متحدہ کے مقتول کارکنان سپرد خاک، وقت آمیز مناظر، سندھ بھر میں حتجاج، تعلیمی ادارے بند

متحدہ کے مقتول کارکنان سپرد خاک، وقت آمیز مناظر، سندھ بھر میں حتجاج، تعلیمی ...

  



 کراچی (آئی این پی) ایم کیو ایم کے دو مقتول کارکنان کوجمعہ کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ، اس سے قبل نماز جنازہ میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین ، اراکین صوبائی و قومی اسمبلی سمیت ہزاروں کارکنان نے شرکت کی، تدفین کے موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، جنازہ کے بعد مشتعل کارکنان نے ایم کیو ایم کے بے گناہ کارکنوں کے قتل میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ کراچی میں نماز جمعہ کے بعد ایم کیو ایم کے دو کارکنان محمد سمیدکو شہداء قبرستان یاسین آباد اور سلمان قریشی کوجامعہ کراچی قبرستان میں آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر نظر آئے ۔ لواحقین دھاڑیں مارمار کر روتے رہے ۔ تدفین سے قبل نمائش چورنگی میں مولانا تنویر الحق تھانوی نے مقتولین کی نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ میں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینئر خالد مقبول صدیقی و دیگر اراکین رکن قومی اسمبلی فاروق ستار سمیت دیگر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد ایم کیو ایم کے کارکنوں نے مشتعل ہو کر نعرے بازی کرتے ہوئے بے گناہ ساتھیوں کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا،دریں اثنائسندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان کی ماورائے عدالت قتل کے خلاف مذمتی قرار داد منظور متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔جمعہ کو اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کے تمام اراکین سیاہ بٹیاں باندھ کر شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی سید سرداراحمد نے مذمتی قرارداد پیش کی جسے اسمبلی کے اراکین نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ اس سے قبل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے کہاکہ ہم یوم سوگ نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی یہ چاہتے ہیں کہ بچے اسکول اور لوگ دفتر نہ جائیں، ہم ملک کی معیشت کی ترقی چاہتے ہیں لیکن ہمارے کارکنوں کو عبرت ناک تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے جو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔فیصل سبزواری نے کہاکہ 20 سال پہلے بھی ہم نے یہ سب دیکھا کہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن آج وہ دور نہیں ہے، آج پاکستان کے اور بھی سینکڑوں مسائل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگرٹارگٹڈ آپریشن پرنظرڈالی جائے تو یہ صرف ایم کیو ایم کے خلاف ہورہا ہے، بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑیوں میں سوار لوگ کارکنوں کو اٹھاکرلے جارہے ہیں اور ان کی لاشیں پھینک رہے ہیں، اگر ہمارے کسی کارکن پر کوئی مقدمہ ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، ہم پاکستان کے تمام اداروں سے اپیل کرتے ہیں ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے کارکنوں کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جمعہ کو کراچی، حیدرآباد اور سکھر سمیت سندھ بھر میں یوم سوگ منایا گیا، کراچی سمیت سندھ بھر کے مختلف شہروں میں پٹرول پمپس بند جبکہ ٹریفک سڑکوں سے غائب رہی، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا،یوم سوگ کے باعث ایم کیو ایم کے دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے گئے جبکہ متحدہ کے کارکنوں کی جانب سے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرہ بھی کئے گئے،یوم سوگ کے باعث کراچی، حیدرآباد اور سکھر سمیت سندھ بھر کے اسکول، کالجز اور جامعات بند رہیں جبکہ تعلیم اداروں میں ہونے والے تمام پرچے ملتوی کر دیئے گئے، ملتوی ہونے والے پرچوں کی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں سمیت سندھ تاجر اتحاد ،کراچی پبلک ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ،ورکرز یونین، فروٹ مارکیٹ ایسوسی ایشن اور ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن نے بھی ایم کیو ایم کے یوم سوگ کی حمایت کرتے ہوئے ہڑتال کی۔جمعہ کو متحدہ کی اپیل پرتعلیمی ادارے، بازار اور پیٹرول پمپ بند رہے جبکہ تمام تعلیمی اداروں میں پرچے ملتوی کردیے گئے ۔ایم کیو ایم کی جانب سے یوم سوگ کے اعلان کے بعد کراچی میں کاروباری مراکز مکمل بندکردیے۔ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری نے اور آل پرائیوٹ اسکول ایسوسی ایشن نے ایم کیو ایم کے یوم سوگ پر ٹرانسپورٹ اورتمام اسکول بند رکھے نے عملی امتحانات ملتوی کردیے ۔

مزید : صفحہ اول