تحفظ پا کستان تر میمی بل ضرو ری ہے ؟

تحفظ پا کستان تر میمی بل ضرو ری ہے ؟
 تحفظ پا کستان تر میمی بل ضرو ری ہے ؟

  




آئن سٹائن کے مطابق ہم مسائل کا حل اسی پرانی سوچ سے نہیں کر سکتے جو ایک زما نے میں ہم نے خود پروان چڑھائی ہو۔ آئن سٹائن کے اس قول میں چھپی ہوئی دانش تاریخ عالم سے ثابت ہوتی ہے کہ کیسے مخصوص عوامل اور معروضی حالات سے نمٹنے کے لئے مختلف ادوار میں مخصوص سیاسی اور معاشی نظریات متعارف کروائے گئے اور معروضی حالات اور ادوار بدلتے ہی ان نظریات کو کالعدم قرار دے دیا گیا ۔ اسی طرح انسانی تاریخ میں قوانین کی حیثیت کو بھی ارتقا کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ آج قرون وسطیٰ کے عہد کے بہت سے ایسے قوانین ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دے کر متروک قرار دےئے جا چکے ہیں کہ جو کبھی بڑی بڑی سلطنتوں کے استحکام کے بنیادی ضامن ہوا کر تے تھے۔ جدید ریاستوں میں بھی بعض قوانین کو مخصوص حالات کو دیکھتے ہو ئے متعارف کروایا گیا اور ان حالات کے بدلتے ہی انہیں متروک قرار دے دیا گیا۔ اگر ہم آمرانہ، ملوکیت اور یک جماعتی نظام کی حامل ریاستوں کے قوانین کو ایک طرف رکھتے ہوئے صرف جمہوری ممالک کے قوانین پر ہی طائرانہ نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ جمہوری ممالک میں بھی مخصوص حالات سے نمٹنے کے لئے بعض ایسے سخت قوانین متعارف کر وائے گئے، جنہیں کسی بھی طور جمہوری ریاستوں کے تناظر میں انسانی حقوق کا حامل ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پڑوسی ملک بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیا جاتا ہے۔ بھارت کو اپنی آزادی کے فوراً بعد بہت سی مسلح علیحدگی پسند تحریکوں کا سامنا رہا، مگر 1980ء کی دہائی میں ناگا لینڈ، میزورم، آسام، تری پورہ، تامل ناڈو کی ریا ستوں کے ساتھ ساتھ خاص طور پر بھارتی پنجاب اور کشمیر جیسی ریاستوں میں مسلح علیحدگی پسند تحریکیں بھارتی حکمرانوں کے لئے درد سر بن چکی تھیں۔ ایسی ہی صورت حال سے نمٹنے کے لئے بھارت میں راجیو گاندھی کی حکومت کے دوران1985ء میں بھارت میں پہلی بار باضابطہ طور پر دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے TADAٹاڈا جیسا سخت قانون متعارف کروایا گیا۔ ٹاڈا جیسا انتہائی سخت قانون جزوی ترامیم کے ساتھ 1995ء تک نا فذ رہا۔ ٹاڈا کے قانون کے تحت پولیس اور قانون نافذ کر نے والے اداروں کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایسے اختیارات دے دےئے گئے کہ جن کا تصور ایک کلاسیکل جمہوری ریاست میں ناممکن ہو تا ہے۔ اس قانون کے تحت پولیس اور سلامتی کے اداروں کو دہشت گردی کے شبے میں فائرنگ کرنے، کسی مشتبہ شخص کے بے گناہ ثابت ہونے کی صورت میں پولیس کی کوئی جوابدہی نہ ہونے، دہشت گردی کے شبہ میں کسی کو بھی گرفتار کر کے کئی ماہ تک اسے عدالت میں پیش نہ کرنے اور کسی بھی گرفتار کئے جانے والے فرد کو اس وقت تک دہشت گرد تصور کرنے کہ جب تک وہ شخص خود اپنی بے گناہی ثابت نہ کر دے، جیسی سخت دفعات متعارف کروائی گئیں۔

ایک جمہوری ملک ہونے، سینکڑوں سیاسی جماعتوں کی موجودگی،آزاد عدالتوں، میڈیا اور سول سوسائٹی کی موجودگی کے باوجود یہ قانون بھارت میں دس سال تک نافذ رہا۔ اس قانون پر سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی کئی تنظیموں ، میڈیا کے چند حصوں اور کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مخالفت بھی کئی گئی، مگر بحیثیت مجموعی بھارتی سماج کے بڑے حصوں نے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ بھارت کی مخصوص معروضی صورت حال میں اس نوعیت کے قا نون کی ہی ضرورت ہے۔ 1995ء تک بھا رتی ریاست نے کئی مسلح تحریکوں اور خاص طور پر بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک پر قابو پا لیا اور 1995ء میں ٹاڈا قانون متروک قرار دے دیا گیا۔ اسی طرح 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد 2002 ء میں پوٹا POTAکا قانون سامنے آیا اب چونکہ بھارت کو مسلح تحریکوں سے زیادہ دوسری نوعیت کی دہشت گردی کا سامنا تھا، اس لئے TADA کے مقا بلے میں پوٹا کے قانون میں ہائی کورٹ میں بھی اپیل کر نے کا حق دیا گیا۔ ٹاڈا میں اس کی گنجائش نہیں تھی، مگر معروضی حالات مختلف ہونے سے قانون کی ضرورت بھی بدل چکی تھی۔

بھارتی حکمرانوں نے اپنی دانست کے مطابق مطلوبہ نتائج حاصل کر نے کے بعد 2004ء میں پوٹا قانون کو بھی متروک قرار دے دیا۔ اگر ہم بھارت میں دہشت گردی کی موجودہ صورت حال کو دیکھیں تو اس وقت بھارتی حکمرانوں کے لئے نکسل باڑی تحریک کی صورت میں دہشت گردی درد سر بنی ہوئی ہے۔ جسے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ بھارت کی اندرونی سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ بھی قرار دے چکے ہیں۔ نکسل با ڑی دہشت گردی کی نوعیت علیحدگی پسند تحریکوں اور بھارتی پارلیمنٹ پر حملوں سے مختلف ہے، اس لئے اس دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے بھارت میں Unlawful Activities (Prevention) Amendment Act, کے قانون کو 2008 ء میں ترامیم کے ساتھ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح پوری دنیا میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا علمبردار کہلانے والے امر یکہ میں نائن الیون کا واقعہ ہو نے کے چند روز بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے راتوں رات USA PATRIOT Act متعارف کروایا گیا۔اس قانون کے تحت ایف بی آئی سمیت سلامتی کے اداروں کو ایسے ایسے اختیارات دےئے گئے کہ جن کی مثال کسی جمہوری ریاست میں ملنا مشکل ہے۔ یہ قانون چند جزوی ترامیم کے ساتھ امریکہ میں نافذ العمل ہے ۔ امر یکی صدر بارک اوبا ما نے 2011ء میں اس قانون میں چند ترامیم کیں اور اب اس قانون کی وہ شدت نہیں جو نائن الیون کے فوراً بعد تھی۔

دنیا کے دو اہم اور جمہوری ممالک کی مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر معمولی صورت حال کی موجودگی میں سخت قوانین متعارف کروائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان نائن الیون کے بعد سے سنگین دہشت گردی کا شکا ر چلا آ رہا ہے۔اس دہشت گردی سے پا کستان کو ہر حوالے سے جو نقصان ہوا وہ بھی ہر کسی کے علم میں ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں اس غیر معمولی صورت حال سے نمٹنے کے لئے موثر قانون سازی کا فقدان رہا۔ اگر چند دہشت گرد گر فتا ر بھی ہو ئے، تو کمزور قوانین کے باعث عدالتوں سے رہا بھی ہو تے رہے۔ کئی سال سے پا کستان میں انسداد دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے قا نون سازی کا مطا لبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اِسی تنا ظر میں قانون سازی کے لئے کئی سال سے کام بھی ہو رہا تھا۔ بالآخر اس کا نتیجہ ہمارے سامنے گزشتہ ماہ قومی اسمبلی میں منظور ہو نے والے تحفظ پاکستان ترمیمی بل کی صورت میں سامنے آیا، مگر کئی اور مسائل کی طرح پا کستان کے سب سے بڑے مسئلے، یعنی دہشت گردی کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن کی تقریباً تمام جماعتیں اس بل کی مخالفت میں اکٹھی ہو گئیں۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں حکومتیں قوانین کو اپنے سیا سی مخالفین کے خلاف بھی استعمال کرتی رہی ہیں۔ حتیٰ کہ 1973ء سے1977ء اور 1988ء سے1999ء تک کے جمہو ری ادوار میں بھی بعض قوانین کو جمہوری حکومتوں نے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا،اس لئے اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے اس بل کی مخالفت کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس قانون کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لئے دو، تین ایسے نکات بھی شامل کئے جا سکتے ہیں کہ جن سے خاصی حد تک سیاسی جماعتوں کے خدشات کا ازالہ ہو جائے گا ۔ جیسے حکو مت کو چاہئے کہ اس بل میں میعاد کا تعین کر دیا جا ئے کہ یہ قانون اتنے سال تک موثر رہے گا، دوسرا اس قانون کا اطلاق پورے پا کستان میں کر نے کی بجائے ایسے علاقوں تک کیا جا سکتا ہے کہ جو مسلسل دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ اس قا نون میں یہ بھی واضح کیا جا سکتا ہے کہ جرم کے شبہ میں کسی ایسے فرد پر اس قانون کا اطلا ق نہیں کیا جائے گا کہ جو باقاعدہ کسی ایسی سیاسی جماعت کا عہدیدار ہے کہ جو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور انتخابات میں حصہ بھی لیتی ہے۔ ایسے اور اس نوعیت کے بہت سے نکات اس قا نون میں شامل کر کے خدشات کو رفع کیا جا سکتا ہے۔ تاہم سرے سے ہی ایسے قانون کو مسترد کر دینا کسی بھی طور بہتر نہیں ہو گا۔ ایسا قانون پا کستان کے معروض کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں کئی طرح کے معاشی، سیاسی، علاقائی، عسکری، مذہبی اور نسلی عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں، اس لئے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ایسے عوامل کو بھی دیکھنا پڑتا ہے، مگر ان عوامل کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی بیخ کنی کے لئے قوانین کی اہمیت سے بھی انکا ر ممکن نہیں۔ *

مزید : کالم


loading...