امریکی انتظامیہ نے پرانے الزام نئے انداز میں دہرائے

امریکی انتظامیہ نے پرانے الزام نئے انداز میں دہرائے
امریکی انتظامیہ نے پرانے الزام نئے انداز میں دہرائے

  



تجزیہ :چودھری خادم حسین

کسی نے کہا کنفیوژن ختم کیوں نہیں ہوتا؟ابھی ایک امر واضح ہوتا ہے کہ کسی دوسری طرف سے کوئی نئی بات سامنے آجاتی ہے، یہ وضاحت ہوگئی کہ کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے سیاسی اور عسکری قیادت کی سوچ اور حکمت عملی بھی ایک ہی ہے، فرق عمل کا ہے، مذاکراتی عمل سیاسی قیادت کے سپرد ہے، شدت پسندی اور دہشت گردی کا جواب فوج نے دینا ہے، جس کا کام اسی کو ساجھے والی بات ہے۔ ابھی یہ امر واضح ہوا ہے کہ امریکہ کی انتظامیہ نے پرانے الزام کو نئے انداز سے لگادیا ہے، ایک امریکی رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ فاٹااور بلوچستان میں ایسے دینی ادارے ہیں جو دہشت گرد تیار کرتے ہیں جبکہ افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک پاکستان میں موجود ہے،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی افغانستان چھوڑنے سے قبل کس قسم کے انتظامات کرنا چاہتے ہیں، یہ تو پھر ’’ڈومور‘‘والی بات ہے اگرچہ اب مطالبہ نہیں کیا گیا اپنی طرف سے معلومات کا اظہار کیا گیا ہے، پاکستان اس سے انکار کرتا ہے۔

جہاں تک پاکستان کے اندر طالبان کے نیٹ ورک کا تعلق ہے تو اس سے امریکہ کو یوں بے فکر ہو جانا چاہئے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے، پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے دن رات ان کی تلاش میں رہتے ہیں، اس لئے امریکی رپورٹ بے معنی ہوجاتی ہے اور اگر امریکی انتظامیہ کا مقصد کچھ اور ہے تو پھر کھل کر الزام لگائے یہ ملفوف بات کرنے کا مطلب دباؤ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا،تاہم ہماری سیاسی قیادت کو دوسرے امور کے ساتھ اس طرف بھی توجہ دینا چاہئے بلاشک فرزند راولپنڈی شیخ رشید کو نظر انداز کریں ،لیکن جس انداز سے اور جس مانگ کے تحت وہ ٹی وی کی سکرینوں پر آکر جمہوریت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں ،اس بارے میں تو غور ضروری ہے،یہ درست کہ حکومت نے ساری توجہ اقتصادی بحالی کی طرف مرکوز کردی ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو ترغیب اور تسلی بھی دے رہے ہیں،لیکن یہ تو اسی طرح ممکن ہے کہ ملک میں حقیقی امن قائم ہو جائے، اس سلسلے میں اب ان سیاست دانوں نے بھی کہنا شروع کردیا ہے جنہوں نے مینڈیٹ دیا تھا کہ حکومت مذاکرات کے حوالے سے وقت ضائع کررہی ہے، چھ ماہ سے زیادہ ہوگئے نہ تو کوئی پیش رفت ہوئی اور نہ ہی مذاکرات کا سلسلہ ختم ہوا، قوم کو ذہنی طور پر تیار کیا گیا کہ امن کے لئے بات چیت ہی حل ہے،قوم نے مان لیا ،لیکن اب یہی قوم ایک دوسرے ایشو کے حوالے سے فوج کے پیچھے آکھڑی ہوئی ہے ، اس سے کیا ثابت ہوتا ہے یہی کہ فوج کی قربانیوں کو تسلیم کیا گیا ہے اور اگر کوئی فوجی حل تجویز ہوا تو قوم فوج کے ساتھ ہوگی، ویسے اس حوالے سے مظاہروں نے کچھ زیادہ ہی زور پکڑ لیا ہے، سوچنے کی بات ہے کہ سبھی فوج کے کردار کی تعریف وتائید کرتے ہیں کسی کو اختلاف نہیں، لوگ عمومی گفتگو میں بھی ایسے ہی تاثرات کا اظہار کرتے ہیں،لیکن جو تنظیمیں مظاہرے کر رہی ہیں وہ خاص نظرئیے کی حامل ہیں۔ ان میں مذاکرات کی حامی اور طالبان کے خلاف عسکری قوت استعمال کرنے والے بھی شامل ہیں، یقیناً حمائت کا پہلو نمایاں ہوگیا ہے کیا یہ کافی نہیں؟

عام شہری تو اب ڈاکٹر طاہر القادری کی عوامی تحریک اور تحریک انصاف کی طرف سے ایک ہی تاریخ پر ایک ہی طرح کے مطالبات کے لئے مظاہروں اور تحریک کو بھی کسی اور ہی انداز سے دیکھ رہے ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری گزشتہ برس ایک دھرنے کے بعد واپس کینیڈا چلے گئے تھے اب زیادہ تیاری کے ساتھ پلٹ رہے ہیں، پہلے شدید سردی تھی اور اب شدید گرمی ہے(وہ خود تو بہرحال ائیر کنڈیشنڈ کنٹینر میں ہوں گے) ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوامی تحریک اور تحریک انصاف اس مسئلہ پر مل جائیں گی اور مشترکہ احتجاج کریں گی، حکمرانوں نے اس حوالے سے غور کیا اور کیا سوچا ہے اس کا اندازہ نہیں،بہرحال ڈاکٹر طاہر القادری جانے والے نہیں ،اگریہ دونوں جماعتیں مصر ہیں تو پھر انجام کیا ہوگا؟کیا یہ چاہتے ہیں کہ ماضی خود کو دہرائے؟یا ذرا مشکل محسوس ہوتا ہے، کہ تاحال ان کے سوا باقی جماعتیں خاموش ہیں، جماعت اسلامی ساتھ دے سکتی ہے کسی اور جماعت کا اندازہ نہیں ہے۔ ایم کیو ایم بھی سڑکوں پر آنا چاہتی تھی،لیکن وہ خود دہرے کردار میں پھنس گئی ہے، سندھ حکومت میں شامل ہوگئی،گورنر ان کا ہے اس کے باوجود کارکنوں کے مبینہ ماورائے قانونقتل پر احتجاج کررہی ہے، آنے والے دن مزید واضح کرتے جائیں گے،11مئی آرہی ہے تو بھارتی انتخابات کے نتائج بھی سر پر ہیں۔

مزید : تجزیہ


loading...