حالات کو ڈھا لنے کا موقع آیا تو ہے

حالات کو ڈھا لنے کا موقع آیا تو ہے
حالات کو ڈھا لنے کا موقع آیا تو ہے

  

بس اب لب بام ہے۔ پاکستانی ووٹروں کو پولنگ اسٹیشن پر جانا ہے اور آئندہ پانچ سال کے لئے اپنے نمائندے منتخب کرنے ہیں۔ ان کے یہ نمائندے ملک کا انتظام چلانے کے لئے وزیر اعظم منتخب کریں گے۔ آئندہ ہفتے کا روز مقرر ہے۔ خوف، وسوسے، اندیشے اپنی جگہ برقرار ہیں۔ دھماکے، فا ئرنگ، ہلاکتیں اپنی جگہ ہیں۔ عام لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا انتخابات ہوں گے۔ اس سوال کا ٹھوس جواب یہ ہے کہ انتخابات اپنی مقررہ تاریخ پر ہوں گے۔ البتہ ایک سوال سابق چیف الیکشن کمشنر حامد علی مرزا نے اٹھا یا ہے جو بر محل ہے۔ ایک ملاقات میں وہ کہتے ہیں کہ انتخابات انشااللہ ضرور ہوں گے۔ ان کے خیال میں حالات کے پیش نظر لوگوں کی کم تعداد ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے نکلے گی۔ پھر ان کا کہنا تھا کہ دیکھنا یہ ہے کہ انتخابات کے نتائج کو مانا جاتا ہے یا نہیں اور اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کیا جاتا ہے یا نہیں ۔ حامد علی نے یہ سوال کیوں اٹھایا ہے۔ انہیں کیا خطرات نظر آرہے ہیں یا کیا معاملات درپیش ہو سکتے ہیں ۔

پاکستان اب تو ایسے کسی معاملے کا متحمل ہی نہیں ہوسکتا کہ عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو اقتدار نہیں دیا جائے۔ اگر انتخابات میں کوئی ایک جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر پاتی تو صدر پاکستان یا اسٹبلشمنٹ کو وہ غلطی نہیں دہرانا چاہے جو سن 70ءمیں مشرقی پاکستان کے معاملے میں کی گئی تھی۔ خمیازہ پوری قوم نے بھگتا۔ پاکستانی قتل ہوئے۔ پاکستان دو لخت ہوگیا۔ سینکڑوں کتابیں اس موضوع پر تحریر کی جاچکی ہیں ۔ اگر کچھ نہیں کیا گیا تو یہ ہے کہ کسی بھی پاکستانی حکومت نے اپنے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے اس پر کوئی تحقیقی کام نہیں کرایا گےا۔ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ بھی کہیں ڈھیروںمٹی میں دبی پڑی ہوگی اسے باضابطہ سرکاری طور پرشائع بھی نہیں کیا گیا۔

 2002ءمیں یہی غلطی سندھ میں دہرائی گئی تھی۔ انتخابات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اکثریتی پارٹی تھی۔ متحدہ دوسرے نمبر پر تھی اور آزاد نمائندے اور بہت چھوٹے چھوٹے گروپ تیسرے نمبر پر تھے ۔ گورنر سندھ جمہوری روایات کی اگر پاسداری کرتے اور اپنے آپ کو پابند تصور کرتے تو اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو جو پیپلز پارٹی تھی، حکومت سازی کی دعوت دیتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس لئے کہ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو پیپلز پارٹی قبول نہیں تھی۔ تیسرے نمبر پر نشستیں حاصل کرنے والے افراد کا بھان متی کا کنبہ جوڑا گیا اور انہیں حکومت سازی کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے متحدہ قومی موو منٹ سے مذاکرات کئے ، پیپلز پارٹی کے بعض اراکین کی وفاداری تبدیل کرائی اور اپنی اکثریت ثابت کرکے حکومت سازی کر لی۔ علی محمد خان مہر اس حکومت کے وزیر اعلی منتخب کرائے گئے تھے۔ بلوچستان میں بھی ہمیشہ اسی قسم کی غلطیاں کی جاتی رہی ہیں۔ ان دیکھے اندیشوں اور اگر مگر کے چکر میں پھنسی ہوئی ایسٹبلشمنٹ اپنی خواہشات کے طابع ہوتی ہے اور حکمرانوں کو کوئی سمجھانے کے لئے آمادہ نہیں ہوتا کہ پہلے نمبر پر جو گروپ بھی اکثریت حاصل کرتا ہے حکومت سازی کا موقع اسے ہی دیا جائے۔ یہ اس اکثریت کا درد سر ہونا چاہئے کہ وہ حکومت سازی کے لئے مطلوبہ تعداد کیسے بناتا ہے۔

انتخابی مہم کے دوران جس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں اور جس انداز میں متحارب گروہ ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں اس بحث میں پاکستان اور اس کی سا لمیت کے بارے میں فکر کہیں نظر نہیں آتی ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ دھماکے سندھ ، خیبر پختون خوا بلوچستان اور کراچی میں کرائے جارہے ہیں ، دہشت گرد پنجاب میں دھماکے کیوں نہیں کرتے ۔ دھماکے کراچی میں ہوں یا پشاور میں ، قوم کے لئے تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ ہر شخص اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہر حادثہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے عمل سے دور کرتا ہے ۔ عام لوگ کہتے ہیں کہ کیا کریں گے ووٹ ڈال کر، منتخب تو ان ہی لوگوں کو ہونا ہے۔ عام لوگ یہ نہیں سوچتے کہ ” ان ہی لوگوں کو منتخب ہونا ہے “ والا معاملہ تو اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب وہ ووٹ ڈالنے جائیں گے ۔ ۔ اپنی پسند کے لوگوں کو ووٹ دیں گے اور منتخب کرائیں گے تو ہی تو اپنے نمائندوں میں تبدیلی لاسکیں گے۔ کس نے انہیں روکا ہے۔ کس نے ان کا ہاتھ تھاما ہے۔

ووٹروں کا ایک گروہ اس قسم کے بھی ایس ایم ایس بھیج رہا ہے جس سے ان میں پایا جانے والا خوف نمایاں نظر آتا ہے۔ اسی لئے ایس ایم ایس کے آخر میں کہا گیا ہے کہ یا اللہ بس ہم کو اپنی امان میں رکھنا۔ پورا ایس ایم ایس کچھ اس طرح ہے ۔ ” یا اللہ اس الیکشن میں ” شیر“ کو پنجر ے میں رکھنا، ” سا ئیکل “ کو راستے میں رکھنا، ”کتاب “ کو بستے میں رکھنا، ”بلے“ کو گراﺅنڈ میں رکھنا، ”تیر “ کو کمان میں رکھنا، ” ترازو “ کو دکان میں رکھنا، ”پتنگ “ کو آسمان میں رکھنا، بس ہم کو اپنی امان میں رکھنا ، امین “ ۔ یہ ایس ایم ایس تمام سیاسی جماعتوں کے انتخابی نشان کو رد کرتا ہے جس سے تاثر ابھرتا ہے کہ لوگ انتخابات کی بجائے صرف اور صرف اپنے لئے پناہ کے خواستگار ہیں۔ حالات واقعی تسلی بخش نہیں ہیں۔ پریشانی کود آئی ہے لیکن اس پریشانی کو رفع کرنے کا حل بھی تو موجود ہے کہ لوگ جوق در جوق پولنگ اسٹیشن پر جائیں، اپنا ووٹ اپنی مرضی کے مطابق ڈالیں اور اپنی پسند کی قیادت اور نمائندے کو منتخب کرکے انہیں موقع دیں کہ وہ لوگوں کے لئے پناہ پیدا کرنے کا سامان پیدا کر سکیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ اپنی مدد آپ کرنا پڑے گی تو ہی حالات اپنی توقعات کے مطابق ڈھلیں گے۔ ختم شد۔  ٭

مزید :

کالم -