تربیت و تعلیم !

تربیت و تعلیم !
تربیت و تعلیم !

  



مجھ سے بڑی بہن شہزادی کو بچپن ہی سے میلے کُچیلے بچوں سے سخت نفرت تھی ، بلکہ وہ تو سچی مُچی اُنہیں مارنے پہ آجاتی تھی اور ہم سارے بہن بھائی شہزادی کی اس عادت سے محظوظ ہوتے ۔ مُجھ سے چھوٹی مُنی چونکہ گھرمیں سب سے لاڈلی ہے سو اُسے پوراخاندان پیارکرتاہے۔ اب شادی کے بعد مُنی کے دو مُنے ہوگئے لیکن سب پیارسے اُسے اب بھی مُنی ہی کہتے ہیں ۔جب شہزادی غصے میں پاگل ہونے لگتی تو اکثرمُنی کہتی ”اگرتمہارے بچے ایسے میلے کُچیلے اور ©”کِجڑے‘ ‘ ہوئے تو پھرکیاکروگی؟ تو شہزادی روانی میں کہہ دیتی اگرمیرے بچے ایسے ہوئے تو میں اُن کاگلہ دبادونگی۔ ایک قہقہہ اُبھرتااور شہزادی اپنی باتوں کو طرح طرح کے عقلی دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کرتی۔ شہزادی جسے ماں نے ”وسو“ بلاناشروع کیااور آج تک ”وسو“ ہی کہتے ہیں ، اُس کی کزن سے شادی ہوگئی ، اب اُس کی تین بیٹیاں اور ایک چاند سابیٹاہے۔ وسو کے خاوند جام افضل سعوی عرب میں بہَ سلسلہِ روگارمُقیم ہیں جبکہ وسواپنے گھرمیں اپنے بچوں کے ہمراہ خوش وخرم ہے۔ میرے ساتھ ساتھ کسی کو یقین نہیں آتاکہ شہزادی نے اپنے بچوں کی تربیت کیسے کی ہے۔ گاﺅں میں بچوں کی نشوونماتو دوربچوں کاہاتھ میں آجانابڑی بات ہوتی ہے، خاص طورپرجب آپ کسی ایسے گاﺅں سے تعلق رکھتے ہوں جہاں آموں کے باغات ہوں ، مالٹا،گنااور دیگرپھلوں کی فراوانی ہووہاں بچے کو آپ اپنے باغات سے تو روک سکتے ہیں لیکن چچاﺅں، ماموں اور دیگررشتہ داروں کے لئے وہ لاڈلاہوتاہے۔ ایک بارشہزادی کے گھرجاناہواتو دیکھااُس کی بڑی بیٹیاں کِرن اور ارم جن کی عمریں بہ مُشکل بالترتیب پانچ اور تین سال ہونگی بیڈ پربیٹھی ہوئی ہیں، پھولدارفراک ، چھوٹے چھوٹے جوتے ، آنکھوں میں کاجل اور ہاتھوں میں روایتی چوڑیاں پہنی ہوئی ہیں۔ ایسے جیسے چھوٹی چھوٹی پریاں۔وہ اِس انداز میں ملیں کہ ماموں کاپیاربھی پوراہوگیالیکن ساتھ اُن کے کپڑوں پہ سلوٹ بھی نہیں آئی۔ بلکہ کِرن نے تو ایک بارکہہ ہی دیا”ماموں میرے کپڑوں کو مٹی والے ہاتھ نہیں لگائیں“۔ وہ بیٹ پرہی بیٹھے بیٹھے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں کہ ایساکرو، ایسانہیں کرو۔ اگرچہ وسو عمرمیں مُجھ سے بڑی تھی لیکن اُس دن مجھے یہ یقین آگیاکہ آپ کی نیت ٹھیک ہوتو آپ وہ حاصل کرلیتے ہیں جو حاصل کرنے کی ٹھان لیں۔تربیت یقیناعلم کاپہلازینہ ہوتی ہے۔

ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹررضوان نصیر جنہوں نے جوانی میں اپنی منزل کی راہ متعین کی اور اُسی دن سے یہ ٹھان لی کہ یہ کام میں نے کرناہے ۔آج ریسکیو 1122نہ صرف پنجاب کے کونے کونے میں نظرآتی ہے بلکہ تحصیل کی سطح پرپھیلتی جارہی ہے۔ عوام سے حوصلہ افزاپیغامات میں ریسکیورز کو فرشتے کہاجاتاہے۔ اﷲتعالیٰ کافرمان ِ مبارک ہے کہ

”جس نے ایک انسان کی زندگی بچائی گویااُس نے پوری انسانیت کو بچایا“۔

زندگیاں بچانے کاکام ریسکیورز کرتے ہیں ۔کیسے؟ یہ وہ سوال ہے جس کے جواب میں عزم، لگن ، محنت اور ایمانداری کاجذبہ کوٹ کوٹ کربھراہے۔ ڈاکٹررضوان نصیرنے ریسکیورز کی تربیت کوپہلافریضہ جانتے ہوئے ایک موثرنظام کانفاذ کیا۔ دوسرے لفظوں میں اُنہوں نے پاکستان آرمی ، ایلیٹ فورس اور دیگرتربیت یافتہ فورسس کے ماہرانسٹرکٹرز کی خدمات حاصل کیں ۔ تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور ایمرجنسی سے وابسطہ پروفیشنلز کی خدمات لی گئیں اور اُنہیں ریسکیورز کو تربیت دینے کااہم فریضہ سونپاگیا۔ پچھلے دِنوں ٹریننگ ونگ کے سربراہ ڈاکٹرفرحان خالد سے تفصیلی گفتگوہوئی تو اُنہوں نے بتایاکہ ڈی جی ریسکیو پنجاب کاویثرن بالکل جدید اور باہرکے ممالک میں ایمرجنسی سروسز کی ورکنگ اور اُن کی کارکردگی کے عین مطابق ہے۔ اُن کاویثرن تھاکہ ایک ایسی ایمبولینس ہو جس میں ابتدائی طبی امداد بہم پہنچانے کامکمل سامان موجود ہو۔ پھرمریض کو وہ امداد فراہم کرنے کےلئے تربیت یافتہ عملہ ہوجو اُنہوں نے ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن کی صورت میں اپنے خواب کی تکمیل کی۔

 ڈاکٹرفرحان کہتے ہیں اسی طرح جب آتشزدگی کاواقعہ ہوتاہے وہاں پریاتو آپ ”گارڈننگ سروس“ کو بھیج دیں تاکہ وہ تباہی میں اپنا کرداراداکرسکے یاپھرآپ تربیت یافتہ فائرریسکیورز بھیجیں جو خود اپنی حفاظت کےلئے سیلف کینٹین بریدنگ آپریٹس (SCBA)پہنے ہوں ، سیفٹی گلوز، ہیلمٹ اور سیفٹی شوز کے ذریعے اپنی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں اور حادثہ کی شدت کو بھی کم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ساتھ ہی ساتھ فائرفائٹنگ کےلئے جدید ساز و سامان ہوجیسے جدید فائرفائٹنگ کےلئے لیڈر، فائرٹرکس، فائروھیکل اور پانی کی فراہمی کےلئے واٹرباﺅزرزہو۔ یہ ڈی جی صاحب کاویثرن تھاکہ ہرطرح کی ایمرجنسی کو ڈیل کرنے کےلئے جدید آلات سے لیس ایک تربیت یافتہ عملہ ہوجس کی تربیت جدید خطوط پراُستوارکی گئی ہو۔ اس کے بعد ہی آپ موثرنتائج کی اُمید رکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹرفرحان دلچسپ انسان ہیں ۔ ہرکام میں نفاست پسندی اُن کی گھُٹی میں شامل ہے۔ پُراُمید اور مضبوط قوتِ ارادی کے مالک اور نیک انسان ہیں۔ کام عبادت سمجھ کرکرتے ہیں اور کام میں پرفیکشن ڈھونڈتے ہیں۔ باتوں باتوں میںکہنے لگے کہ پہلے تربیت اور بعد میں تعلیم! بچہ لاعلم ہوتاہے لیکن ماں اُس کی تربیت کرتی ہے کہ یہ آگ ہے اس سے بچناہے، جو چیز بچے کی صحت کےلئے بُری ہواُس سے روکتی ہے، اور وہی بچہ جب جوان ہونے لگے تو اُسے تعلیم دی جاتی ہے کہ کیااچھاہے اور کیابُرالیکن اُس کی تربیت پہلے ہی کردی جاتی ہے ۔ یہی اَصول ریسکیو 1122کے ریسکیورز پہ لاگوہوتاہے کہ ڈی جی ریسکیو پنجاب نے تمام ریسکیورز کی تربیت کی اور اُنہیں زندگیاں بچانے کی تعلیم دی اور آج ریسکیورز زندگیاں بچانے کے علمبردارنظرآتے ہیں۔ ٭

مزید : کالم


loading...