پولنگ کیلئے حفاظتی انتظامات !

پولنگ کیلئے حفاظتی انتظامات !

  

ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے ہر صورت انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان اپنی جگہ ہے۔ الیکشن کمشن کی طرف سے بھی گیارہ مئی کے لئے حفاظتی انتظامات کا منصوبہ بنا دیا گیا ہے۔ الیکشن کے لئے سکیورٹی ایجنسیوں کے جوان ڈیوٹی دیں گے، ان میں پولیس کے علاوہ پیرا ملٹری فورسز بھی ہیں اور فوج کے پچاس ہزار جوان بھی ذمہ داری نبھانے کے لئے تیار رہیں گے اور کسی بھی طرف سے بلاوے پر فوری موقع پر پہنچیں گے۔ فوج کے جوان براہ راست پولنگ سٹیشنوں پر متعین نہیں ہوں گے۔ اس مقصد کے لئے رینجرز اور فرنٹیئر فورس کو استعمال کیا جائے گا۔ یوں متعدد جماعتوں کی طرف سے براہ راست فوج کی نگرانی میں انتخابات کرانے کی اپیل منظور نہیں کی گئی البتہ کراچی کی حد تک یہ طے کیا گیا ہے کہ رینجرز کی تعداد بڑھا دی جائے گی۔الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق امن و امان کے یہ محافظ 10مئی ہی سے اپنے فرائض سنبھال لیں گے۔ جہاں تک حالیہ بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا تعلق ہے تو الیکشن کمشن نے صوبائی حکومتوں کو امن و امان بہتر بنانے کے لئے پہلے ہی سے کہہ رکھا ہے۔

حال ہی میں جو بم دھماکے اور خود کش حملے ہوئے ان میں متعدد شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے جبکہ بلوچستان میں ایک امیدوار بھی قتل کر دیئے گئے ان دھماکوں کی وجہ سے تین صوبوں سندھ، بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں انتخابی مہم آزادی سے نہیں چلائی جا سکتی تھی۔ پیپلزپارٹی ،متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی نے مشترکہ طور پر الزام لگایا کہ خفیہ ہاتھ سازش کر کے روشن خیال جماعتوں کو انتخابات سے باہر کرنا چاہتے ہیں، خیال کیا جاتا تھا کہ یہ جماعتیں احتجاج کے طور پر انتخابات ہی سے الگ نہ ہو جائیں لیکن ایسا نہیں ہوا نہ صرف ان تینوں جماعتوں نے ہر صورت انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا بلکہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں نے بھی قدم پیچھے نہیں ہٹائے اس طرح 11مئی کو انتخابات کا انعقاد مزید یقینی ہو گیا۔

الیکشن کمیشن نے حفاظتی انتظامات اور امن و امان کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کر کے اپنا فرض پورا کیا ہے حالانکہ تاحال حملوں کا یہ سلسلہ نہیں رک سکا اور متاثرہ جماعتوں کی تشویش بجا ہے۔ متعلقہ حکومتوں اور اداروں کو اس طرف بھرپور توجہ دینی ہو گی کہ شفاف انتخابات کے اعلانات موثر ثابت کئے جا سکیں، اسی طرح اب بھی تحفظات کی حامل سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے میں مدد دی جائے اور وہ جماعتیں بھی چند جلسے کر لیں تو زیادہ بہتر فضا پیدا ہو گی ویسے متحدہ حیدر آباد میں جلسہ کر کے پہل کر چکی ہے اس طرف توجہ ضروری ہے پوری قوم دعا گو ہے کہ انتخابات پر امن طور پر ہو جائیں۔   ٭

مزید :

اداریہ -