حکومت ”بالآخر“ نادرا کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی

حکومت ”بالآخر“ نادرا کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی
حکومت ”بالآخر“ نادرا کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک سال کی کڑی محنت کے بعد با لآ خر حکومت نادرا کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے اور ادارے کا چہروں کی شناخت کا نظام (فیشل ویریفکیشن سسٹم) لائسنس کی تجدید نہ کروانے کی وجہ سے بند ہوگیا ہے جس کے بعد ادارہ اب صرف انگلیوں کے نشانات کی تصدیق کرکے کام چلارہا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں پاکستانیوں کی دستاویزات اور شناختی کارڈ کے ڈیٹا کی تصدیق کا کام ٹھپ ہوگیا ہے۔ سب سے زیادہ پاسپورٹ کی درخواست دینے والے افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ نئے چیئرمین کی عدم دستیابی ہے۔ وزیرداخلہ 110 دن گزرنے کے باوجود اس پوسٹ کیلئے اشتہار نہیں دے سکے۔ قائم مقام چیئرمین نے پروٹوکول کے چکر میں ”نادرا“ کو کے جی بی کے دفتر میں تبدیل کردیا ہے۔ ”نادرا“ میں کوئی افسر اس حوالے سے بار بار رابطوں کے باوجود بات کرنے کو تیارنہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق ”نادرا“ اس وقت عضو معطل بنا ہوا ہے۔ سابق چیئرمین نادرا طارق ملک جنہیں انتہائی عجلت میں پہلے 3 دسمبر کو ہٹایا گیا تھا، تاہم بعد ازاں وہ 10 جنوی کو خود مستعفی ہوگئے، ان کے جانے کے 30 دن کے اندر وزیرداخلہ نے نیا چیئرمین میرٹ پر لگانے کے دعوے کئے تھے مگر 10 دن گزرنے کے باوجود ابھی تک نئے چیئرمین کے لیے اشتہار بھی نہیں دیا جاسکا ہے۔ وزارت داخلہ میں پاکستان ایڈمنسٹریٹر سروس کے ”بابو“ کسی صورت میں بھی ان مزوں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں جو بور قائم مقام وہ لے رہے ہیں۔ وزیر داخلہ ڈی جی، جی ایم کی پوسٹیں کم کرکے اخراجات کنٹرول کرنے کے دعوے کررہے ہیں جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ صرف کرنٹ چارج، قائم مقام ڈی جی، جی ایم ہٹائے گئے ہیں جو صرف نظروں کا دھوکہ ہے۔ امتیاز تاجور جنہیں قائم مقام چیئرمین لگایا گیا، 13 جنوری کے بعد وہ اپنے کرنٹ چارج، قائم مقام چارج 90 دن کی مدت پوری کرچکے ہیں۔ ان کے موجودہ عہدے کی دوسری مدت کی منظوری وزیراعظم نے دینا ہے۔ اس حوالے سے ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی کہ یہ منظوری حاصل کرلی گئی ہے یا نہیں۔ ”نادرا“ میں اس وقت خوف کا ماحول ہے اور کوئی افسر ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے۔ عام آدمی کی کسی افسر تک رسائی نہیں ہے۔ لوگ کئی کئی ہفتے چکر لگارہے ہیںلیکن انہیں نہ شناختی کارڈ مل رہے ہیں اور نہ ہی دستاویزات جبکہ پاسپورٹ اور دوسرے تصدیقی عمل والوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ ایسے میں فرانسیسی کمپنی مارفو نے چہرے کی شناخت والے نظام کے لائسنس کی مدت ختم ہونے پر اس کی تجدید نہ کروانے پر ”نادرا“ کا لائسنس معطل کردیا ہے۔ اب پچھلے دو ماہ سے ”نادرا“ کے پاس چہرے کی شناخت کی تصدیق کی صلاحیت نہیں ہے۔ وہ محض انگلیوں کے نشانات کی تصدیق اپنے (AFC) آٹو میٹڈ فنگر آئینڈ ٹیفیکشن سسٹم پر گزارا کررہی ہے۔ اس حوالے سے ”ورک لوڈ“ بہت زیادہ ہے۔ اس لئے بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ”نادرا“ نے پہلے جرمن فرم سے معادہ کیا تھا، اس کے بعد یہ فرم امریکہ نے خرید لی اور اب اس فرم کی ملکیت فرانس والوں کے پاس ہے۔ یہ کئی ملین ڈالر کا سسٹم ہے جو محض لائسنس کی تجدید نہ کروانے پر بے کار پڑا ہے۔ تکنیکی طور پر ”نادرا“ اس وقت اپنے 15 سالوں کے بدترین دور سے گزررہی ہے۔ مشکوک ڈگریوں والے سیاسی دباﺅ پر اس وقت بھی انتہائی اعلیٰ عہدوں پر مزے لوٹ رہے ہیں، حالانکہ ان افسران پر مبینہ طور پر لاکھوں افغانیوں کو پاکستانی کارڈ جاری کرنے کے الزامات ہیں اور رپورٹ دیجی لینس سیل میں پڑی سڑ رہی ہیں۔ اس ضمن میںنادرا میں اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والے سابق افسران کا کہنا ہے کہ نادرا کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

مزید : قومی


loading...