آپ ایک ہزار سال قبل کہاں رہتے تھے؟

آپ ایک ہزار سال قبل کہاں رہتے تھے؟
آپ ایک ہزار سال قبل کہاں رہتے تھے؟

  



نیویارک (بیورورپورٹ) دنیا بھر میں لوگ اپنے خاندانی حسب و نسب کے متعلق معلومات حاصل کرنے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ان کے بزرگوں کا تعلق کس جگہ اور نسل سے تھا۔ عام طور پر شجرہ نسب چند نسلوں تک محدود ہوتا ہے لیکن اب جنسیات کی تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے ایک ایسا ٹیسٹ ایجاد کیا ہے کہ جس کے ذریعے آپ خاندان کی ہزار سالہ تاریخ جان سکتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کا استعمال کرنے والے اس ٹیسٹ سے بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ آج سے ہزار سال پہلے آپ کے بزرگ کس گاؤں یا قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ یونیورسٹی آف شیفیلڈ کی ڈاکٹر ایرن اہل ہائک جنہوں نے جیو گرافک پاپولیشن سٹرکچر نامی سسٹم ایجاد کیا ہے، کا کہنا ہے کہ لوگ گھروں، محلوں، غاروں اور خیموں میں رہتے ہیں اور اگرچہ وہ ان ہی جگہوں پر پیدا ہوئے تھے لیکن ان کا ڈی این اے کہیں اور سے ہی آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ہم جہاں رہتے ہیں ہمارے ڈی این اے کا تعلق بھی وہیں سے ہوبلکہ ہوسکتا ہے کہ یہ کہیں بہت دور دراز کے علاقے سے ہجرت، غلامی یا فتوحات کے نتیجہ میں موجودہ جگہ پر آیا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا سسٹم اس بنیادی انسانی سوال کا جواب دیتا ہے کہ جس میں ہر انسان اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ میں کہاں سے آیا ہوں؟

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...