بینظیر قتل کیس:مشرف کیخلاف پیش ہونے والے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار قاتلانہ حملے میں جاں بحق، میت آبائی گاﺅں روانہ ، محافظ زخمی

بینظیر قتل کیس:مشرف کیخلاف پیش ہونے والے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار ...

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر کی گاڑی تلے کچل کر ایک راہگیر خاتون بھی جاں بحق ، بے نظیر قتل کیس کی سماعت ملتوی

بینظیر قتل کیس:مشرف کیخلاف پیش ہونے والے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار قاتلانہ حملے میں جاں بحق، میت آبائی گاﺅں روانہ ، محافظ زخمی
بینظیر قتل کیس:مشرف کیخلاف پیش ہونے والے سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار قاتلانہ حملے میں جاں بحق، میت آبائی گاﺅں روانہ ، محافظ زخمی

  

 اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)سابق فوجی صدر پرویز مشرف کیخلاف بینظیر قتل کیس میں پیش ہونیوالے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی ( ایف آئی اے) کے پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار نامعلوم افرادکی فائرنگ سے جاں بحق اور ان کا محافظ زخمی ہوگیاجبکہ سرکاری وکیل کی گاڑی کی ٹکر سے ایک راہگیرخاتون بھی جاں بحق ہوگئی۔ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق چوہدری ذوالفقار کو تیرہ گولیاں لگیں ، دماغ میں گولی لگنے سے موت واقع ہوئی ،پوسٹمارٹم کے بعد میت دینہ روانہ کردی گئی ۔دوسری طرف سابق خاتون وزیراعظم کے قتل کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کردی گئی ۔چوہدری ذوالفقارانسداد دہشت گردی کی عدالت میں بینظیر قتل کیس میں پیش ہونے کیلئے جمعہ کی صبح اپنی گاڑی خود ہی چلاتے ہوئے سیکٹر جی نائن میں واقع اپنے گھر سے نکلے ہی تھے کہ سات بج کر بیس منٹ پر گھر کے قریب ہی نامعلوم افراد نے عقب سے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے جبکہ اُن کی گاڑی نے بے قابو ہوکر ایک راہگیر خاتون کو کچل دیا۔ چوہدری ذوالفقار اور اُن کے محافظ کو زخمی حالت میں پمز ہسپتال منتقل کیاگیاجہاں ڈاکٹروں نے چوہدری ذوالفقار کی ہلاکت کی تصدیق کردی ۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمی محافظ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ چوہدری ذوالفقار ممبئی حملہ کیس اوربے نظیر قتل کیس سمیت کئی دیگر اہم مقدمات میں بھی ایف آئی کے پراسیکیوٹر تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کرنے والے دو افراد تھے جو پیدل تھے اور انہوں نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے،واقعہ کے بعد اُنہیں بغیر نمبر پلیٹ والی ٹیکسی میں لے جایاگیا۔ پمز ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی چوہدری ذوالفقارکاانتقال ہوچکاتھا، اُن کے محافظ کی حالت خطرے سے باہر ہے ،ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول کے جسم پر زخموں کے سترہ نشان ہیں ، سر اور چہرے پر دو دو ، چھاتی پر تین ، دائیں اور بائیں بازو پر بھی زخموں کے نشان ہیں ۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق چوہدری ذوالفقار کے دونوں بازﺅں اور سرکی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے ، موت دماغ میں گولی لگنے کی وجہ سے ہوئی ہے ۔پمزہسپتال کے ترجمان کے حتمی رپورٹ آنے میں ایک دو دن لگ سکتے ہیں ۔ پوسٹمارٹم کیلئے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش کو چوہدری ذوالفقار کے آبائی گاﺅں میں تدفین کیلئے دینہ (گجرات) روانہ کردیاگیاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ چوہدری ذوالفقار کے جسم سے صرف ایک گولی نکالی گئی ہے اور واردات سے محسو س ہوتاہے کہ کارروائی کسی کالعدم تنظیم کی ہے ۔دوسری طرف پولیس نے زخمی محافظ فرمان کا ابتدائی بیان ریکارڈ کرلیاہے جس کے مطابق فائرنگ کرنیوالے افراد موٹرسائیکل پر سوار تھے اور گاڑی کے عقب سے فائرنگ کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق چوہدری ذوالفقار نے ملزمان رفاقت اور حسین کیخلا ف تین اہم شہادتیں اکٹھی کی تھیں ، سی آئی ڈی افسران کو بھی بیان ریکارڈ کرانے پر دھمکیاں دی گئی تھیں جن کی وجہ سے ایک افسر نے بیان دینے سے انکار کردیاتھا۔ ذرائع نے بتایاکہ دھمکیوں کی رپورٹ لاہور کے ایک تھانے میں درج ہے جبکہ ڈی جی ایف آئی اے نے آئی جی پنجاب کو لکھاکہ سی آئی ڈی افسران کی گواہی اہم ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق جائے حادثہ سے گولیوں کے خول ملے ہیں ، چوہدری ذوالفقار کو دس سے زائد گولیاں لگیں،بعدازاں ایف آئی اے کی ٹیم نے جائے فائرنگ کا دورہ کیا اور چوہدری ذوالفقار کی گاڑی اور جائے وقوعہ کا جائزہ لیا ۔ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی راولپنڈی اور اسلام آباد کے وکلاءنے مکمل ہڑتال کردی جبکہ لاہور ہائیکورٹ بار کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں دہشتگردی اور پراسیکیوٹر کے قتل پر بات چیت کی گئی ۔دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بینظیر قتل کیس کی سماعت کسی کارروائی کے بغیر 14مئی تک ملتوی کردی ہے۔واضح رہے کہ قبل ازیں رینٹل پاور کیس کے تفتیشی افسر بھی انتقال کرچکے ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اُنہیں قتل کیاگیاجبکہ بعض کا کہناہے کہ اُنہوں نے خودکشی کی تاہم مقدمہ تاحال زیرسماعت ہے ۔

مزید :

قومی -Headlines -