غیر ملکی اور پاکستانی میڈیا کے تجزیئے، زمینی حقائق کے خلاف!

غیر ملکی اور پاکستانی میڈیا کے تجزیئے، زمینی حقائق کے خلاف!
غیر ملکی اور پاکستانی میڈیا کے تجزیئے، زمینی حقائق کے خلاف!

  

عام انتخابات کی تاریخ قریب آتی جا رہی ہے انتخابی دفاتر، ریلیوں اور جلسوں پر حملے بھی بند نہیں ہوئے اور انتخابی مہم بھی جاری ہے ۔ تحریک انصاف کے عمران خان نے لورا لائی، جیکب آباد اور سبی میں جلسے کر کے یہ تاثر ختم کرنے کی شعوری کوشش کی کہ انتخابی مہم صرف پنجاب ہی میں جاری ہے۔ اطلاع ہے کہ میاں محمد نواز شریف بھی سندھ جائیں گے اور ٹھٹھہ میں جلسہ کرنے کے علاوہ بعض دوسرے شہروں میں بھی جلسوں سے خطاب کریں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے حیدر آباد میں ایک بڑا جلسہ کر کے اپنا حصہ ڈال دیا اور الطاف حسین نے جنرل کیانی کی تقریر کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔ تاہم پاکستان پیپلزپارٹی ابھی مرکزی طور پر پہلے جیسی حالت میں ہے البتہ امیدوار از خود کارنر میٹنگیں کر رہے ہیں، اب پیپلزپارٹی کو بھی بڑا جلسہ کر کے اس امتحان میں بھی سرخرو ہونا چاہئے۔ ابتدا میں سندھ کے کسی محفوظ شہر میں ہی بڑا جلسہ کر لیں۔ اب تو فضا قدرے بہتر ہوئی ہے تو اس کا فائدہ اٹھائیں۔ پنجاب میں بھی قیادت کو اپنی موجودگی کا ثبوت دینا چاہئے یہ نہیں کہ اپنے ہی حلقہ انتخاب میں پھنس کر رہ جائیں۔ جلسہ کئے بغیر تحفظات کا اظہار کا ایک بات ہے اور اے این پی کی طرح جلسہ کر کے نقصان اٹھانے کے بعد احتجاج اپنا اثر رکھتا ہے۔

توقع ہو رہی ہے کہ یہ جو چند روز رہ گئے ان میں صوبائی حکومتیں اور انتظامیہ موثر تر حفاظتی انتظامات کریں گی تاکہ ماحول بہتر ہو جائے۔اب تک مجموعی طور پر جو تصویر بنی اور میڈیا نے جو کچھ دکھایا اس سے تو یہی تاثر ابھرت اہے کہ ملک خصوصاً پنجاب میں صرف دو ہی جماعتیں ہیں ایک مسلم لیگ (ن) اور دوسری تحریک انصاف، عمران خان نے طوفانی دورے کر کے فضا کو گرما دیا اور بلا تحقیق اور ذہنی حقائق کو جانے بغیر تجزیئے کرنے والوں کو قلم چلانے کے مواقع مہیا کر دیئے ہیں۔ ہم تاحال مجموعی طورپر کسی تجزیئے سے قاصر ہیں۔ نہ ہی بیرونی ممالک کے ان حضرات سے متفق ہیں جو برطانیہ یا امریکہ میں بیٹھ کر، سٹاک ایکسچینج کا اتار چڑھاﺅ دیکھ کر اورپاکستانی میڈیا سے متاثر ہو کر کسی ایک فریق کو جتوا دیئے ہیں، افسوس تو یہ ہے کہ پاکستان کا میڈیا بھی ماضی کی طرح تحقیق اور موقع پر جا کر صحیح زمینی حقائق کی روشنی میں رپورٹ نہیں کر رہا، جن اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا والوں نے یہ سلسلہ شروع کیا وہ بھی محدود پیمانے پر ہے اور علاقائی مسائل ہی اجاگر کئے جا رہے ہیں، بہرحال تاحال ہم مکمل طور پر حتمی رائے سے گریز پا ہیں۔

جو حالات سامنے ہیں ان کی رو سے تو انتخابی مہم اور بعض علاقوں کی گہما گہمی سے خوشی اور غم کی کیفیت میں مبتلا ہوا جا سکتا ہے۔ بظاہر حالات یہ ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم (پنجاب) اور اس کے مقابلے میں تحریک انصاف کے جلسے دونوں کی شہرت کا باعث بن رہے ہیں۔ عمران خان کی تحریک انصاف بتدریج نوجوانوں کی مقبول جماعت نظر آتی ہے اور جوں جوں 11مئی قریب آ رہی ہے ویسے ویسے گھرانوں میں تقسیم بڑھتی جا رہی ہے۔ بزرگ ایک جماعت کی بات کرتے ہیں تو نوجوان تحریک انصاف کی طرف جھکاﺅ کا اعلان کر دیتے ہیں، یوں یہ تو کیا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کی مقبولیت بڑھی ہے لیکن حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سونامی واقعی بن گیا اگرچہ بتدریج لہریں شور مچا رہی ہیں۔جہاں پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو دو ایک بڑے شہروں کو چھوڑ کر باقی تمام حلقوں میں امیدوار اپنا زور لگا رہے ہیں۔ موروثی حلقوں والے کسی بڑے راہنما کے بغیر ہی اپنے تعلقات کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ اس لئے اس جماعت کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ اس لئے اس جماعت کو کھاتے سے باہر نہیں نکالا جا سکتا، کئی حلقوں میں پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے جوڑ سے فائدہ ہو گا اور بہت سے ایسے حلقے میں جہاں جماعت اسلامی کے امیدوار کی موجودگی مسلم لیگ ن کے لئے نقصان دہ ہو گی تحریک انصاف والے نوجوانوں کی حد تک پیپلزپارٹی کے لئے بھی چیلنج بنتی جا رہی ہے لہٰذا دوستوں! محتاط رہو، ابھی حتمی رائے قائم نہ کرو اور نشستوں کا حساب لگانا بند کر دو، بظاہر معلق پارلیمنٹ کے آثار ہیں۔

مزید :

تجزیہ -