قوم دہشت گردی کے خلاف جہادکرے

قوم دہشت گردی کے خلاف جہادکرے

  

پاکستان میں برسوں سے سرگرم دہشت گرد اس وقت ہمارے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لئے اپنی پوری طاقت کے ساتھ ملک کے امن و امان کو تباہ کرنے پر تل چکے ہیں- ان کی طرف سے مختلف سیاسی اجتماعات اور ریلیوں ، سیاسی جماعتوں کے انتخابی دفاتر اور امیدواروںپر مسلسل حملے کئے جارہے ہیں- سیاسی جماعتوں ، پاکستانی فوج اور قوم کی طرف سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا جارہا ہے، لیکن دہشت گرد حملوں کا سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا- اس میں کمی کے بجائے شدت اور وسعت ہی دیکھنے میں آئی ہے -

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر ایڈم تھامسن نے عام انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن اور حکومت کی طرف سے کئے گئے انتظامات کی تعریف کی ہے اور اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ اس سلسلے میں کی جانے والی مزید کوششیں شفاف اور پرامن انتخابات کے لئے معاون ثابت ہوں گی- لیکن اگر پاکستان میں انتخابات ملتوی ہوئے تو اسے دہشت گردوں کی فتح سمجھا جائے گا- وہ برطانوی ہائی کمیشن میں میڈیا کے لوگوں سے بات چیت کررہے تھے- انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیکورٹی کے ادارے پرامن فضا میں انتخابات کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے- دہشت گردی کے واقعات کسی طرح بھی انتخابات پر اثر انداز نہیںہوںگے-

پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرف سے انتخابات کے انعقاد کی دو ٹوک الفاظ میں یقین دہانی کے بعدسیاستدانوں اور مختلف دوسرے قومی حلقوں کی طرف سے انتخابات کے سلسلے میں غیر یقینی اور شکوک و شبہات کی صورتحال ختم ہو نے کی بات کی جارہی ہے- اب ایک غیر جانبدار اور باہر سے ہمارے ملکی حالات کا جائزہ لینے والے سفارت کا ر کی طرف سے یہ کہنا کہ دہشت گردی کے واقعات کسی طرح بھی انتخابات پر اثر انداز نہیں ہوں گے اور سیکورٹی کے ادارے پرامن فضا میں انتخابات کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے، الیکشن گیم کے تمام کھلاڑیوں سے بڑھ کر وزن رکھنے والی بات ہے- کسی دوسرے ملک میںبیٹھ کر حالات کاجائزہ لینے والے تجربہ کا راور زیرک سفارتکارکی بات ہمیشہ بہت جچی تلی اور محتاط اندازوں پر مبنی ہوتی ہے- دہشت گردسرگرمیوں کا انتخابات پر کسی طرح بھی اثر انداز نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گردنہ تو اپنی ان کارروائیوں سے انتخابات ملتوی کراسکتے ہیںاور نہ ان کی دہشت گردی سے کسی جماعت کے ووٹوں میں عوام کی ہمدردی میں اضافہ یا ان جماعتوں کی انتخابی سرگرمیاں محدود ہوجانے سے کمی ہو سکتی ہے- ایڈم تھامسن نے الیکشن کمیشن اور حکومت کی طرف سے انتخابات کے سلسلے میں کئے گئے جن انتظامات کی تعریف کی ان کی قوم بھی معترف ہے- الیکشن کمیشن نے پولنگ کے دن منصفانہ اور شفاف ووٹنگ اور ہر طرح کی دھاندلی اور بددیانتی سے اس عمل کو پاک رکھنے کے لئے ایک بہت بڑی ذمہ داری نبھانی ہے-اس دن اگر بڑے پیمانے پر دھاندلی کی شکایات پیدا ہوئیں تو اس سے انتشار کی راہ ہموار ہوگی-

جہاں تک دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور بالخصوص پولنگ کو ان سے محفوظ رکھنے کا تعلق ہے اس کے لئے حکومت اور الیکشن کمیشن نے باہمی مشاورت سے کام کرنا ہے- جس کے لئے تمام انتظامات کوحتمی شکل دے دی گئی ہے- پولیس، خفیہ ایجنسیوں، کرائسس مینجمنٹ اتھارٹی،پیرا ملٹری فورسز اور فوج کو ذمہ داریاں سونپی جارہی ہیں- دہشت گردوں کے حربوں کو خاص طور پر پیش نظر رکھا جا رہا ہے- دہشت گردی سے مقابلے کے سلسلے میں ہمیں آرمی چیف کی اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا ہے کہ یہ جنگ صرف آرمی کی جنگ نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کی جنگ ہے اور اس کا مقابلہ ہم سب نے مل کر کرناہے- اس میں قوم کو متحد ہو کر کام کرنا ہو گا اورایک دوسرے کو الزامات دینے کے بجائے ہر کسی کو اپنا اپنا فرض پہنچاننا ہو گا- اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی اپنی تنظیمی سطح پر بھی دہشت گردوںکی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور ان کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے مستعدی سے کام کریں - انتخابات میں حصہ لینے والی ہر جماعت اور گروہ کا یہ فرض ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنی کارکردگی اور حب الوطنی کا ثبوت دہشت گردی کا مقابلہ کرکے دے- اس کے تدارک کے لئے اپنے نوجوانوں کو منظم کرے- گلی گلی ، محلے محلے اور گاﺅں گاﺅں میں لوگوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے منظم کیا جائے - دہشت گردوں سے ہمدردی اور تعاون کرنے والوں کا سراغ لگایا جائے ان کے گرد گھیرا تنگ کیاجائے- خاص طور پر پولنگ کے دن سیاسی رضاکاروں کو خصوصی طور پر متحرک کئے جانے کی ضرورت ہے-

تعجب کی بات یہ ہے کہ جن جماعتوں نے کراچی جیسے شہروں میں بھتے وصول کرنے یا زمینوں پر قبضے کے لئے مسلح کارکن تیار کر رکھے ہیں اور جن کی وجہ سے پرامن شہریوں کی زندگی عذاب میں رہی ہے، اب وہ دہشت گردی کے مقابلے میں خود کو سب سے زیادہ مظلوم ثابت کرنے کے لئے واویلا کر رہی ہیں - ان سے پوچھا جانا چاہئیے کہ کیا ان کے مسلح کارکن صرف بھتے وصول کرنے اور شریف شہریوں کی زندگی عذاب میں مبتلا کرنے کے لئے ہی ہیں - کیا وہ ان منظم افراد سے دہشت گردوں کا قلع قمع کرکے کوئی حقیقی نیک نامی حاصل کرنے کا نہیں سوچ سکتے-؟

تبدیلی لانے کے خواہش مند سیاستدان یا بہت تجربہ کار اور مضبوط سیاستدان جو آج تک ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے رہے ہیں اور سیاسی نعروں اور تضحیک آمیز فقروں ہی سے حریف کو نیچا دکھانے کی کوشش میں رہے ہیں ان سے بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر نوجوانوں اور محب وطن عوام کی بڑی تعدا د واقعی ان کے ساتھ ہے تو پھر انہوں نے دہشت گرد لشکروں کے پاکستان پر موجودہ تابڑ توڑ حملوں کے بعد دفاع پاکستان کے لئے اپنے لوگوں کی صف بندی کس طرح کی ہے- ؟ کتنے لوگوں کو ان وطن دشمنوں کے مقابلے میں اتارا ہے-؟ افواج پاکستان کے سالار کے دو ٹوک الفاظ میں قوم سے افواج کا ساتھ دینے کی ضرورت واضح کرنے کے بعد ان سے کتوں کے ضمیر جاگے ہین اور بیدار ضمیر اور فعال کردار کا ثبوت انہوں نے کس طرح دیا۔؟مذہبی جماعتیں جو جہاد کے جذبے سے نوجوانان وطن کو سرشار رکھنے کی کوشش میں رہتی ہیں انہیں بھی دہشت گردی کے خلاف جہاد میں آگے آنا اور اپنا فرض نبھانا چاہئیے-

کالجوں اور یونیورسٹی کے نوجوانوں کو چاہئیے کہ وہ دہشت گردی کے مقابلہ کے لئے خود کو منظم کریں - حکومت کے لئے لازم ہے کہ وہ ایسی رضاکار تنظیموں کی تربیت کا انتظام کریں جو دہشت گردوں کے مقابلے کے لئے خود کو تیار کرنا چاہتی ہیں- ہم نے دہشت گردی کے آگے ہتھیار نہیں ڈالنے اگر دشمن نے اس محاذ پر ہمیں للکارا ہے تو انشاءاللہ وہ ہمیں اس محاذ پر بھی مقابلے کے لئے تیار پائے گا- دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے-انتخابات سے پہلے اور انتخابات کے بعد قوم ان کا آخری ٹھکانہ ختم کرنے تک اپنا یہ جہاد جاری رکھے گی-

مزید :

اداریہ -