹوں پر لڑی جاتی تھیں۔ لشکر سے لشکر ٹکراتے تھے۔ زندگی اس وقت بھی ان جنگوں کی وجہ سے بکھر کر رہ جاتی تھی۔ ہجرتیں ہوتیں، بستیاں تاراج اور شہربرباد ہو جاتے۔ آج کا نقشہ نتیجے کے لحاظ سے وہی ہے البتہ اونٹوں، گھوڑوں، تلواروں اور نیزوں کی بجائے جہاز، میزائل، گولے، مارٹر توپیں اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے نشانہ باندھنے کے عوامل آ گئے ہیں، شہر اب بھی نشانہ ہیں، لوگ اب بھی نقل مکانی کرتے ہیں۔ زندگی اب بھی مفلوج ہو جاتی ہے، انسانی جانوں کا ضیاع اب بھی ہوتا ہے اور وہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں، جو کسی بھی طرح جنگ میں شریک نہیں ہوتےّ اتنی ترقی، اتنی زیادہ خوشحالی اور اس قدر وسائل کے باوجود آج کے ممالک اور ان کے حکمران بھی امن چین سے بیٹھنے کو تیار نہیں۔ کوئی نہ کوئی چھیڑ چھاڑ، کسی نہ کسی انداز، پنگے بازی اور دوسرے کی حدود میں مداخلت آج کا دستور بھی بنا ہوا ہے۔اس کے نتیجے میں وہی کچھ ہوتا ہے جو ہمیں آج عملی طو رپر نظر آ رہا ہے۔ دنیا اس وقت ایک خوف اور ایمرجنسی کے حصار میں ہے۔ لاکھوں مسافر ہوائی اڈوں پر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ گھنٹوں کا سفر دنوں اور ہفتوں میں بدلنے کی صورت پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کوئی بھی ایسا راستہ نظر نہیں آ رہا کہ جو بے ترتیبی، انتشار اور افراتفری مچی ہوئی ہے، وہ ختم ہو سکے۔ گھوم پھر کے نگاہ اس ایک نکتے پر آکر ٹھہر جاتی ہے کہ امریکہ دنیا کو مستحکم اور امن چین کی آماجگاہ بننے نہیں دے رہا۔ دنیا کی سپرپاور بننے کے باوجود اس کا جنون اور دنیا کو تسخیر کرلینے کا شیطانی خواب ختم نہیں ہو پا رہا۔ کہنے کو ہر امریکی صدر نے یہی کہا ہے کہ دنیا سے دہشٹ گردی ختم کرنا امریکہ کا مشن ہے، مگر تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کسی ایک جگہ بھی وہ اپنے جارحانہ طریقے سے دہشت گردی ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا، بلکہ اس کے اقدامات نے دہشت گردی اور دنیا میں بدامنی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا، جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی صدارت سنبھالی ہے۔ کوئی دن ہی جاتا ہے کہ جب دنیا کے کسی حصے میں امریکی مداخلت سے بدامنی اور انتشار نہ پھیلا ہوا۔ خود اپنے ہمسایوں کے ساتھ بھی امریکہ نے وہ سلوک کیا ہے کہ جو کوئی بہت بُرا ہمسایہ کرتا ہے۔ وہ ممالک جو انتشار نہیں چاہتے انہیں جنگ میں شراکت دار بنا کے بدامنی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ان کے اندر بھی شروع کرا دیتا ہے۔

ویسے تو ہم کہتے ہیں کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین نے امریکہ کو اڈے کیوں دیئے؟ جس کی وجہ سے آج وہ ایرانی میزائلوں کے نشانے پر ہیں اور ان کی ساری ترقی ڈھیر ہوتی جا رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ امریکہ جیسے بدمست ہاتھی کو کیا روکا جا سکتا ہے، انکار کیا جا سکتا ہے کہ اڈوں کے لئے جگہ نہیں دیں گے، جبکہ حالت یہ ہو کہ اپنے دفاع کے لئے ان ممالک نے ڈھنگ کی فوج یا دفاعی نظام ہی نہ بنایا ہو۔ جب اپنے دفاع کا ٹھیکہ بھی امریکہ کو دیا جائے گا تو پھر اس کی ہرجنگ ان ممالک پر بھی اثرات مرتب کرے گی۔ ایک پرامن خطے میں اسرائیل جیسی غاصب ریاست کا بیج بو کر امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے پرامن خطے کو آتش و آہن کی آماجگاہ بنایا ہوا ہے۔ کتنے ملک تباہ ہو گئے، کتنے کھنڈر بن گئے مگر اس کی ہوسِ سپرپاوری ختم نہیں ہوئی۔ اس کی للچائی ہوئی نظریں عرب ممالک کے تیل پر جمی ہوئی ہیں۔ عراق، مصر، شام، کویت کو جنگوں میں جھونک کر روندنے کے بعد اس نے اپنے خوف کی چادر پھیلا کر باقی عرب ممالک کو مجبور کر دیا کہ وہ اس کے کیمپ میں شامل ہوجائیں، ان کے وسائل کا ایک بڑا حصہ آج بھی امریکہ لے جاتا ہے۔ نہ دیں تو پھر اس کے غیض و غضب کا سامنا کریں۔ ایک زمانہ تھا کہ دنیا میں کسی حد تک طاقت کا توازن موجود تھا۔کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا کو دو بلاکوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔ اس طرح بیلنس آف پاور کی ایک صورت پیدا ہو جاتی تھی۔تاہم  میخائل گورباچوف کے زمانے میں کمیونزم اور سوشلزم کا دھڑن تختہ ہوا۔ روس کے حصے بخرے ہوئے تو دنیا غیر متوازن ہوگئی۔ چین ایک بڑی طاقت ہے لیکن اس کا محاذ اقتصادی ترقی ہے۔ وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے خود کو مضبوط بنا چکا ہے۔ البتہ اس سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ امریکی جارحیت کے مقابلے میں کسی ملک کی مدد کو آئے گا۔ صرف بیان دینے سے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے جارح صدر کو روکا نہیں جاسکتا۔ پھر یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایک اور امریکہ اسرائیل کی شکل میں کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ یہ امریکہ اس پورے جنوبی ایشیاء کے خطے کو بھی ان ممالک کی طرح ڈیل کرے گا جوشمالی امریکہ میں موجود ہیں۔ اب ایران مشقِ ستم کیوں بنا ہوا ہے؟ صرف اس لئے کہ وہ اس امریکی ایجنڈے کے راستے میں آخری دیوار ہے، یہ دیوار زمین بوس ہو جاتی ہے اور ایران کا اسلامی تشخص ختم ہو جاتا ہے تو وہاں امریکہ نواز حکمرانی قائم ہوگی۔ اس کے بعد اسرائیل کا چاروں طرف ڈنکا بجے گا۔ غزہ کو مٹی کا ڈھیر بنانے کے بعد اب امریکی خواہش یہی ہے کہ یروشلم اس پورے خطے میں طاقت کا مرکز بن جائے۔ دنیا میں ایک نہیں دو امریکہ بنیں اور سپرپاور ہونے کاسکہ پوری دنیا تسلیم کرلے۔

اب سوال یہ ہے کیا یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے؟ ممکن ہے ایسا ہو جائے لیکن کیا اس سے دنیا میں امن قائم ہو سکے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ ہوں یا ان کی تھنک ٹینک ٹیم، اس حقیقت کو کیسے ختم کر سکتے ہیں کہ یہ صرف جغرافیے کی نہیں بلکہ تہذیبوں کی جنگ ہے۔ مسلمان اہلِ یہود کو کیسے سپرپاور تسلیم کر سکتے ہیں ممکن ہے امریکہ اسلامی ممالک میں بادشاہت کو اپنا ہمنوا بنالے مگر عوام کو کیسے راضی کیا جائے گا۔ نتیجہ لازماً یہ نکلے گا کہ اس خطے میں دہشت گردی بڑھے گی، ایسے گروہ معرضِ وجود میں آئیں گے جو یہ دعویٰ کریں گے وہ اسلامی عسکری گروہ ہیں اور امریکہ و یہود کے تسلط کو تسلیم نہیں کرتے۔ اسلامی ممالک نے اپنے اتحاد کو ختم کرکے جو غلطی کی ہے، اس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا، آپس کی لڑائیاں وہ بھی کسی ٹھوس وجہ کے بغیر خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہیں۔ اب بھلا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو آپس میں الجھنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہ اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کیوں نہیں کر سکتے، اس طرح پاکستان اور افغانستان میں ایک مشترکہ تاریخ رکھنے کے باوجود ہم آہنگی کیوں نہیں،کیوں اختلافات کو میز پر بیٹھ کر حل نہیں کیا جاتا،جبکہ یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ اگر وہ باہم مل جائیں تو ان کی معیشت بہت بہتر ہو سکتی ہے، مگر کیا کریں کہ دنیا میں آج کل سوکنیں بہت ہیں جو اپنے مفاد کے لئے دوسروں کو آباد و خوشحال نہیں دیکھ سکتیں۔

مزید :

رائے -کالم -