پرچہ رجسٹری قانون پر عملدرآمد سوالیہ نشان

پرچہ رجسٹری قانون پر عملدرآمد سوالیہ نشان

  



لاہور(اپنے نمائندہ سے )بورڈآف ریونیو کی جانب سے پرچہ رجسٹری قانون پر عمل درآمد کے لیے جاری کیا جانے والا نوٹیفیکیشن ردی کی نذر ہو گیا صوبائی دارالحکومت میں بوگس رپورٹس تیار کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے سب رجسٹرار آفس عملہ ،پٹواری،دفتر قانونگو کے درمیان باہمی معاملات طے پا گئے جس کے باعث سائل ہر ماہ کروڑوں روپے رشوت دینے پر مجبور ہو گئے ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور، ایڈیشنل کلکٹر ، پانچوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنر صاحبان اور9ٹاؤنوں کے سب رجسٹرار صاحبان بھی اس غفلت میں برابر کے شریک ہیں روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق متعلقہ ادارے پرچہ رجسٹری قانون پر عمل درآمد کروانے میں بری طرح ناکام ہو گئے ہیں وزیر اعلیٰ کی جانب سے بھی بولوایس ایم ایس اور کمپیوٹرائزیشن سسٹم جیسے بڑے اقدامات اور کوششیں بھی رائیگاں ہو گئی ہیں مزید معلوم ہوا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے مکین رجسٹری کی پاسنگ کے دوران 500روپے قبل از وقت انتقال کی فیس جمع کروا رہے ہیں تاہم اس فیس کے بدلے نہ تو عملہ سب رجسٹرار ان کو انتقال کی کاپی مہیا کر رہا ہے اور نہ ہی دفتر قانونگو سٹاف شہریوں کو یہ سہولت میسر کر رہا ہے جس کی وجہ سے پٹواری حلقہ جو پرچہ رجسٹریاں وصول کر رہا ہے ان کو2سے3ماہ عرصہ تک التوا میں رکھ رہا ہے اور وثیقہ نویس کے ذریعے آنے والی رجسٹریوں کے عوض مالک اراضی سے دوبارہ3000سے لے کر 5000تک سرعام رشوت وصول کی جاتی ہے اور اس کام کے لیے باقاعدہ غیر قانونی طور پر پرائیویٹ عملہ بھی تعینات کر رکھا ہے جو کہ خود کو پٹوار سرکلوں میں پٹواری ظاہر کرتے ہوئے عوام الناس،وکلاء اور وثیقہ نویس سے منہ مانگی رشوت وصول کر رہا ہے قابل ذکر بات یہ ہے کہ جو رشوت پٹواری شہریوں سے وصول کر رہا ہے تو اس کو برابری کی سطح پر قانونگو اور تحصیلدار قانونگوئی میں بھی تقسیم کر رہا ہے جو پرچہ رجسٹری کی رپورٹ مرتب کر کے ریونیو سٹاف کی جانب سے سب رجسٹرار آفس، اسسٹنٹ کمشنرز،اے ڈی جی،اے ڈی آر اور ڈی سی او لاہور کو بھجوائی جا رہی ہے ان میں 80فیصد انتقال وہ ہیں جن کو رشوت لے کر نمبر لگائے گئے ہیں40فیصد کے نمبر ہی جعلی لگائے جا رہے ہیں جبکہ5فیصد ایسے انتقالات ہیں جو کہ سفارشی ہوتے ہیں ان کو فوری پرچہ رجسٹری میں ڈال دیا جاتا ہے جبکہ عوام الناس سے انتقالات فیس کی مد میں ہر ماہ صرف صوبائی دارالحکومت میں 50کروڑ روپے کی رشوت وصول کی جا رہی ہے سب رجسٹرار آفس کی جانب سے گزشتہ ماہ بھجوائی گئی رپورٹ میں آگاہی دی گئی ہے کہ سمن آباد ٹاؤن نے ماہ جنوری میں 546فروری میں 612مارچ میں 459اور اپریل میں590پرچہ رجسٹری بھجوائی جس میں سے700کے قریب پرچہ رجسٹری کے انتقالات درج کئے گئے جبکہ1500سے زائد التوا میں ڈال دیے گئے اسطرح داتا گنج بخش ٹاؤن نے ماہ جنوری میں287فروری میں368مارچ میں349اور اپریل میں 320پرچہ رجسٹری بھجوائی جس میں سے250کے قریب پرچہ رجسٹری کے انتقالات درج کئے گئے جبکہ باقی التوا کا شکار ہیں اسی طرح راوی ٹاؤن نے ماہ جنوری میں705فروری میں672مارچ میں730اور اپریل میں700پرچہ رجسٹریاں بھجوائی جن میں 722پرچہ رجسٹریوں کے انتقالات درج کئے گئے جبکہ تقریباً1500زیر التواء ہیں اسی طرح اقبال ٹاؤن میں ماہ جنوری میں 1634ماہ فروری میں1346ماہ مارچ میں1542اور اپریل میں 1421پرچہ رجسٹری بھجوائی گئی جس میں سے1800کے انتقالات درج کئے گئے اور باقی التوا کا شکار ہو گئیں نشتر ٹاؤن میں ماہ جنوری 2527فروری میں2404مارچ میں2489اور اپریل میں2520پرچہ رجسٹری بھجوائی گئی جن میں سے1900پرچہ رجسٹریوں کے انتقالات درج کئے گئے جبکہ 6000التوا میں ڈال دی گئیں اسطرح گلبرگ ٹاؤن میں جنوری میں 109 فروری میں 119مارچ میں 106اور اپریل میں 101پرچہ رجسٹریاں بھجوائی گئیں جن میں سے96کے انتقالات درج کئے گئے جبکہ باقی التوا کا شکار ہوگئی ہیں اسی طرح شالیمار ٹاؤن میں ماہ جنوری میں280فروری میں368مارچ میں403اور اپریل میں 380پرچہ رجسٹریاں بھجوائی گئیں جس میں سے تقریباً 300پرچہ رجسٹری کے انتقالات نمبردرج کئے گئے اور باقی تمام التوا کا شکار ہیں اس طرح عزیر بھٹی ٹاؤن میں ماہ جنوری میں 732فروری میں634مارچ میں832اور اپریل میں800پرچہ رجسٹریاں بھجوائی گئیں جن میں سے 600پرچہ رجسٹری کے انتقالات درج کئے گئے اور باقی تمام التوا میں ڈال دی گئیں جبکہ واگہ ٹاؤن میں ماہ جنوری میں 1311فروری میں1123مارچ میں1265اور اپریل میں1400پرچہ رجسٹریاں بھجوائی گئی جن میں سے1500پرچہ رجسٹری کے انتقالات درج کئے گئے اور باقی التوا کا شکار ہو گئے اسطرح مجموعی طور پر9ٹاؤنوں میں ماہ جنوری،فروری،مارچ اور اپریل میں 30,000پرچہ رجسٹریاں بھجوائی گئیں جن میں سے صرف7000کے انتقالات درج کئے گئیں اور23000التو امیں ڈال دی گئیں عوام الناس کا کہنا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن کو لاہور کی حدو د میں اپنا دفتر بند کر دینا چاہئے کیوں کہ اینٹی کرپشن کے اہلکار ماہانہ بھتہ لینے میں مصروف ہیں شہریوں نے ڈی سی او احمد جاوید قاضی سمیت محکمہ ریونیو کے تمام انتظامی افسران سے اپیل کی ہے کہ وہ پرچہ رجسٹری قانون پر عمل درآمد کروائیں اور ایسی مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دیں جو کہ صاف شفاف طریقے سے پرچہ رجسٹری پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکیں۔اس حوالے سے ڈی سی او کا کہنا ہے کہ روزنامہ پاکستان نشاندہی کرے فوری کارروائی کریں گے جبکہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ سٹاف کی کمی ہے اور شکایات زیادہ ہیں اگر کوئی تحریری شکایت کرے گا تو اس پر کارروائی کریں گے

مزید : میٹروپولیٹن 1