حفاظتی ٹیکوں کے باوجود سالانہ لاکھوں بچے مہلک امراض کا شکار ہو جاتے ہیں

حفاظتی ٹیکوں کے باوجود سالانہ لاکھوں بچے مہلک امراض کا شکار ہو جاتے ہیں

  




لاہور( جنرل رپورٹر) حکومت پاکستان کی طرف سے قائم کردہ حفاظتی ٹیکوں کے مراکز پر مفت حفاظتی ٹیکوں کی سہولت مہیا ہونے کے باوجود پاکستان میں ہر سال ہزاروں بچے نو مہلک بیماریوں کے باعث جاں بحق ہو جاتے ہیں اس کی وجہ ان بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا ہے والدین بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں دوسری طرف حفاظتی ٹیکوں کا پیغام پوری طرح لوگوں تک نہیں پہنچ پارہا یہ بات پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے منتخب صدر ڈاکٹر طاہر مسعود نے حفاظتی ٹیکوں کے بارے میں منائے جانے والے عالمی ہفتے کی افادیت بیان کرتے ہوئے کہی جو ہر سال اپریل کے آخری ہفتے میں منایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اور دیگر اداروں کو اس کی اہمیت روشناس کرانے کیلئے کام کرنا چاہیے یہ بات قابل ذکر ہے کہ نمونیا سے ہر سال پاکستان میں 80 ہزاربچے جاں بحق ہوجاتے ہیں سال 2000ء سے 2007ء تک دنیا بھر میں حفاظتی ٹیکوں کی مہم سے خسرہ سے ہونے والی اموات میں 74 فیصد کمی واقع ہوئی ہے تاہم پاکستان میں اس وبائی مرض میں اضافہ ہوا ہے اسی طرح سال 2012ء میں صرف تین ممالک افغانستان، پاکستان اور نائیجیریا پولیو سے متاثرہ ملک باقی بچے ہیں جبکہ 1988ء میں ان ممالک کی تعداد 125 تھی انہوں نے کہا کہ ہمیں والدین کو حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت اور بیماریوں سے ان کے بچوں کو لاحق خطرات کے بارے میں بتانا چاہیے عالمی ادارہ صحت کے حفاظتی ٹیکے وبائی امراض سے تحفظ اور ان کے خاتمے کیلئے سب سے موثر ذریعہ ہیں۔ بعد حفاظتی ٹیکوں کو ہی سب سے اہم خیال کیا جاتا ہے ہر سال حفاظتی ٹیکوں کی مدد سے تقریباً 30 لاکھ اموات کو روکا جاتا ہے اور 7 لاکھ 50 ہزار بچوں کو معذوری سے بچایا جاتاہیانہوں نے کہا کہ جنوبی مشرقی ایشیا کا یہ دوسرا سال ہے کہ پورے خطے میں کوئی ایک بھی پولیو کا کیس سامنے نہیں آیا اور یہ خطہ فروری 2014ء سے پولیو سے پاک خطہ قرار دیئے جانے کیلئے تیار ہے اس کے برخلاف پاکستان میں اس سال پولیو کے 50 کیسز سامنے آچکے ہیں یہ صورت حال حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو مزید موثر بنانے کی اہمیت پر زور دیتی ہے

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...