قومی طبی کونسل کو اس کا قانونی جواز لوٹا دیجئے

قومی طبی کونسل کو اس کا قانونی جواز لوٹا دیجئے

  



اداروں کی اہمیت ہر دور میں مسلمہ رہی ہے ۔ بالعموم یہی کہا جاتا ہے کہ شخصیات آنی جانی ہوتی ہیں اور ادارے قائم رہتے ہیں۔ درحقیقت ادارے اور شخصیات دونوں لازم و ملزوم ہوتے ہیں ۔ ادارے شخصیات بناتی ہیں اور انہی کی بدولت ان کے وجود کو استقرار و دوام میسر آتا ہے۔ اسی طرح اگر ادارے موجود نہ ہوں ، ان کا لگا بندھا نظام نافذ العمل نہ ہو اور ان کے قواعد و ضوابط پر کاربند رہنے کو ضروری نہ سمجھا جاتا ہوتو انتہائی قابل اور اہل شخصیت بھی ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں ناکام رہتی ہے۔

 ہمارے اجتماعی نظام کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ہم نے نہ تو اداروں کو ٹھوس بنیادوں پر استوار ہونے دیا اور نہ ہی ان کے لئے ایسی شخصیات کا انتخاب کیا جو اپنی اہلیت و قابلیت ، دیانت و امانت ، خلوص واخلاص اور سعی وجہد سے اداروں کی کارکردگی بہتر بناتیں ، ان کے افادی پہلو کو اجاگر کرتیں اور ان کے معیارات قائم کرتیں ۔ ایسی شخصیات کے نہ ہونے کی وجہ سے بنے بنائے ادارے تباہ و برباد ہوگئے ، اور اداروں کے ٹھوس بنیادوں پر قائم نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی قابل، اہل ، دیانت دار اور مخلص شخصیات سے قومی اور ملکی سطح پر استفادہ نہ کیا جاسکا۔

 اگر ادارے پروفیشنل نوعیت کے ہوں تو ان کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے ، اس لئے کہ وہ قوم وملک کی تعمیر وترقی کے حوالے سے دوسرے اداروں کی نسبت زیادہ اہم شمار کئے جاتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے متعلقہ ادارے ان میں زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ کسی بھی قوم کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ ان شخصیات کو تیار کرتے ہیںجنہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں قوم کی راہ نمائی کرنا ہوتی ہے اور ملک کو ترقی کی طرف لے جانا ہوتا ہے۔ پھر ایسے ادارے بھی ہوتے ہیں جو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ قوم کی جسمانی صحت سے متعلقہ ذمہ داریاں بھی نبھاتے ہیں ۔ قومی طبی کونسل انہی اداروں میں سے ایک ہے۔

قومی طبی کونسل منتخب اور نامزد افراد سے تشکیل پاتی ہے ۔ اس اعتبار سے یہ ادارہ جمہور اطباءکے اعتماد کا امین بھی ہوتا ہے ، اور نامزد افراد کی صورت میں حکومت کی نمائندگی کا ترجمان بھی۔ انتخابی عمل اور نامزدگی کا عمل بسا اوقات حسین امتزاج کو جنم دیتا ہے جو ادارے کی کارکردگی پر یقینی طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ قانونی طور پر یہ ادارہ پانچ سال کے لئے معرض وجود میں آتا ہے، اس مدت کے خاتمے کے بعد از سر نو انتخابی عمل انعقاد پذیر ہوتا ہے ۔ اس عمل کی تکمیل کے بعد سات روز کے اندر کامیاب امیدواروں کے نوٹیفکیشن کا اجراءقانونی تقاضا ہوتا ہے۔ بعدازاں نامزدگیوں کا عمل مکمل کیا جاتا ہے اور یوں نئی کونسل معرض وجود میں آکر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیتی ہے۔

اصولی طور پر یہ سارا عمل بلا کسی حیل وحجت اور رکاوٹ کے سرانجام پانا چاہیے ،لیکن بدقسمتی سے ایسا ہو نہیں پاتا۔ جب بھی قومی طبی کونسل کے انتخابات کے انعقاد کا مرحلہ آتا ہے ، سازشوں کے تانے بانے بننے شروع ہوجاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے عہد حکومت کے آخری حصے میں قومی طبی کونسل کے انتخابات ، سابقہ کونسل کی مدت کے اختتام پر ، منعقد ہوجانے چاہئے تھے، لیکن انتخابات سے محض دو یوم پیشتر سازشی عناصر نے انتخابات کو ملتوی کروادیا، حالانکہ بیلٹ پیپرز تک چھپ چکے تھے۔ انتخابی مہم نقطہ¿ عروج پر پہنچ چکی تھی۔ ووٹنگ کے تمام انتظامات تکمیلی مراحل طے کرچکے تھے ۔ تب حکومت نے اچانک انتخابات ملتوی کئے اور کونسل کے لئے ایڈمنسٹریٹر کا تعین کردیا گیا ۔اصولی طور پر ایڈمنسٹریٹر کی مدت بھی ایک سال ہوتی ہے ۔ لیکن جب اصول و قواعد اور قوانین کو بازیچہ¿ اطفال بنا دیا جائے تو قانون اور ضابطے اپنی اہمیت و وقعت کھو بیٹھتے ہیں ۔ ایک سال سے زائد مدت گزر گئی تھی اور انتخابات کا نام ونشان دکھلائی نہیں دیتا تھا۔ اللہ اللہ کرکے انتخابات منعقد ہوئے ۔اسی دوران نئی حکومت بھی معرض وجود میں آچکی تھی لیکن قومی طبی کونسل ، انتخابات کے انعقاد کے باوجود ، تشکیل نہ پاسکی ۔ نہ تو کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن بوجوہ کیا گیا اورنہ ہی نامزد امیدواروں کا۔ ا س وقت تک انتخابی مرحلہ مکمل ہونے کو تقریباً نو ماہ گزرنے کو ہیں ، لیکن قومی طبی کونسل ہنوز اپنی تشکیل نو کی منتظر ہے ۔دوسری جانب ایڈمنسٹریٹر کی قانونی مدت گزرے بھی طویل عرصہ ہوچکا ۔ اب نہ جانے غیر قانونی مدت کی قانونی و آئینی حیثیت کیا ہوگی؟ َ

ہم وزارت ہیلتھ ریگو لیشنز کے ذمہ داران سے درخواست کریں گے کہ وہ قومی طبی کونسل کی تشکیل نو کو فوری طور پر یقینی بنائیں۔ اس ادارے کو اب اس کا قانونی جواز، کسی تاخیر کے بغیر ، مل جانا چاہیے تاکہ یہ طب و اطباءکے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے بحسن وخوبی عہدہ برآ ہو سکے۔ ٭

مزید : کالم