فی الحال پاکستان بچائیں

فی الحال پاکستان بچائیں
فی الحال پاکستان بچائیں

  



قیام پاکستان سے اب تک میڈیا کے ساتھ ٹکراﺅ کی کیفیت کے بے شمار واقعات آپ کو تاریخ میں پڑھنے کو ملیں گے لیکن ایسے ٹکراﺅ کبھی آرمی کے ساتھ نہیں ہوئے، بلکہ عموماً حکمرانوں کے ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اگر کبھی کبھار مارشل لاءکے ادوار میں ایسا ہوا بھی تو فوج کا محکمہ تعلقات عامہ اس قدر طاقت ور ہوا کرتا تھا کہ آرمی چیف اس کے سربراہ کی بات کبھی نہیں ٹالتا تھا اور ایسا کبھی دیکھنے میں نہیں آتا تھا کہ میجر جنرل یا کرنل کے عہدہ کے کسی سربراہ کو آرمی چیف محض اس لئے انتظار کرائے کہ وہ چھوٹے عہدہ کا افسر ہے یا ایک ماتحت میڈیا منیجر ہے (صدیق سالک مرحوم یا میجر جنرل راشد قریشی کی مثالیں سامنے ہیں) آپس کے معاملات نہ تو عدالتوں تک پہنچتے تھے اور نہ ہی اس قدر گرد اُڑتی تھی کہ وہ میڈیا مالکان یا آرمی جرنیلوں کے چہروں کو آلودہ کر سکے۔ جمہوری ادوار میں البتہ میڈیا کی جو لڑائیاں حکومتوں سے ہوئیں ان کی فہرست طویل ہے۔ بھٹو دور میں کتنے پریس بند ہوئے۔ کتنے ایڈیٹروں کو ہتھکڑیاں لگیں اور ان پر ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت مقدمات چلے اس کی کہانیاں آپ بہت بار پڑھ چکے ہیں۔

روزنامہ ”پاکستان“ کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی پر بھی اس دور میں مقدمہ چلا اور انہیں بھی خصوصی عدالتوں میں ہتھکڑی لگا کر پیش کیا جاتا رہا کراچی میں ”تکبیر“ کے اشتہارات بند ہوئے، تو وہ بھی پی پی پی کا عہد تھا، یعنی محترمہ بے نظیر وزیر اعظم تھیں۔ آخرمحمد صلاح الدین سے ان کا کیا اختلاف تھا؟ یہی کہ وہ سچ کہتے تھے سچ لکھتے تھے ورنہ خدانخواستہ وہ ایل پی جی یا سٹیل ملز کے کوٹہ کا لائسنس تو نہیں مانگتے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ افہام و تفہیم والے لوگ آگے آئے اور انہوں نے یہ سب معاملات حل کر دیئے،جہاں یہ حل نہ ہو سکے وہاں میڈیا نے کڑوے گھونٹ پی کر صبر کئے رکھا اور نقصانات برداشت کئے۔ جوں ہی پی پی پی کی حکومتیں، یعنی بھٹو یا بے نظیر دونوں ختم ہوئیں، حالت میں نسبتاً سدھار آیا۔ ضیاءالحق کا دور خالصتاً فوجی تھا۔ مساوات بندہوا، لوگ جیل گئے، کوڑے بھی کھائے،لیکن اب یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے اور میڈیا کا کوئی فرد ضیاءالحق کی تعریف نہیں کرتا۔ ان کے زمانے میں تو دو سال تک سنسر شپ پر بھی اس قدر جھگڑا رہا کہ انہوں نے ہر قسم کا احتجاج مسترد کر دیا اور سنسر شپ جاری رکھی۔ تاہم یار لوگ بھی باز نہ آئے اور کارٹونوں میں کئی پرندوں کو وردی میں درختوں پر بٹھا کر غصہ نکالتے رہے۔ یہ سلسلہ بھی زیادہ دنوں تک نہ چلا اور صدیق سالک کی افہام و تفہیم کی کوششیں رنگ لائیں۔ سنسر شپ ختم کر دی گئی اور پھر ماحول ساز گار ہو گیا۔

میاں محمد نوازشریف جب وزیراعظم بنے، تو اس زمانہ میں بھی میڈیا کے ایک گروپ کے ساتھ بعض عناصر نے تھوڑی بہت بگاڑ پیدا کرائی، لیکن جلد ہی صلح صفائی کی طرف معاملات چلے اور پھر دونوں اطراف سے سلجھاﺅ کی طرف جھکاﺅ ہوا۔ انگریز کے زمانے میں بھی جب کسی علاقہ خصوصاً قبائلی علاقوں میں حکومت اور مقامی لوگوں میں کوئی تضاد پیدا ہوتا تھا تو طاقت استعمال کرنے کی بجائے صلح صفائی کو ہمیشہ فوقیت دی جاتی تھی۔ یہی صورت حال سویلین ڈپٹی کمشنروں کی تھی وہ بھی پولیس کپتانوں کو استعمال کرنے کی بجائے تھانیداروںکو پہلے محض دھمکاﺅ، ڈراﺅ اور پھر خود ڈر جاﺅ کی پالیسی اپنانے کے لئے کہتے تھے اور یوں آخر میں بہت سے تنازعات بات چیت کے ذریعہ ہی حل ہو جاتے۔ میاں محمد نواز شریف کے اردگرد بھی ہمیشہ ایسے لوگ وافر تعداد میں موجود رہتے تھے، جو طاقت کو آخری حربہ کے طور پر ہی استعمال کرنے کے لئے کہتے تھے ورنہ معاملات پر گفت و شنید کو ہی ہمیشہ ترجیح دی جاتی تھی۔ ان کے والد مرحوم خاص طور پر انہیں نرم رویہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے تھے، جبکہ بعض پولیس حکام ضرور ایسے تھے، جو بات چیت سے زیادہ سختی اپنانے کے لئے کہتے تھے۔

 ان کے زمانے میں جو تھوڑی بہت تلخیاں میڈیا کے بعض گروپس کے ساتھ پیش آئیں۔ وہ جلد ہی ختم کرا دی گئیں اور اس طرح سے پاکستان میں جمہوریت کے سفر میں میڈیا اور حکومتیں آگے بڑھتی چلی گئیں۔ اس دور اور آج کے حالات میں فرق زمین آسمان کا ہے۔ آپ اگر 70ئ،80 اور 90ءکی دہائی میں واپس مڑ کر دیکھیں تو دہشت گردی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ کراچی میں اسّی کی دہائی کے آخر میں فائرنگ کے کچھ واقعات رونما ہوئے، لیکن وہ محض غیر سندھیوں کو کراچی سے نکالنے اور انہیں ڈرانے کے لئے ایک خاص گروہ نے کئے اور اس کا زیادہ نقصان پنجاب کے ان30لاکھ لوگوں کو ہوا،جو تجارت اور نوکری کے سلسلے میں وہاں تھے۔ وہ واپس پنجاب بھاگے، تو یہاں اچانک واپسی پر پراپرٹی کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا اور یہ وہی دور تھا جب ہر ضلع اور ہر بڑے شہر میں نئی نئی ہاﺅسنگ سوسائٹیاں بنائی گئی تھیں اور پراپرٹی مافیا یہاں سرگرم تھا۔ روزانہ فائرنگ تو کراچی میں ہوتی تھی، لیکن اس کا اثر راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور ملتان کی پراپرٹی کی قیمتوں پر پڑتا تھا،جو دوگنی اور چوگنی ہو جاتی تھیں۔ حکومت کو جب اس سازش کا علم ہوا تو اس پر بھی قابو پا لیا گیا اور پھر کراچی میں امن قائم ہو گیا۔

آج ایک بار پھر جو اختلافی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے، اس میں بھی بعض ایسے عناصر کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے، جو پاکستان کو خدانخواستہ دنیا کے نقشے پر دیکھنے کے ہی سرے سے خواہش مند نہیں۔ ان میں بھارت اور امریکہ سرفہرست ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کی بدولت ہمارا پڑوسی افغانستان بھی ہم سے سخت ناراض ہے کہ ہم اس پر امریکی حملے کے و قت امریکہ کے ساتھی بنے رہے اور آج بھی ہیں، لہٰذا اس نے اپنے ملک کی آباد کاری کے لئے بھارت سے متعدد معاہدے کئے اور اب شنید یہ ہے کہ جون میں جب نئی حکومت افغانستان میں بن جائے گی اور اِدھر ہندوستان میں بھی نیا وزیراعظم حلف اٹھائے گا، تو افغانستان بھارت کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید مضبوط کرنے کے لئے اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے کی پیشرفت کرے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسا کوئی معاہدہ ہو گیا، تو ہمیں دونوں طرف سے دباﺅ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک مشرقی سرحد سے اور ایک مغربی سرحد سے، یعنی ہماری کیفیت ”سینڈوچ“ کی سی ہو گی، ہمارا بھارتی بارڈر1600کلو میٹر پر مشتمل ہے اور بھارت نے ہر قریبی بارڈر تک رسائی کے لئے ریل کی نئی پٹڑی بچھا دی ہے تاکہ رسد رسائل میں آسانی پیدا ہو۔

یہ ریل کی پٹڑی صرف فوج ہی استعمال کر سکے گی، کیونکہ اس پر نہ تو شہریوں کے لئے سٹیشن ہوں گے اور نہ ہی کوئی پسنجر ٹرین وغیرہ ان پر چلائی جا سکے گی۔ دوسری طرف افغانستان میں آباد کاری کے کام کو مکمل کرنے کے نام پر فوجی دستے بھی افغانستان کے متعدد صوبوں میں اُتارے جا رہے ہیں۔ یوں یہ ساری تیاریاں اگر ہمارے پاکستانی شہریوں کی سمجھ میں آ سکیں، تو ہمارے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو اس ضمن میں صحافیوں کی ٹیمیں وہاں بھیج کر عوام کی آنکھیں کھولنی چاہئیں تاکہ آج ترقی یافتہ میڈیا کے اس دور میں انہیں معلوم ہو سکے کہ بھارت ہمارے خلاف کیا کیا جنگی منصوبے بنا رہا ہے اور ہم یہاں میڈیا اور فوج کو لڑانے میں مصروف ہیں۔ کبھی صحافی کہیں جلوس نکال رہے ہیں، تو کبھی آرمی کے حق میں زندہ باد کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ کیا زمانہ آ گیا ہے کہ آرمی کے حق میں جلوسوں کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ ارے خدا کے بندو آج فوج واحد وہ ادارہ ہے، جس نے تحفظ پاکستان کی قسم کھا رکھی ہے، ورنہ آپ کے ووٹ لینے والوں کے تو بچے اور اُن کے خاندان یورپ، امریکہ، کینیڈا اور مشرق وسطیٰ میں مقیم ہیں۔ وہاں کاروبار بھی کر رہے ہیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ اُن کے پاس اہم نوکریاں بھی ہیں۔ انہیں پاکستانی عوام کے دُکھ درد اور محرومیوں کی اتنی فکر نہیں، جتنی فکر آج فوج کے اس ہر سپاہی کو ہے، جو بھارت سے ہمارا مشرقی پاکستان الگ کرنے کی سازش اور جنگ 1971ءکی شکست کے انتقام کی ہر فجر کی نماز کے ساتھ قسم کھاتا ہے ایسے میں آرمی کے حق میں جلوسوں کی ضرورت ہی نہیں۔

 پاکستان کا ہر بچہ، ہر بوڑھا اور ہر جوان عورت و مرد فوج کے ساتھ ہیں اور اپنے ایمان کی آخری حد تک دل و جان اُن پر نچھاور کرنے کے لئے تیار ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سازشیوں نے اس میڈیا کو ایک الگ کام پر لگانے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ ان پچاس ساٹھ دنوں میں،جبکہ بھارتی فوج پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ہم اس منصوبہ بندی کی تفصیلات پاکستانی عوام تک نہ پہنچا سکیں۔ اس منصوبہ بندی کی تفصیلات صرف ہماری فوج کے پاس ہی نہیں، ہر لمحہ بہ لمحہ ہماری حکومت وقت کے پاس بھی پہنچائی جاتی ہیں، لیکن وہ اپنے ووٹروں تک یہ معلومات محض اس لئے نہیں پہنچاتے کہ یہاں بیرونی سرمایہ کاری میں کمی نہ ہو۔ ہمارے سرمایہ کار ڈر نہ جائیں۔ یقین جانیں اس وقت یہاں جو سرمایہ کار چین یا ترکی سے آ رہے ہیں وہ ہماری حکومت سے زیادہ با علم ہیں اور اُنہیں ہماری پاک فوج پر جو غیر متزلزل اعتماد ہے وہ شاید ہمارے اپنے دفاع کے وزیر کو بھی نہ ہو، لہٰذا اس ساری صورت حال میں میڈیا کو آگے آنا چاہئے اور جو بھی عدم اعتمادی کی فضا پیدا ہوئی ہے، اس کوختم کرنے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف کی گئی ایسی شکایات فوراً واپس لے لینی چاہئیں، جن کا تعلق شخصی نہیں،بلکہ اداروں سے ہے۔ شخصی پسند یا ناپسند ساری زندگی چلتی رہتی ہے، لیکن ادارے نہ تو اس پسند اور ناپسند سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی بنا پر کوئی عارضی یا حتمی کارروائی کی جاتی ہے۔ فی الحال ہماری تمام تر توجہ پاکستان کے تحفظ، عوام کے جان و مال کی حفاظت، اپنی سرحدوں کی حفاظت، اپنی خوشحالی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کی طرف ہونی چاہئے۔

امریکہ بہادر کو بھی اب ہماری حکومت اپنے سامنے بٹھائے اور اُن کے ساتھ بھارت کی ایسی جنگ بندی کی منصوبہ بندی کو سامنے لا کر اُن سے یہ فیصلہ کرائے کہ وہ دہشت گردی کی جنگ میں ہمیں اس کا ساتھ دینے کا کیا معاوضہ دے رہے ہیں اور کیا وہ ہمارے خلاف اٹھنے والے کسی بھی ہاتھ کو روکنے میں ہماری اعلانیہ مدد کرنے کے قابل ہیں یا نہیں، کیونکہ اس بار کشمیر کی طرح ہم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس نہیں جانا، بلکہ ہمارے خلاف اٹھنے والے ہاتھوں کو ہم نے خود ہی کاٹنا ہے اور اگر ہم پر کوئی فوجی حملہ ہوتا ہے، تو اس کا فوری جواب ہم خود دیں گے۔ اگر کوئی اندرونی شورش ہوتی ہے، تو اس سے بھی خود ہی نپٹیں گے اور اگر کوئی نفسیاتی جنگ شروع کرتا ہے تو ہمارا میڈیا اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہو کر اس کا مُنہ توڑ جواب دینے کے لئے ہر آن تیار ہے۔ یہ پیغام جس روز آپ امریکہ کو دے دیں گے امریکہ بہادر ہمارے مخالفین کی امداد سے دست بردار ہو جائے گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھی میرے یقین کے مطابق یہ تمام معاملات اپنی نشری تقریر کے ذریعے عوام کے سامنے لانے والے ہیں۔ شاید مئی کے شروع میں اور یا پھر28مئی کو یوم تکبیر کے روز۔ کہاں ہے وزارت دفاع؟ ٭

مزید : کالم