سربجیت آخر مر ہی گیا!

سربجیت آخر مر ہی گیا!
سربجیت آخر مر ہی گیا!

  

وہ سولہ سال سے منتظر تھا، اس عرصہ میں ایک سے زیادہ مرتبہ اس کی سزا پر عمل کی گھڑی آئی اور ٹل گئی کہ اس کی موت دور تھی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر حکومت پاکستان سے اس کی جان بخشی کی اپیلیں بھی کی گئیں، اس کی بہن اور بیوی کو لاہور میں وکیل بھی مل گئے جنہوں نے وکالت بھی کی اور اس کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرانے اور عمر قید کی مدت پوری ہونے پر رہائی کی کوشش کی جو ناکام رہی، یہ عجیب صورت حال تھی کہ عدالتوں سے تمام اپیلیں مسترد ہونے کے بعد صدر کی طرف سے بھی معافی کی درخواست نا منظور کر دی گئی تھی اس کے باوجود اسے پھانسی گھاٹ تک نہیں لے جایا جا سکا۔ اس عرصہ میں بھارت کی طرف سے اس کی سزا معاف کر کے واپس بھجوانے کے لئے بھی کہا جاتا رہا۔

یہ بھارتی دہشت گرد سر بجیت سنگھ تھا جو گزشتہ روز جناح ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا اسے کوٹ لکھپت جیل میں ساتھی قیدیوں نے کسی جھگڑے کی بنا پر اینٹیں مار کر شدید زخمی کر دیا تھا اس کے سرپر زخم آئے جس کی وجہ سے وہ کوما میں چلا گیا اور اسی حالت میں اس کی موت ہو گئی، صرف ایک روز قبل ہی اس کی بہن، بیوی اور دونوں بیٹیاں مایوس ہو کر واپس گئی تھیں کہ بھارت جاکر سونیا گاندھی سے کہیں گی۔ اول تو سربجیت کی زندہ واپسی کے لئے کہیں گی، دوسری صورت میں نعش جلد چاہیں گی کہ اپنے رسم و رواج کے مطابق خود اس کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔

سربجیت سنگھ کے خلاف بم دھماکوں کے ذریعے پاکستانیوں کی جانیں لینے کا الزام ثابت ہو چکا تھا، خود اس نے بھی اس دہشت گردی کا اعتراف کر لیا تھا۔ اسی لئے اسے سزائے موت ہوئی ہائی کورٹ کی طرف سے اس کی توثیق کر دی گئی بعد میں سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہوئی، صدر نے درخواست مسترد کی ایک بار ریڈ وارنٹ بھی جاری ہوئے پھر پھانسی ٹل گئی کہ ڈپلومیٹک چینل پر بات ہوتی رہی تھی۔

سربجیت سنگھ کی موت کے بعد بھارت کی طرف سے جس نوعیت کا ردعمل سامنے آیا ہے اس کا بخوبی اندازہ ہے کہ بھارتی حکومت ایک طرف تو اپنے ملک میں پاکستانیوں کے ساتھ جو سلوک کرتی ہے اس کی گواہی ایسے قیدیوں سے مل جاتی ہے جو بھارتی جیلوں میں جرم بے گناہی کی سزا بھگت کر رہا ہوتے ہیں۔ آج بھی بھارت کی جیلوں میں ایسے کئی بے گناہ پاکستانی موجود ہیں جن کے خلاف کوئی الزام نہیں یا پھر وہ لوگ ہیں جن کو خود بھارتی عدالتوں نے بری کیا یا دو تین سال کی سزا دی اور وہ اپنی سزا سے کہیں زیادہ قید کاٹ چکے ہوئے ہیں۔ بھارت کی طرف سے ان کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی جاتی ،لیکن اگر کوئی بھارتی شہری جاسوسی یا دہشت گردی کے ثبوت کے ساتھ یہاں پکڑا جائے تو ادھر واویلا شروع کردیا جاتا ہے، یہ سلسلہ جاری ہے۔

کالم تو کسی اور موضوع پر لکھنا تھا لیکن سربجیت سنگھ کی موت نے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا، اندازہ ہے کہ لاہور سے ہو کر بھارت واپس جانے والی اس دہشت گرد کی بہن، بیوی، بیٹیاں اور دوسرے رشتہ دار کس قسم کی گفتگو کریں گے مرنے والے کی بہن نے تو واہگہ کی بین الاقوامی سرحد پار کرتے وقت الزام لگا دیا کہ سربجیت کو ایک سازش کے تحت مروایا گیا....اس واردات کے حوالے سے ہم کچھ نہیں لکھیں گے کہ اس کی تفتیش بھی اعلیٰ سطح پر ہو رہی ہے اور اس قیدی کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگا لیں کہ پوسٹ مارٹم کے لئے جناح ہسپتال یا میو ہسپتال کی بجائے منشی ہسپتال کے سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے، ادھر نہ صرف اسے زخمی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا بلکہ جیل حکام اور عملے کے خلاف بھی کارروائی کی گئی اور ان کی غفلت کے حوالے سے تحقیق اور تفتیش بھی ہو رہی ہے۔

ہم اپنے تجربے کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ بھارتی حزب اختلاف ہی نہیں حزب اقتدار بھی اس واقعے کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کے لئے استعمال کرے گی خصوصاً پنجاب اور ہریانہ کے صوبوں میں عوامی جذبات کو ابھارا جائے گا، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مرنے والا سکھ تھا بھارتی ایجنسی را بڑی ہوشیاری سے سکھوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہے، اس کی بنیادی وجہ سکھوں کا پاکستان کے بارے میں نرم رویہ اور لہجہ ہے کیونکہ سکھوں کے تمام مقدس مقامات پاکستان میں ہیں اور وہ یاترا کے لئے آزادانہ آنا جانا چاہتے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے ان کو سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں، مقصد سکھوں کے مذہبی جذبات کا احترام ہوتا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب اور ہریانہ کے سکھوں میں اب پاکستان کے بارے میں بڑا نرم رویہ پایا جاتا ہے، را والے سکھوں کو استعمال کرتے ہیں وہ کامیاب ہوں تو فائدہ نہ بھی ہوں تو فائدہ، کہ سکھوں کو پاکستان میں پکڑ کر سزا دی جائے تو بھارتی سکھوں کے جذبات ابھارنا مشکل کام نہیں ہوتا۔ اب سربجیت سنگھ کے حوالے سے بھی یہی ہوگا بھارتی میڈیا بہت شور مچائے گا اور پاکستان کے خلاف ایسا پروپیگنڈہ کرے گا کہ دونوں ملکوں کے حالیہ تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔ اگرچہ سربجیت یہاں بم دھماکوں کا مجرم تھا اور جرم ثابت ہونے ہی کی وجہ سے اسے سزا ہوتی تھی۔

اس تمام تر سچائی کے باوجود اس حادثے کی تحسین تو نہیں کی جا سکتی، یہ جیل حکام اور عملے کی کوتاہی کی وجہ سے پیش آیا اور ان کے خلاف بھی موثر کارروائی کی ضرورت ہے۔ دیانت دارانہ تحقیقات کی روشنی میں جس کا جتنا قصور ہو اسے سزا بھی اتنی ہی ملنی چاہئے کہ یہ واردات پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے مضر ثابت ہو گی۔ وزارت خارجہ کو اپنی سطح پر بھی خبردار رہنا اور پروپیگنڈہ کا موثر جواب دینا ہوگا۔ ہماری رائے میں سربجیت کا پوسٹ مارٹم جلد کر کے اس کی نعش کو بھارت کے حوالے کر دینا چاہئے۔     ٭

مزید :

کالم -