یاداشت واپس لانے کا طریقہ ایجاد ہوگیا

یاداشت واپس لانے کا طریقہ ایجاد ہوگیا
یاداشت واپس لانے کا طریقہ ایجاد ہوگیا

  



واشنگٹن(بیورورپورٹ) ہمارے دفاع میں محفوظ ماضی کی یادیں اور گزرے پلوں کے عکس ہی وہ سرمایہ ہیں کہ جن کے سہارے ہم زندہ رہتے ہیں، اگر ہماری یادداشت کھوجائے تو اس کا مطلب ہماری ہستی کا فراموش ہوجانا بھی ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے دفاعی تحقیق کے ممتاز ادارے ”ڈیفینس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹس ایجنسی“ نے دماغ کیلئے ایسے اجزاءتیار کرلئے ہیں کہ جن کو دماغ کا حصہ بنادینے سے کھوئی ہوئی یادداشت کو واپس لایا جاسکتا ہے۔ اس طریقہ کو نہ صرف جنگ میں زخمی ہوکر یادداشت کھونے والے فوجیوں کیلئے استعمال کیا جائے گا بلکہ الزائمر کے مرض کا شکار افراد بھی اس سے مستفید ہوسکیں گے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس میں ہونے والی ایک کانفرنس میں اس تحقیق کے پراجیکٹ منیجر جسٹن سانچز نے کہا کہ اگر آپ اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران زخمی ہوتے ہیں اور اپنے خاندان کو یاد نہیں کرپارہے، تو ہم آپ کی اس صلاحیت کو بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم اس تحقیق پر اخلاقی حوالہ سے کچھ اعتراضات کئے گئے ہیں کہ یہ انسان کی شخصیت اور تحت الشعور کو بدل سکتی ہے۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی


loading...