نالج پارک خطے میں بین الاقوامی معیار کا پہلا منفرد تعلیمی مرکز ہو گا، شہباز شریف

نالج پارک خطے میں بین الاقوامی معیار کا پہلا منفرد تعلیمی مرکز ہو گا، شہباز ...

  



لندن (سہیل چوہدری) وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دشہت گردی کا خاتمہ صرف بندوق سے ممکن نہیں بلکہ بندوق کیساتھ تعلیم کے ذریعے سماجی و اقتصادی تبدیلی کے عمل سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوگا پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں تعلیم ہی ایک ایسا شعبہ ہے جو کھیل کا پانسہ بدل کر عصر حاضر کے چیلنجز کو مواقع میں بدل سکتا ہے گزشتہ روز لاہور نالج پارک کے یہاں روڈ شو کی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کررہے تھے انہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ دردناک ہے 80کی دہائی میں پاکستان کو اشتراکیت کے خلاف صف اول میں استعمال کیا گیا اس وقت یو بویا تھا آج وہ کاٹ رہے ہیں ا س وقت کے جہادی آج دہشت گرد بن چکے ہیں اشتراکیت کے خلاف جہاد کرنے والے اب طالبان کی شکل اختیار کرچکے ہیں تاہم معاشرے کی اصلاح کیلئے تعلیم سب سے اہم ہتھیارہے اگر ہم نے درپیش چیلنجز کا پامردی سے مقابلہ نہ کیا تو صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے جن اقوام نے حالات کا بہادری سے مقابلہ کیا وہ اس وقت ترقی کی مثال بن گئی ہیں انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 70کی دہائی پاکستانی معاشرہ میں رواداری بہت تھی اور غیرمسلم آزادانہ طریقے سے اپنے مشغولات انجام دیتے تھے لیکن اب حالات بدل چکے ہیں تاہم ہم ان چیلنجز کا مقابلہ کریں گے کیونکہ یہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے چونکہ معاشرہ کی اصلاح کا سب سے بڑا ذریعہ تعلیم ہے اس لیے پنجاب حکومت نے تعلیم کے شعبہ پر توجہ مرکوز کررکھی ہے ہم نے ہر درجے کی تعلیم میں بہتری کیلئے پروگرام بنائے ہیں۔جبکہ تعلیم کے شعبہ میں برطانیہ ہمارے ساتھ تعاون کررہا ہے تاہم وزیراعلی شہبازشریف نے کہا کہ برطانیہ میں ٹیکس دہندگان یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کے ٹیکس کی رقم پاکستان میں خرچ ہوتی ہے تو پاکستانی لوگ تعلیم کے شعبہ میں کیوں خرچ نہیں کرتے وزیراعلی شہباز شریف نے کہا کہ اس لیے جب تک ہم اپنے اخراجات کے وسائل خود پیدا نہیں کرتے ہم اقوام عالم میں عزت کا وہ مرتبہ حاصل نہیں کرسکتے جو ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت تیز تر اصلاحات اور ترقی کے لئے سرخ فیتہ کے خاتمہ کے لئے کوشاں ہے ،انہوں نے کہا کہ وہ بیور و کریسی کے خلاف نہیں لیکن عام آدمی کے مسائل حل کرنے کے لئے بیورو کریسی کے مخصوص رویئے اور مائنڈ سیٹ کے خلاف ہیں ،انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے پہلے مرحلہ میں لڑکیوں کے سکولوں کی بہتری کے پر توجہ دی اب لڑکوں کے سکولوں کی بہتری کی طرف توجہ دی جائے گی ،بالخصوص جنوبی پنجاب میں جہاں انتہاء پسندی کے جراثیم موجود ہیں ،انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت نے ایک لاکھ چالیس ہزار اساتذہ میرٹ پر شفاف طریقے سے بھرتی کئے میرٹ پر ہی لیپ ٹاپ بانٹے گئے جس کی وجہ سے دور افتادہ علاقوں میں طالبعلم انٹر نیٹ سے تعلیمی و تحقیقی سر گرمیوں میں فائدہ اٹھارہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کا خاصہ میرٹ اور شفافیت ہے ،عوام نے ہم پر اعتماد کرکے ہمیں ووٹ دیئے ہم عوام کی خدمت کرنے اور ان کے اعتماد پر پورا اترنے کے پابند ہیں ،انہوں نے کہا کہ اگرچہ راتوں رات تبدیلی نہیں آسکتی ،اب ہمیں ماضی کے بوجھ سے پیچھا چھڑا کر آگے بڑھنا ہے ،اور تعلیم کے ذریعے لوگوں کی سوچ کو بدلنا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ دہشتگردی کو شکست دینی ہے ،اگر ہم اس ناسور سے چھٹکارا نہیں پاتے تو پاکستان کی بقا ممکن نہیں ،تعلیم کے ذریعے دہشتگردی و انتہاء پسندی کا خاتمہ کرینگے ،انہوں نے کہا کہ لاہور نالج پارک کا منصوبہ اس سلسلہ کا اقدام ہے جس کے تحت لاہور ائر پورٹ کے نزدیک بیش قیمت زمین تمام سہولتوں کے ساتھ یونیورسٹیوں کو مفت دینگے اور نوجوانوں کو تعلیم سے ا س زمین کی مٹی سونے میں بدل جائے گی ،انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلانا چاہتے ہیں لیکن بیرون ملک اعلیٰ تعلیم لوگوں کی پہنچ سے دور ہے ،اس لئے لاہور نالج پارک میں عالمی معیار کی یونیورسٹیوں کی شراکت داری سے نوجوانوں کے لئے معیاری اعلیٰ تعلیم کا حصول ممکن ہوسکے گا ،انہوں نے کہا کہ لاہور نالج پارک میں انڈسٹری اور مارکیٹ کی ضرورت اور معیار کے مطابق تعلیم دی جائے گی تاکہ تحقیق کی بھی مقامی ضروریات پوری ہوسکیں ،وزیراعلیٰ نے بتا یا کہ پنجاب حکومت کا اسی نظریہ پر ہنر مند افراد کی تربیت کا پروگرام جاری ہے ،جس میں 50 ملین پاؤنڈ برطانوی حکومت کی اعانت ہوگی جس کے تحت مارکیٹ اورانڈسٹری کی ضروریات کے مطابق 40ہزار نوجوانوں کو تربیت دی جاچکی ہے ،اور اکثریت کو تین ماہ کے اند ر اندر ملازمت مل گئی ،انہوں نے کہا کہ لاہور نالج پارک کے لئے اور وہاں کام کرنے والوں کو مکمل فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے گی ،اور لاہور نالج پارک کے اندر اعلیٰ معیار کی تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی ،قبل ازیں وزیر تعلیم رانا مشہود نے افتتاحی کلمات ادا کئے جبکہ قدامت پسندجماعت کے لارڈ طارق احمد نے تعلیم اور تحقیق کے شعبہ میں برطانیہ کے کردار کے حوالے سے بات کی اور کہا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ ان شعبوں میں اشتراک کر سکتا ہے ،سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن عبداللہ سنبل نے لاہور نالج پارک کے تصور اور منصوبہ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ،اس موقع پر برطانیہ کی کلیدی یونیورسٹیوں کے نمائندوں اور پرووائس چانسلرز نے شرکت کی اور سوال وجواب کا سیشن بھی ہو ا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ لاہور میں قائم ہونے والانالج پارک جنوبی ایشیاء کے خطے میں بین الاقوامی معیار کا پہلاتعلیمی مرکز ہوگا،جس میں اساتذہ اور ملکی و غیر ملکی طلبہ کے لئے رہائش گاہیں،شاپنگ مال،تفریحی مراکز اور زندگی کی دیگر تمام سہولتیں دستیاب ہوں گی۔تقریب میں برطانوی سرمایہ کاروں ،یونیورسٹیز کے سربراہوں،ڈینزاور ماہرین تعلیم نے بڑی تعداد میں شرکت کی اورلاہور میں نالج پارک کے قیام کے منصوبے میں گہری دلچسپی کا اظہارکیا۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اعلی تعلیم کے اپنی نوعیت کے اس منفردمرکزکے قیام کا بنیادی مقصدان پاکستانی نوجوانوں کو اپنے ملک میں اعلی تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنا ہیں جن کے پاس مہنگی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک جانے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔اس نالج پارک میں قائم ہونے والے تعلیمی اداروں میں صرف پاکستان کے ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک کے طالب علم بھی تعلیم حاصل کریں گے۔ نالج پارک میں غیر ملکی تعلیمی اداروں کے کیمپس کھولنے کے لئے سرمایہ کاروں کو سہولتیں دی جائیں گی۔پنجاب کی پہلی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا کیمپس بھی نالج پارک میں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اوربرطانیہ کی دوستی مضبوط تاریخی اور ثقافتی رشتوں پر استوار ہے اور ہم تعلیم کے میدان میں برطانیہ کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتہاء پسندی اور تشدد کے رجحانات راتوں رات پیدا نہیں ہوئے اور اب انہیں ختم ہونے میں بھی وقت لگے گا ،تاہم ہمیں پاکستان کی موجودہ صورتحال کو اس کے صحیح تاریخی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 40ہزارقیمتی انسانی جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہمارا عزم کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔میں دیانتداری سے یہ سمجھتا ہوں کہ عسکریت اورانتہا پسندی کے موجودہ رجحان پر صرف بندوق کی گولی سے قابو نہیں پایا جاسکتا ،اس کے لیے ہمیں دہشت گردی کے مختلف اسباب کا زمینی حقائق کے مطابق جائزہ لیکر انہیں دور کرنا ہوگا۔شہباز شریف نے کہا کہ تعلیم کو عام کیے بغیر عوام میں رواداری، برداشت اور وسعت نظری کے کلچر کو متعارف نہیں کرایا جاسکتا ،اسی طرح ہمیں معصوم مگر غریب نوجوانوں کو انتہا ء پسندوں کے چنگل سے نجات دلانے کے لیے ان کی بیماری اوربھوک کا مداوا کرنا ہوگا۔تعلیم کے بغیرترقی کا کوئی تصور مکمل نہیں ہوسکتااورتعلیم بذریعہ روزگار ہی نہیں، یہ قوم کو عزت نفس کا سبق بھی دیتی ہے

مزید : صفحہ اول