نریندر مودی کے خواب

نریندر مودی کے خواب
نریندر مودی کے خواب

  



بھارت سے پاکستان میں اچھی خبریں کم ہی آتی ہیں۔ فلموں اور ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں بھی پاکستان اور اہل پاکستان کے لئے کسی نہ کسی صورت میں کوئی برا پیغام ہی ہوتا ہے۔ آج کل بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں اور ان کے نتیجے میں نریندر مودی کے بھارتی وزیراعظم بننے کے امکانات خاصے روشن نظر آ رہے ہیں۔ نریندر مودی سے اٹل بہاری واجپائی یاد آتے ہیں۔ ان کا تعلق بھی بھارتیہ جنتا پارٹی سے تھا۔ واجپائی متوسط طبقے کے برہمن خاندان میں پیدا ہوئے تھے تو نریندر مودی نے ایک غریب ہندو خاندان میں آنکھ کھولی تھی اور وہ اپنے باپ کے ساتھ ریلوے اسٹیشن پر چائے فروخت کرتے رہے ہیں۔ واجپائی نے شادی نہیں کی تھی، مگر نریندر مودی شادی سے انکار کرتے رہے۔ حالیہ انتخابات کے دوران پتہ چلا کہ انہوں نے 18 سال کی عمر میں شادی کی تھی، مگر یہ شادی ان کی زندگی کا حصہ نہیں بن سکی۔ واجپائی اپنی شاعری کو اعلان جنگ قرار دیتے تھے، جبکہ مودی گجراتی زبان میں نظمیں لکھتے ہیں اور اپنے جلسوں میں ان نظموں سے آگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ واجپائی انتہاپسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے رکن رہے تھے۔ مودی نے بھی اپنی سیاسی زندگی کا آغاز اس تنظیم کی رکنیت سے کیا اور وہ اپنے آپ کو ہندو نیشنلسٹ قرار دیتے ہیں۔ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہونے سے پہلے وہ مودی کی طرح پاکستان کے خلاف بیان بازی کرتے تھے اور انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے صرف ایک ماہ بعد مئی 1998ءمیں ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، مگر دو ہفتے بعد جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے، تو وہ خود ہل کر رہ گئے اور پاکستان کے ساتھ امن کے خواب دیکھنے لگے۔ نریندر مودی کا ذکر آتا ہے تو بھارتی مسلمانوں کو ان کے دور اقتدار میں گجرات میں مسلمانوں کے خون کی ہولی یاد آتی ہے۔ بھارت کے حالیہ انتخابات کے نتائج میں جو رحجان نظر آ رہا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوﺅں کو نریندر مودی کی انتہا پسندی پسند آ گئی ہے۔

نریندر مودی فی الحال برسراقتدار نہیں آئے تاہم ان کی دھمکیاں پاکستان پہنچ رہی ہیں۔ ان کی ایک دھمکی نے تو وزیرداخلہ چودھری نثار کو جوابی دھمکی لگانے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی پہلے یہ طے کر لیں کہ داﺅد ابراہیم کہاں رہائش پذیر ہے اور اس کے بعد پاکستان پر حملہ آور ہونے کے خواب دیکھیں۔ نریندر مودی نے بطور وزیراعلیٰ گجرات جو گل کھلائے اور بدنامی کمائی اس سے انہوں نے کچھ سبق نہیں سیکھا۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ مودی اگر وزیراعظم منتخب ہو گئے، تو خطے کو نہ جانے کس عدم استحکام کا شکار ہونا پڑے۔ انہوں نے مودی پر واضح کیا کہ پاکستان ایسی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے والا نہیں ہے اور نہ ہی پاکستانی عوام کو ایسی بے سروپا بڑھکوں سے متاثر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے نریندر مودی کے بیان کو ایک دیوانے کا خواب قرار دیا اور انہیں اس خواب کو ذہن سے نکالنے کا مشورہ دیا۔

پاکستان میں بہت سے دانشور اور ادارے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ بھی نہیں ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات اس خطے سے غربت اور پسماندگی کو دور کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ خواب دیکھنے پر پابندی نہیں ہوتی۔ برصغیر میں مسلمان اور ہندو لیڈر خواب دیکھتے رہے ہیں۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے ہندو مسلم اتحاد کا خواب دیکھا تھا۔ مہاتما گاندھی جب جنوبی افریقہ سے ہندوستان آئے، تو قائداعظمؒ نے ان کے پُرزور استقبال کا اہتمام کیا تھا۔ جب انہیں مسلم لیگ کا رکن بننے کی دعوت دی گئی،تو انہوں نے شرط عائد کی کہ اس سے ان کی کانگریس کی رکنیت متاثر نہیں ہو گی۔ برسوں بعد جب ایک اخبار نویس نے ان کی کانگریس کی رکنیت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ میں کسی دور میں پرائمری کا طالب علم بھی تھا۔ یہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ ہی تھے، جنہیں بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں ہندو مسلم اتحاد کا سفیر کہا جاتا تھا۔ ہندوﺅں سے تعلقات کو بہتر بنانے کے سلسلے میں مسلمان لیڈر اتنا آگے چلے گئے تھے کہ علی برادران نے تحریک خلافت شروع کی تو اس کے لئے مہاتما گاندھی کو لیڈر بنایا، مگر مسلمان راہنما دیکھتے تھے کہ جہاں کسی معاملے میں مسلمانوں کا فائدہ ہوتا ہے کانگریسی لیڈر اس کی بھرپور مخالفت کرتے تھے۔ بنگال کی انتظامی تقسیم کی جس طرح ہندوﺅں نے مخالفت کی تھی اس سے مسلمانوں کے ہندوﺅں کے ساتھ چلنے کے خواب چکنا چور ہو گئے۔

جب پاکستان بن رہا تھا اس وقت بھی مسلم قیادت بھارت اور پاکستان کے درمیان امریکہ اور کینیڈا جیسے تعلقات کے خواب دیکھ رہی تھی ۔ قائد اعظم نے بمبئی میں اپنی پراپرٹی فروخت نہیں کی تھی۔ اس طرح دوسرے مسلمان لیڈر بھی بہتر تعلقات کی امید لگائے بیٹھے تھے، مگر پنجاب میں خون کی ندیاں بہا دی گئیں۔ کشمیر، حیدر آباد، جوناگڑھ مسلم اکثریتی ریاستیں تھیں، مگر تقسیم ہند کے بنیادی فلسفے کی نفی کرتے ہوئے ان پر قبضہ کر لیا گیا۔ مسلمان اکابرین کا خیال تھا کہ ہندو مسلمانوں کو اپنا غلام بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، وہ ان سے مسلمانوں کی ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد اندراگاندھی نے اس کا ببانگ دہل اعلان کیا تھا۔

دیار غیر میں کبھی کسی انڈین مسلمان سے ملاقات ہو تو وہ اکثر پاکستان کے خلاف خاصا شاکی نظر آتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس کے تمام مسائل کی وجہ پاکستان ہے۔ ہندو اس کے ساتھ اس لئے برا سلوک کرتا ہے، کیونکہ وہ اقلیت میں ہیں۔ اگر پاکستان نہ بنتا تو ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد دوگنا ہوتی اور وہ ہندوﺅں کے ساتھ بہتر طور پر معاملات کر سکتے تھے، مگر اسے ایک خواب ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ نیویارک میں ایک بھارتی مسلمان نے بتایا کہ انڈیا میں بڑے منظم انداز میں مسلمانوں کو کاروبار سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر کسی جگہ کسی مسلمان کا کاروبار چل پڑے تو تمام ہندو متحد ہو کر اسے ناکام بنانے کے لئے نکل پڑتے ہیں۔ اس مسلمان کے مقابل ایک ہندو کی دوکان کھولی جاتی ہے، جہاں مسلمان کی نسبت کہیں اچھی چیزیں ارزاں داموں پر فروخت کی جاتی ہیں اور کچھ عرصہ بعد ہی مسلمان دکان بند کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ہندو دکاندار مشترکہ طور پر اس خسارے کو برداشت کرتے ہیں،جو مسلمان دکاندار کا کاروبار ختم کرنے میں ہوتا ہے۔ یوں انڈین مسلمان کاروباری طور پر مستحکم ہونے کا خواب کم ہی دیکھتے ہیں۔ دیار غیر میں رہنے والے اکثر مسلمان یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ تو ہندوﺅں کی دکانوں سے چیزیں خرید لیتے ہیں تاہم ہندو مسلمانوں کی دکانوں سے خریداری سے اجتناب کرتے ہیں۔ دبئی جیسے ممالک میں جہاں ہندو بہت سے بزنس کنٹرول کرتے ہیں، وہاں اکثر پاکستانی یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کو ملازمت نہ ملنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کا تعلق پاکستان سے ہے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بہتری کے لئے مائنڈسیٹ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اب پاکستان میں دہلی کے لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کے خواب نہیں دیکھے جاتے۔ بھارت کو ایک حقیقت تسلیم کر لیا گیا ہے۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے لاہور میں پاکستان کو بھی ایک حقیقت سمجھ کر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ نریندر مودی کو بھارت کی انتہا پسندسیاست کی تصویر قرار دیا جا رہا ہے۔ چودھری نثار علی کا نریندر مودی کے متعلق خدشہ بے بنیاد نہیں ہے اور یہ خدشتہ مشرقی سرحد پر اس وقت پیدا ہو رہا ہے، جب پاکستان کی مغربی سرحدیں محفوظ نہیں ہیں۔ مبصریں افغانستان سے امریکہ کی رخصتی کے بعد کچھ اسی قسم کی محاذ آرائی کی امید لگائے بیٹھے ہیں جس کا مشاہدہ کابل سے سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کے بعد ہوا تھا۔ مستقبل قریب میں پاکستان کے اردگرد منڈلانے والے خطروں میں اضافہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان کے بہت سے دانشور بغداد کے ان علمائے کرام کی طرح مناظروں میں مصروف نظر آ رہے ہیں، جنہیں تاتاریوں کا خطرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا اور وہ فروعی اختلافات کو سلطنت اسلامیہ کے قومی مفاد سے زیادہ اہم سمجھ رہے تھے۔ نریندر مودی کے متعلق اچھے خواب دیکھنا خاصا مشکل ہے۔ آج بھی بھارت میں بہت سے مسلمان خوابوں میں مودی کو گجرات کے مسلمانوں کی خونریزی کے پیچھے ایک زندہ حقیقت کی طرح دیکھتے ہیں۔ اہل پاکستان کے لئے بھی نریندر مودی ایک بھیانک خواب کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ ٭

مزید : کالم


loading...