تاحیات بد دُعائیں!

تاحیات بد دُعائیں!
تاحیات بد دُعائیں!

  

ایک بادشاہ شکار کھیلتے ہوئے جنگل میں ساتھیوں سے بچھڑ کرراستہ بھٹک گیا۔ بھوک سے برا حال ، گرتا پڑتا بہرحال ایک باغ میں جا پہنچا۔ باغ کے مالک نے عام مسافر سمجھ کر اس کو خوش آمدید کہااور اپنی بیٹی کو مسافر کے لئے کچھ لانے کو کہا۔ بیٹی نے بادشاہ کے سامنے ہی ایک درخت سے دو مالٹے توڑے اور ان کا رس نکال کر ایک بڑا گلاس مسافر کو پیش کیا۔ بادشاہ بھوکا پیاسا تھا، ایک ہی سانس میں رس کا گلاس پی گیاتو باغ کے مالک نے بیٹی کو ایک اور گلاس لانے کا کہا۔ مسافر جو درحقیقت بادشاہ تھا،اس نے باغ پر نظر دوڑائی توتا حد نظرپھلوں سے لدے درخت دکھائی دیئے۔ بادشاہ سوچنے لگا کہ صرف دو مالٹوں سے رس کا بڑا گلاس بن گیا تو یہاں ہزاروں مالٹے نظر آرہے ہیں ، باغ کا مالک تو بڑا امیر آدمی ہے ،اس کی دولت کا بڑا حصہ ٹیکس کے نام پر تو ضروراپنے خزانے میں شامل کروں گا۔ اتنے میں اس کی نظر رس نکالتی مالک کی بیٹی پر پڑی جو مالٹا توڑتی اور اس کا جب رس نکالتی تو وہ تھوڑا سا نکلتا۔ جہاں پہلے صرف دو مالٹوں سے رس کا ایک بڑا گلاس تیار ہوا تھا،وہاں اب سات آٹھ مالٹوں سے بمشکل اتنا گلاس تیار ہوسکا۔

مالک کی بیٹی کچھ بڑبڑاتی ہوئی آئی اور گلاس مسافر کو پیش کیا۔ مسافر کے روپ میں بادشاہ نے لڑکی سے پوچھا کہ گلاس لاتے وقت تم کیا بول رہی تھیں۔ لڑکی نے جواب دیا کہ پہلا گلاس صرف دو مالٹوں کے رس سے بھر گیا،لیکن دوسرا گلاس تیار کرتے وقت جب مالٹوں سے رس کم ہوگیا تو مَیں جان گئی کہ کسی وجہ سے ہمارے بادشاہ کی نیت خراب ہوگئی ہے ،جبھی تو اس کی رعایا کے مال سے بھی برکت اٹھ گئی ہے ۔بادشاہ نے یہ بات سن کراپنے خیال ،سوچ اور نیت سے رجوع کرتے ہوئے لڑکی سے ایک اور گلاس کی درخواست کی ۔ لڑکی جب تیسرا گلاس لائی تو اس نے خوشی سے کہاکہ یقینا ہمارے بادشاہ کی نیت ٹھیک ہوگئی ہے اور مالٹوں میں رس واپس آگیا ہے ،ساتھ ہی لڑکی اور اس کے باپ نے بادشاہ کو دعائیں دیں اور مسافر کو کہا کہ وہ بھی بادشاہ کی درازیءعمر کے لئے دعا کرے ۔

بچپن میں اپنی والدہ محترمہ سے سنی ہوئی یہ کہانی کیسی ابدی سچائی رکھتی ہے، اس کا ادراک رخصت ہوئی نام نہاد عوامی حکومت کے پانچ سالہ دور میں ہمیں بارہا ہوا۔ جب حکمران کرپشن میں ملوث ہوںگے تو ملک سے برکت کیوں نہیں اٹھے گی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسے ایسے کرپشن کے میگا سکینڈل سننے میں آئے کہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ پہلا نمبر کس کو دیا جائے ، بقول غالب:

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی

 اسی قسم کی بے حسی کا عالم ا ہل وطن پر بھی پانچ سال طار ی رہا ،کیونکہ پہلے پہل تو کرپشن کی ہر نئی داستان پر حیرانی ہوتی رہی ،مگر جب حکمران ہر روز کرپشن کے چوکے چھکے مارنے لگے تو ”ہنسی“ کی طرح کرپشن کی کسی بھی نئی خبر پر لوگوں نے حیران ہونا چھوڑ دیا کہ یہ سب تو اب معمول میں شامل ہے ۔آج کی خبر ہے کہ ایوان صدر نے وزارت خزانہ کو اسی ارب روپے آئی پی پیزکمپنیوں کو ادا کرنے کا کہا ہے تاکہ لوڈ شیڈنگ میں کمی کی جاسکے ۔ جواب میں وزارت خزانہ کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے آخری دنوں میں 37 ارب روپے ترقیاتی فنڈز کے نام پر جاری کرا کر خزانہ خالی کردیاہے، اس لئے ایک قسط میں اتنی بڑی رقم ادا نہیں کی جاسکتی ۔

آخری دنوں کے حوالے سے ہی خبریں آئی ہیں کہ وزیر اعظم،سپیکر قومی اسمبلی، سندھ کے وزیر اعلیٰ، سپیکر سندھ اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے ارکان....ان سب کو احساس ہوا کہ قانون کے مطابق ان کو جو مراعات حاصل ہیں ،وہ نہ صرف ناکافی ہیں، بلکہ عہدوں سے سبکدوش ہوتے ہی ختم ہوجائیں گی، سو ان سب کی توجہ اس امر پر مرکوز رہی کہ نہ صرف ان مراعات کو ”دگنا تگنا“ کیا جائے بلکہ یہ سب مراعات ان کو ” تاحیات“ حاصل رہیں ۔ان کو چاہئے تویہ تھا کہ وہ جاتے جاتے عوام کے لئے کچھ ایسی آسانیاں پیدا کرتے کہ وہ ان کو ” تاحیات دعائیں“ دیتے ،لیکن افسوس ان پر کہ یہ دعائیں ان کے نصیب میں نہیں تھیں ۔ جو لوگ قوم اور ملک کے ساتھ مخلص ہوتے ہیں وہی” تاحیات اور بعد حیات دعائیں“ لیتے ہیں ۔ شہید حکیم محمد سعیدؒایسے ہی خوش نصیب انسانوں میں سے ایک ہیں ۔ ریکارڈ پر ہے کہ جب وہ سندھ کے گورنر بنے تو ایک پیسہ تنخواہ کا نہیں لیتے تھے، کوئی پروٹوکول بھی نہیںلیتے تھے ۔ان کی سیکرٹری نے ان کو کہا کہ آپ کا استحقاق ہے کہ آپ ایک مرسیڈیز گاڑی بغیر ایکسائز ڈیوٹی کے سرکاری خرچ پر منگوا سکتے ہیں، جواب میں شہید حکیم محمد سعیدؒنے فرمایا:”مَیں قوم کا پیسہ ضائع نہیں کرنا چاہتااور نہ ہی مجھے اعلیٰ گاڑی کی ضرورت ہے“ ۔

 ہم سابق حکمرانوں کو ” تاحیات بدد عائیں“ تو نہیں دیتے، لیکن ”دعائیں“ بھی نہیں دیتے، البتہ ہم اس کو ضرور ” تاحیات دعائیں“ دیں گے جو ان کی ” تاحیات مراعات“کا خاتمہ کرکے غریب عوام کے کندھوں سے یہ ناگوار بوجھ اتارے گا۔   ٭

مزید :

کالم -