سلوموشن عمران خان

سلوموشن عمران خان
سلوموشن عمران خان

  



جس زمانے میں عمران خان کرکٹ کے بے تاج بادشاہ تھے تب الکرم کا ایک اشتہار ہزاروں لاکھوں کی جان لے لیتا تھا، جب عمران خان سلوموشن میں بھاگتے ہوئے جمپ لے کر گیند پھینک کر وکٹیں اڑا کر کہا کرتے ہاﺅ زیٹ ، ہاﺅ زیٹ!لگتا ہے کہ سیاست میں بھی عمران خان ابھی تک الکرم کے اشتہار کی طرح سلوموشن سٹائل میں ہی بھاگ رہے ہیں اور ہر بار مڑ کر پوچھتے ہیں کہ ہاﺅ زیٹ ، لیکن حالات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آتی، حالانکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہونا چاہئے کہ سیاست میں متعلقہ پارٹی سے مطلقہ پارٹی بننے میں دیر نہیں لگا کرتی، عمران خان سے تبدیلی کی توقع لگانے والوں کی اب خود عمران خان کے بارے میں رائے تبدیل ہوتی جارہی ہے!ادھر معزز پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری اگرچہ پاکستانی سیاست میں آئٹم سانگ کرنے میں شہرت پا گئے ہیں، لیکن عمران خان کی بہت سی گرویدہ لبرل خواتین کو خاص طور پر سمجھ نہیںآتی کہ آخر عمران خان پروفیسر ڈاکٹر طاہرالقادری کے پیچھے کیوں لگے ہوئے ہیں!

11مئی 2013ءسے 11مئی 2014ءتک عمران خان کی سیاست نے بڑے بڑے رخ اختیار کئے ہیں، اس دریا نے مختلف سمتوں میں رخ کاٹا ہے اور اب کہیں جا کر کوئی سمت دکھائی دی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف 11مئی 2013ءکے عام انتخابات میں دھاندلی پرالیکشن کمیشن آف پاکستان اور زیر التوا مقدمات پر اعلیٰ عدلیہ کے خلاف پروفیسر ڈاکٹر طاہرالقادری کی امامت میں (یا وہ ان کی قیادت میں) ایک تحریک برپا کرنے جا رہے ہیں!11مئی کے بعد جب پارلیمنٹ وجود میں آئی تو پی ٹی آئی کی خواتین کی شدید خواہش تھی کہ عمران خان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر متمکن ہو جائیں، لیکن پیپلز پارٹی نے قبل از انتخابات والی دریا دلی کا مظاہرہ بعد ازانتخابات کی صورت حال میں بالکل نہیں کیا اور اس اہم عہدے کو خورشید شاہ کی شکل میں اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی،چنانچہ عمران خان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ پارلیمنٹ سے باہر اپنی سیاست کی اڑان سڑکوں پر بھرتے!

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ایسا کرنے کی بھرپور کوشش بھی کی گئی اور سب سے پہلی تنقید اعلیٰ عدلیہ پر کی گئی اور مشہور زمانہ بیان داغا گیا کہ عام انتخابات میں عدلیہ کا کردار شرمناک رہا ہے، اس پر اعلیٰ عدلیہ خاصی جزبز ہوئی، لیکن اس وقت کے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے معاملہ رفع دفع کروادیا، اب لگ بھگ ایک سال بعد دوبارہ سے وہی ڈگڈگی بجائی گئی ہے، لیکن اس بار عدلیہ کو شرمناک کردار کا طعنہ دینے کے بجائے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے، اب دیکھتے ہیںکہ کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک!ایسا نہیں ہے کہ عمران خان گزشتہ ایک سال کے دوران خاموشی سے بیٹھے رہے ہیں۔

 اعلیٰ عدلیہ سے ٹکر لینے کے بعد عمران خان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا علم بلند کیا، تو کئی لبرل امریکہ نواز تجزیہ کار ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے پڑ گئے اور انہیں طالبان خان کہہ کر پکارنے لگے، لیکن عمران خان اپنی دھن پر اڑے رہے تا آنکہ ان کا یہ بیان سامنے آیا کہ اگر طالبان سے پاک فوج ہار گئی ، تو کیا ہوگا اور اس سے دو روز بعد ہی ایک اور بیان داغ دیا کہ جنرل کیانی نے انہیں وزیراعظم کی موجودگی میں بتایا تھا کہ طالبان کے خلاف جنگ میں جیتنے کے امکانات محض 40 فیصد ہیں، اس پر خالی لبرل ہی نہیں، بلکہ نان لبرل طبقے بھی ان کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑ گئے اور معاملہ تب تک رفع دفع نہیں ہوا جب تک وزیراعظم نواز شریف ان کی رہائش گاہ پر تشریف نہیں لے گئے اور ان کی پشاوری چپل کی طرف اشارہ کرکے پوچھا کہ خان صاحب کیا یہ جوتے بھی طالبان نے دیئے ہیں، جس پر عمران خان نے گلہ کیا کہ طالبان سے مذاکرات پر اصرار پر لوگ انہیں طالبان خان کہہ کر پکارنا شروع ہو گئے ہیں!

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف نے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کو پی ٹی آئی کے خلاف بیان بازی سے منع کردیا تھا جب انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو تیلی پہلوان کے لقب سے نوازا تھا!عمران خان کا میڈیامیں جاندار تذکرہ حال ہی میں تب ہوا جب نجم سیٹھی کو چیئرمین پی سی بی تعینات کیا گیا، سوال ہوا کہ وہ اس پر کیا تبصرہ کریں گے، تو عمران خان نے برملا کہا کہ نجم سیٹھی کوعام انتخابات میں 35پنکچر لگانے پر نوازا گیا ہے، اس پر نجم سیٹھی جیو پر بیٹھ کر جو مُنہ میں آیا عمران خان کے خلاف کہتے چلے گئے اور Im the Dim کی اصطلاح کے محاسن و عواقب عام لوگوں کو سمجھائے!

حال ہی میں انہوں نے جیو اور فوج کے درمیان جاری تناﺅ پر جو پوزیشن لی ہے اس پر اب ان کی جانب سے وضاحتیں پیش کی جا رہی ہیں ، عمران خان کی جانب سے گزشتہ ایک سال میں ایسے سخت بیانات اس امر کی غمازی کرتے ہیںکہ ان کی بنیادی تربیت سیاستدان والی نہیں ہے، وہ ایک کھرے آدمی ہیں جبکہ سیاست کھرے کو کھردرا بنادیتی ہے، جبکہ سیاست دان کی زبان ایسی نہیں ہوتی، لٹھ مارنے والی، بگاڑ پیدا کرنے والی اور ناراض کرنے والی!صحافت تحریر سے اور سیاست تقریر سے کی جاتی ہے، عمران خان ان دونوں محاذوں پر مشاق نہیں ہیںاور گزشتہ ایک سال میں کئی بار اس کا خمیازہ بھگت چکے ہیں، اب بھی 11مئی کو وہ ایک غیر پارلیمانی قوت کے ساتھ مل کر طاقت کا مظاہرہ کریں گے، کیا پارلیمانی قوتیں انہیں اس بات پر گھاس ڈالیں گی؟  ٭

مزید : کالم