لاپتہ افراد کیس: سپریم کورٹ نے ڈی جی آئی ایس آئی اور ایم آئی سمیت فریقین کو نوٹس جاری کردیا، دو لاپتہ افراد کی اہل خانہ سے ملاقات کا حکم

لاپتہ افراد کیس: سپریم کورٹ نے ڈی جی آئی ایس آئی اور ایم آئی سمیت فریقین کو ...
لاپتہ افراد کیس: سپریم کورٹ نے ڈی جی آئی ایس آئی اور ایم آئی سمیت فریقین کو نوٹس جاری کردیا، دو لاپتہ افراد کی اہل خانہ سے ملاقات کا حکم

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں ڈی جی آئی ایس آئی ، ڈی جی ایم آئی اور اٹارنی جنرل سمیت تمام فریقین اور متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کردیئے جبکہ خیبرپختونخواہ سے پیش کیے جانیوالے دولاپتہ افراد کی اہل خانہ سے ملاقات کرانے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت خیبرپختونخواہ سے لاپتہ ہونیوالے محمد ابراہیم اور ہدایت شاہ کو عدالت میں پیش کردیاگیا۔ خیبرپختونخوا کے سیکریٹری داخلہ اعظم خان نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ملزموں سے اسلحہ برآمد ہوا ہے اور دونوں افواج پرحملوں کے لیے انتہاپسندوں کی مدد کررہے تھے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیکیورٹی اداروں کوکسی کی آزادی سے کھیلنے کا کوئی اختیار نہیں ،اسلحہ ملا تھا توعدالت میں پیش کرتے، حراستی مرکزمیں کیوں رکھا؟ جس پر اعظم خان کا کہنا تھا کہ سول ریگولیشنزقانون کے تحت ان افراد کوحراستی مراکزمیں رکھا جاسکتا ہے، قانون غلط ہے توعدالت اسے کالعدم قراردے دے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئین اورقانون کسی کوغیرمعینہ مدت تک حراست میں رکھنے کی اجازت نہیں دیتا، آپ اپنا رویہ دیکھیں ،کیوں نہ آپ کو معطل کرکے جیل بھجوادیا جائے؟ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ مسلح افواج نہیں گورنر حراستی مراکزکی اتھارٹی ہیں، کبھی قانون بھی پڑھ لیا کریں صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے اور عدالت نے دونوں افراد کی اہل خانہ سے ملاقات کرانے کا حکم دیدیا۔ لاپتہ ہونیوالے قیدیوں کے وکلاءنے رہائی کیلئے متفرق درخواست دائر کردی اور موقف اپنایاکہ اُن کے موکلوں کو کسی بھی عدالت میں پیش کیے بغیر سزا سنائی گئی ، عبدالباسط اور ماجد کو پانچ سال جبکہ دیگر کو چودہ سال سزاہوئی ۔ طارق اسد ایڈووکیٹ کاکہناتھاکہ سات قیدیوں کو حراستی مرکز میں لے جاکر سزائیں سنائی گئیں ، ایک شخص آیا اور سزا کر چلاگیا، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ منصف تحصیل دار تھا۔ درخواست پر عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 14مئی کو جواب طلب کرلیا۔

مزید :

انسانی حقوق -اہم خبریں -