تکبر کا انجام: بے بسی!

تکبر کا انجام: بے بسی!
تکبر کا انجام: بے بسی!

  

حجاج بن یوسف تاریخ اسلامی کا ایک ظالمانہ کردار ہے۔ ہمارے ہر نئے آنے والے حکمران کو اس کے کردار اور انجام کی داستان ضرور پڑھنی چاہئے، تاکہ یہ لوگ اس جیسے عبرت ناک انجام سے دوچار نہ ہوں اور اس کا طرز حکومت اپنانے سے گریز کریں۔ حجاج بن یوسف 41 ھ کو پیدا ہوا۔ بنو اُمیہ کا ایک فاتح جرنیل، گورنر اور سیاست دان رہا۔ حجاج بن یوسف ،خلیفہ عبدالمالک کے ابتدائی عہد میں طائف سے دمشق آیا، جہاں خلیفہ کے وزیر ابو زرعہ نے اس کی ذہانت دیکھ کر اسے ا پنی پولیس میں ملازم رکھ لیا۔ اس نے جلد ہی اپنی صلاحیتوں سے خلیفہ کو متاثر کیا اور خلیفہ نے تمام سینئر سپاہیوں کو چھوڑ کر حجاج بن یوسف کو سپہ سالار افواج مقرر کر دیا۔ حجاج بن یوسف کی قیادت میں سب سے پہلی لشکر کشی صحابیءرسول حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کے خلاف ہوئی۔ ان کے والد حضرت زبیرؓ کا شمار عشرہ مبشرہؓ میں ہوتا ہے، جبکہ ان کے نانا حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے۔ یہ حضرت اسمائؓ کے بیٹے تھے اور حضرت عائشہؓ کے بھانجے۔ انہیں یہ بھی فضیلت حاصل تھی کہ ہجرت کے بعد مہاجرین کے ہاں سب سے پہلے جو بچہ پیدا ہوا، وہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ ہی تھے، حجاج بن یوسف نے انہیں شہید کر دیا اور طاقت کے نشے میں اندھا ہو کر اللہ کے گھر خانہ کعبہ کو بھی نہ بخشا اور خانہ کعبہ پر بھی پتھر برسا کر اسے نقصان پہنچایا۔

مو¿رخین کہتے ہیں کہ جہاں حجاج بن یوسف نے چھ ماہ تک محاصرہ کئے رکھا تھا، مزید چند دن محاصرہ جاری رکھتا تو امن کے شہر مکہ میں خون ریزی نہ ہوتی اور نہ کعبہ کی بے حُرمتی کا دلخراش سانحہ رونما ہوتا۔ حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی لاش کو لٹکا دیا اور ان کے جِسم اطہر کی بے حُرمتی کی۔ وہ جلیل القدر صحابہؓ کی توہین کرتا۔ حضرت انس بن مالکؓ سے بھی جھگڑا کیا، عقوبات جسمانی اور قتل و خون ریزی کے متعلق اس نے عجیب عجیب ایجادات و اختراع کئے تھے۔ مخالف کو کچلنے میں دیر نہیں لگاتا تھا، اسے اپنی طاقت کا اظہار اور رٹ آف گورنمنٹ قرار دیتا۔ قرآن پاک پر اعراب لگانے کے سوا اس کے کریڈیٹ میں اور کچھ نہیں جاتا۔ حجاج کو اللہ تعالیٰ نے سپہ سالاری عطا کی، اسے گورنر ایسا عظیم رتبہ دیا، مگر حجاج نے اپنی اس طاقت کو مظلوموں کی مدد کے لئے استعمال کرنے کی بجائے ظلم ڈھانے کے لئے استعمال کیا۔ وہ طاقت کے نشے میں متکبر ہوگیا۔ اس نے مظالم کی کئی درد ناک داستانیں رقم کیں۔

خانہءخدا کی بے حُرمتی، اللہ کے نیک بندوں کی تذلیل اور مخالفین پر بے رحمانہ ظلم.... پھر اس شخص کو اللہ نے اس کے تکبر کی ایسی سزا دی کہ یہ بے بسی کی تصویر بن گیا۔ یہ بستر مرگ پر پڑ گیا۔ اس پر لرزہ طاری تھا۔ اسے عجیب و غریب بیماری لگی۔ اسے گرمی کے موسم میں بھی شدید سردی لگتی۔ یہ ٹھٹھر ٹھٹھر کر تڑپتا تھا۔ انگاروں سے دہکتی انگیٹھیاں جسم سے ایسی قریب کر دیتے کہ جلد جل جاتی۔ حجاج نے بے چارگی سے حضرت امام حسن بصریؓ سے درخواست کی کہ اس کے لئے دعا کریں۔ حضرت حسن بصریؒ نے فرمایا:”اے حجاج تجھے پہلے ہی ظلم و ستم کرنے سے روکا تھا۔ بیگناہوں کو ستانے اور لوگوں کو ناکردہ گناہوں پر سزا دینے سے منع کیا تھا“۔ حجاج نے بے بسی سے کہا: ” بس اتنی دعا کردیں کہ خدا مجھے جلد اٹھا لے، مجھ سے یہ بیماری کی تکلیف برداشت نہیں ہوتی اور مجھے اللہ عذاب سے نجات دے“۔ حضرت حسن بصریؒ اس کی بے بسی دیکھ کر رونے لگے کہ جس نے دنیا پر ظلم و ستم اور تکبر سے حکومت کی، آج کیسی درماندگی و لاچاری کی حالت میں پڑا ہے۔

حجاج موت کی دعائیں مانگ رہا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اس متکبر شخص کی بے بسی و لاچاری ساری دنیا کو دکھا دی۔ اللہ پاک کا اصول بڑا دلچسپ ہے، یہ انسان کے باقی گناہوں پر اتنی جلدی پکڑ نہیں کرتا، درگزر کر دیتا ہے، لیکن تکبر کی سزا اسے اس کی زندگی میں ضرور دیتا ہے اور اسے بے بسی ولاچاری کی مثال بنا کر رکھ دیتا ہے تاکہ اس کی بادشاہت میں کوئی خود کو دنیاوی خدا سمجھ کر خلق خدا پر ظلم و ستم نہ ڈھائے۔ پرویز مشرف کی داستان بھی کم و بیش حجاج سے مِلتی جُلتی ہے۔ اسے وزیراعظم نواز شریف نے جونیئر ہونے کے باوجود سپہ سالاری عطا کی۔ یہ آئین توڑ کر اس ملک کا زبردستی حاکم بن گیا۔ یہ بھی ایک ظالم و متکبر حکمران تھا۔ خدا کے لہجے میں بات کرتا تھا۔ اللہ کے گھر پر حملہ کرنے کا داغ بھی اس کے دامن پر لگا ہے۔ اپنے مخالفین کو انجام تک پہنچانے میں یہ بھی بڑابے باک تھا۔ دین دار اور حق گو، لوگوں کی توہین کرنا اس کا وتیرہ رہا۔ اللہ کے نیک بندوں کی لاشوں کی بے حرمتی کا منظر بھی لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا، جب جامعہ حفصہ کا ملبہ مع انسانی اعضاءگندے نالے میں بہا دیا گیا۔ اس شخص کی رعونت سے زمین پناہ مانگتی تھی۔ آج یہ شخص بے بسی کی علامت بن چکا۔

 بعض لوگ خود اپنے ظلم کا شکار ہو جاتے ہیں، تکبر کرنے والے کی ذات اس کے اپنے ظلم کا شکار ہو جاتی ہے۔ تکبر کا انجام بے بسی پر ختم ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی حقیقت معلوم ہو تو ہرگز تکبر کا شکار نہ ہو۔ بھلا جو شخص جینے کے لئے سانسوں تک کا محتاج ہو، ایسا شخص بھی اگر غرور کرتا ہے تو پرلے درجے کا احمق ہے۔ تکبر کا شکار انسان وحشی جانور کے مماثل ہوتا ہے۔ شیکسپیئر کا قول ہے:” آدمی وہ بھی مغرور آدمی ادنیٰ اختیارات سے مزین ہو کر آسمان تلے ایسی عجیب فنکارانہ چالیں چلتا ہے کہ فرشتوں کو بھی رونا آتا ہے“۔ طاقت کا گھمنڈ عقل کادشمن ہوتا ہے۔ میکسم گورکی لکھتا ہے: ” کیا آپ کو معلوم ہے آپ کو پاگل بننے سے کیا چیز بچائے ہوتی ہے۔ آپ کے تھائی رائیڈ غدودوں میں خشخاش برابر آئیوڈین.... اور اگر کوئی ڈاکٹر آپ کی گردن سے تھائی رائیڈ گلینڈ نکال دے تو آپ پاگل ہو جائیں“.... انسان کی اصل اوقات دیکھیں اور اس کے مظالم اور دعوے۔

 انسان جب غرور کے پہاڑ پر کھڑا ہو تو اس کی زبان اس کے کنٹرول میں نہیں رہتی“.... مَیں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں....ادھر سے ماریں گے کہ پتہ بھی نہیں چلے گا.... صرف نوے یا ایک سو سات لوگ مارے تھے....مسجد پر حملہ کر کے بالکل صحیح کیا۔ کراچی میں آج طاقت کا مظاہرہ کیا ہے، دیکھ لی عوام کی طاقت“.... یہ وہ بیانات تھے جو پرویز مشرف کے تکبر کی انتہا تھی ، لیکن پرویزمشرف بھول گئے کہ ان کی یہ طاقت مظلوموں کی داد رسی کے لئے ہے، ظلم ڈھانے کے لئے نہیں۔ اصل بادشاہ اوپر بیٹھا ہے جو رعونت و تکبر کو سخت نا پسند کرتا ہے۔ آج یہ کسی سے بھی نہ ڈرنے والا اور قتل و غارت پر مکے لہرانے والا، عبرت کی مثال بن گیا ہے۔ یہ اپنے گھر میں سیکیورٹی کے بغیر سکون سے سو بھی نہیں سکتا۔ کیڑے مکوڑے سمجھے جانے والے وکیل آج اس پر جوتے برسا رہے ہیں۔ اسفل ملازم سمجھے جانے والے جنہیں یہ گھروں سے نہیں نکلنے دیتا تھا، آج ان کے سامنے یہ انصاف کا طلب گار ہے۔ جامعہ حفصہ کی طالبات اس کے پوسٹروں پر تھوک رہی ہیں۔ وہی ٹی وی چینل جنہیں یہ جب چاہتا تھا، بند کرا دیتا تھا۔ آج اسے ایک مخولیا کردار کے طور پر پیش کر رہے ہیں.... بے بسی کی ایک ایسی عبرتناک داستان توبہ توبہ.... غرور کا سب سے بڑا دشمن وقت ہوتا ہے، یہ اس کی عمر مختصر کر دیتا ہے اور اسے جلد از جلد مٹا کر آگے گزر جاتا ہے۔

کیسا دلچسپ انجام ہے کہ 12 اکتوبر 1999ءسے اٹھارہ اگست2008ءتک اس ملک پر بادشاہ رہنے والا شخص آج تنہا اور بے یارو مددگار ہے۔ تمام کنیزیں، غلام، درباری، خدمت گار، سازندے اور گوئیے اسے یکسر فراموش کر چکے اور نئے دربار کی رونقیں بحال کر رہے ہیں۔ تاریخ کا سبق مگر یہ ہے کہ بادشاہ تبدیل ہو تو دربار خود بخود نئے بادشاہ کی ملکیت بن جاتے ہیں۔ غلام، کنیزیں اور درباری تاج کے وفادار ہوتے ہیں۔انہیں بادشاہوں کی چہروں سے پہچان نہیں ہوتی، بلکہ تاج سے ہوتی ہے یہ تاج کو پوجتے ہیں....ہم جو بھی بوتے ہیں۔ وہ ایک دن ہمیں کاٹنا پڑتا ہے۔ قسمت کسی نہ کسی صورت میں ہمیں ہمارے کئے کی سزا ضرور دیتی ہے۔ پرویز مشرف کی رعونت آج ان کی بے بسی کی صورت میں عبرت کی نئی داستان رقم کر رہی ہے.... آخر میں چھوٹی سی بات دنیا دار الامتحان ہے، اگر اس کو تماشہ سمجھو گے تو پھر خود تماشہ بن جاو¿ گے۔   ٭

مزید :

کالم -