لوڈ شیڈنگ کے باعث عوام ذہنی مریض بن رہے ہیں،ثمینہ گھرکی

لوڈ شیڈنگ کے باعث عوام ذہنی مریض بن رہے ہیں،ثمینہ گھرکی

  



لاہور(سپیشل رپورٹر) پیپلز پارٹی لاہور کی صدر ثمینہ خالد گھرکی نے کہا ہے کہ اس وقت شہروں میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے اور دیہاتوں میں بائیس بائیس گھنٹو ں کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے بجلی کے وزیر خواجہ آصف نے آج خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دس سے بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے لیکن انکے ساتھ بیٹھے ہوئے وزیر مملکت عابد شیر علی کئی ہفتوں سے ےہ دعوے کررہے تھے کہ گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ صرف چھ سے آٹھ گھنٹوں کی ہو گی حکومت کے دونوں وزراءکے بیانات میں تضاد ہے عوام کس پر اعتبار کریں عوام ےہ بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب خواجہ آصف اپوزیشن میں تھے تو وہ دعوے کرتے تھے کہ پندرہ دنوں میں لوڈ شیڈنگ ٹھیک کردیں گے ۔۔۔۔۔۔جبکہ انکی جماعت کے لیڈرز الیکشن کے وقت عوام سے اس بات پر ووٹ لیکر آئے ہیں کہ اگر چھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ کر سکے تو انکا نام بدل دیا جائے ۔ ثمینہ خالد گھرکی کا مزید کہنا تھا کہ بد ترین لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام کی روز مرہ کی زندگی ڈسٹرب ہو کر رہ گئی ہے لوڈ شیڈنگ کے عذاب کی وجہ سے عوام زہنی مریض بنتے جا رہے ہیں لیکن حکومت محض بیانات سے عوام کو بہلانے کی کوشش کررہی ہے زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام کا کاروبار تباہ ہونے سے بچایا جائے اسی میں سب کی بہتری ہے۔ 

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...