امن مذاکرات میں پھرڈیڈلاک،نثارکے بعدابراہیم نے بھی اعتراف کرلیا

امن مذاکرات میں پھرڈیڈلاک،نثارکے بعدابراہیم نے بھی اعتراف کرلیا
امن مذاکرات میں پھرڈیڈلاک،نثارکے بعدابراہیم نے بھی اعتراف کرلیا

  



پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک )قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا یا نہیں، امن مذاکرات میں پھر ڈیڈلاک کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ حکومت اور کالعدم طالبان دونوں طرف سے شکایات کے باعث بات آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار کے بعد پروفیسر ابراہیم نے بھی مذاکرات کی راہ میں شدید مشکلات کا اعتراف کرلیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کالعدم طالبان قیدیوں کی رہائی کے باوجود پیش رفت نہیں ہورہی۔پشاور میں ایک نجی ٹی وی سے خصوصی گفت گو میں کالعدم طالبان رابطہ کار کمیٹی کے رکن پروفسیر محمد ابراہیم کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی راہ میں مشکلات پھر آڑے آنے لگیں۔ حکومت کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کے باوجود بات چیت میں پیش رفت نہیں ہورہی۔ طالبان رابطہ کار پروفیسر ابراہیم کہتے ہیں کہ وزیرستان میں آپریشن اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے الزامات بھی ہیں، شکایات دونوں طرف سے ہیں جس کا ذکر چوہدری نثار بھی کرچکے ہیں۔پروفیسر ابراہیم وفاقی وزیرداخلہ کے بیان کو غیرمعمولی قرار دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود قیام امن کیلئے سنجیدہ کوششیں جاری رکھیں گے، آرمی چیف سے ملاقات کے مو¿قف پر آج بھی قائم ہیں لیکن طالبان رابطہ کار کا طالبان قیادت سے رابطہ نہیں ہو رہا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یوسف شاہ یا سمیع الحق کے طالبان سے رابطے سے متعلق معلومات نہیں ہیں۔

مزید : قومی /Headlines


loading...