رواں سال ملک میں ضرورت سے 10لاکھ ٹن گندم کم پیدا ہوئی، ابراہیم مغل

رواں سال ملک میں ضرورت سے 10لاکھ ٹن گندم کم پیدا ہوئی، ابراہیم مغل

  



لاہور(کامرس رپورٹر)چیئرمین ایگری فورم ڈاکٹر محمد ابراہیم مغل نے کہا ہے کہ گندم پیداواری وخریداری ہدف پورا نہ ہوتا دیکھ کر کسانوں پر حکومت نے ڈنڈے برسانے شروع کر دیئے۔ کسانوں کی 1400روپے من بکنے والی گندم حکومت 1150روپے من چھیننا چاہتی ہے۔ کسان جب ڈیزل، کھاد، بیج، بجلی و ٹریکڑ انٹر نیشنل نرخوں پر خریدتے ہیں تو انہیں گندم بھی اپنی مرضی سے بیچنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ گزشتہ روز خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس سال ملک میں ضرورت سے 10لاکھ ٹن گندم کم پیدا ہوئی ہے۔ حکومت کو یہ گندم 1650روپے من درآمد کرنا پڑے گی۔ محکمہ زراعت، خوراک و پاسکو کی نااہلی اور عدم توجہ سے گندم کے پیداواری و خریداری اہداف بری طرح ناکام رہیں گے۔ اس سال ملک میں 26ملین ٹن گندم پیدا کرنی چاہیے تھی۔ جبکہ گندم کی پیداوار25ملین ٹن سے بھی کم آرہی ہے۔ جس کی وجہ پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں۔ شہری آبادی کےلئے حکومت کے پاس کم از کم90لاکھ ٹن گندم ہونی چاہیے ، جبکہ اس سال حکومت کسانوں پر ڈنڈے برسانے کے باوجود50سے 55لاکھ ٹن گندم چھین پائے گی۔اور یوں شہری آبادی بجلی، گیس، پانی ، امن عامہ، صحت و تعلیم کے بعد اب خوراک بھی حاصل نہیں کر پائے گی۔ اب بھی موقع ہے کہ حکومت فوری طور پر گندم کے نرخ 1400روپے من کرکے 90لاکھ ٹن گندم کی خریداری یقینی بنائے ، ورنہ سارا سال لوگوں کو آٹے اور روٹی کےلئے قطاروں میں لگنا پڑیگا۔

ابراہیم مغل

مزید : صفحہ آخر