پاک فوج کو سلام

پاک فوج کو سلام
پاک فوج کو سلام

  



حامد میر کو اﷲتعالیٰ صحت اور لمبی زندگی دے ۔ ان پر حملے کی ملک کے ہر حلقے نے مذمت کی ہے، لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس حملے کی آڑ میںپاک فوج کے ادارے آئی ایس آئی پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج ایک منظم اور باوقار ادارہ ہے، لیکن ظاہر ایسے کیا گیا ہے کہ کسی عام سیاسی عسکری گروپ کی طرح آئی ایس آئی نے ذاتی طور پر حملہ کرایا ہے۔ الزام ثابت ہو یا نہ ہو ،یہ بعد کی بات ہے، مگر اس الزام سے ادارے کی جو ساکھ خراب ہوئی ہے ، ملک سے باہر جو بدنامی ہوئی ہے ،اس کا ذمہ دار کون ہے؟

پا ک فوج اور پاکستان .... یہ الگ نہیں ہیں ۔ فوج کمزور ہوگی تو پاکستان کمزور ہوگا اور فوج کو کمزور کرنا ہی تو دشمنان پاکستان کا ایجنڈا ہے ۔ ہماری انتہائی بدقسمتی ہے کہ پاکستان واحد ملک ہے ،جہاں آپ لسانی یا مذہبی بنیاد پر سیاسی جماعت بنا کر ببانگ دہل وطن عزیز کی بنیادوںپر وار کر سکتے ہیں ۔ہونا تو یہ چاہئے کہ آپ کو اٹھا کر بحیرہ¿ عرب میں پھینک دیا جائے، لیکن گھبرائیے نہیں، اگر آپ اپنی قماش کے چند لوگوں کو ساتھ ملا کر ایک پریشر گروپ بنانے میں کامیاب ہوگئے تو حکمران ہاتھوں میں گلدستہ لئے آپ کی قدم بوسی کے لئے حاضر ہوں گے ۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہر اخبار نے یہ خبر شائع کی تھی کہ خیبر پختونحوا سے تعلق رکھنے والے ایک قومی لیڈر اپنی جماعت کے نوجوانوں سے اردو میں خطاب کرنے لگے تو نوجوان اردو کے خلاف نعرے لگانے لگے اور اپنے لیڈر سے پشتو میں خطاب کرنے کا مطالبہ کرنے لگے ۔نام نہاد قومی لیڈر کہنے لگے کہ دل تو میرا بھی اردو میں خطاب کرنے کو نہیں چاہتا، مگر یہاں میڈیا کے نمائندے بھی بیٹھے ہیں، ان کو سمجھانے کے لئے اردو میں خطاب کرنا مجبوری ہے، حالانکہ اس لیڈر کو اپنے نوجوانوں کو کہنا چاہئے تھاکہ اردو ہماری قومی زبان ہے، سبھی بھائیوں کے درمیان رابطہ کی زبان ہے، لیکن جناب یہ کیوں ایسا کہتے، ان کی دکان داری توچل ہی نفرت اور تعصب پر رہی ہے ۔

جب ہم نے یہ خبر پڑھی تویقین تھا کہ پورے ملک میں احتجاج کی لہر اٹھے گی اور حکمران جماعت بھی اس کا نوٹس لے گی، لیکن قربان جائیے اپنی قوم کی بے حسی پر، کسی نے اس خبر کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ اس ”قومی لیڈر“ کی جماعت خیبر پختونخوا کی حکمران تھی ،قومی الیکشن میں نہ صرف بری طرح ہاری، بلکہ مرکز میں اپنی حکمران اتحادی جماعت کو بھی لے ڈوبی ۔ اس سے یہ مثبت پہلو بھی نکلا کہ قوم کا اجتماعی ضمیر ابھی زندہ ہے جس نے منفی سوچ رکھنے والے سیاست دانوں کو مسترد کردیا۔ عوام نے تو کسی حد تک اپنا فرض ادا کردیالیکن جو آئین ساز یامقتدرطاقتیں ہیں، وہ اپنا فرض کماحقہ ادا نہیں کررہیں اور ہر ایک کو کھلی چھٹی ہے کہ لسانی،مذہبی یا صوبائی تعصب پر مبنی سیاست بازی کرے ،جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ قوم ذہنی طور پر بانجھ ہوتی جارہی ہے، کیونکہ اختلاف رکھنے والوں سے جینے کا حق چھینا جارہا ہے ۔ بسیں روک کر مسافروں کے شناحتی کارڈ چیک کئے جاتے ہیں اور بےگناہ شہریوںکو قطار میں کھڑا کرکے گولی ماردی جاتی ہے ۔

پاکستان دشمنی پر مبنی پروپیگنڈا اور سیاست ترقی کرکے اب براہ راست پاک فوج کو نشانہ بنا رہی ہے ۔ فرد واحد کی غلطیوں اور اعمال کا ذمہ دار پورا ادارہ نہیں ہوسکتا،جس کی نمایاں مثال پرویز مشرف ہیں ۔ انہوں نے جوکیا وہ صرف انہوں نے کیا، فوج بحیثیت ادارہ اس کی ذمہ دار نہیں ۔ اسی لئے مقدمات کا سامنا صرف پرویز مشرف ہی کررہے ہیں ۔ اﷲتعالیٰ پاکستان کو سلامت رکھے،یہ ہے تو ہم ہیں ۔سیاست دانوں اور حکمرانوں میں سے کسی کے پاس برطانیہ کی نیشلنیٹی ہے تو کسی کے پاس کینیڈا کی ۔ یہ لوگ تو اپنے اصل ملک کو لوٹ جائیں گے ، ہم کدھر جائیں گے، ہمارے پاس تو کوئی اور ”آپشن“ بھی نہیں ۔ پاک فوج ہی ملک کی بقا کی ضامن ہے ، پوری قوم کو اس کی پشت پر کھڑا ہونا چاہئے ۔ سیلاب آجائے ، طوفان آجائے یا زلزلہ۔ پاک فوج ہی آگے آتی ہے ۔ پاکستان کے لئے اس کے ہزاروں جوان شہید ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔ یہ جوان امریکہ، کینیڈایابرطانیہ سے نہیں آئے، بلکہ ہمارے ہی بیٹے اور بھائی ہیں ۔ پاک فوج ہمارے لئے قربانیاں دے رہی ہے ، اس کے خلاف پروپیگنڈا نہ صرف ہمارے لئے تکلیف دہ ہے، بلکہ یہ رحجان پاکستان کی سلامتی کے لئے بھی خطرناک ہے ۔ اس سلسلے کو پوری قوت سے روکنے کی ضرورت ہے۔یہ ہر شہری کی آواز ہے ۔آخر میں پھر یہی بات کہ فوج ، پاکستان اور عوام الگ نہیں ہیں ۔ فوج اگر پاکستان کے لئے قربانیاں دیتی ہے تو پاکستان کے سارے شہری، بزرگ اور مائیں بہنیں بھی ہر دم ا س کے لئے دعاگو ہیں ۔ اﷲتعالیٰ پاکستان اور پاک فوج کو سلامت رکھے۔  ٭ 

مزید : کالم


loading...