آسام:باغیوں کے حملوں میں 30 بنگالی مسلمان ہلاک

آسام:باغیوں کے حملوں میں 30 بنگالی مسلمان ہلاک
آسام:باغیوں کے حملوں میں 30 بنگالی مسلمان ہلاک

  



نئی دہلی (بیورو رپورٹ )بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں کوکراجھار اور باسکا کے اضلاع میں پر تشدد واقعات میں 30 مسلمان ہلاک ہوگئے ہیں ۔بی بی سی کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد بنگالی مسلمان تھے اور مبینہ طور پر انھیں بوڈو قبائلیوں نے نشانہ بنایا۔کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے ان ہلاکتوں پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی۔انھوں نے کہا کہ بھارت کی اکثریت لوگوں کو منقسم کرنے والی اور شدت پسند قوتوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق حکومت نے متاثرہ علاقے میں گشت کے لیے فوج کی مدد حاصل کر لی ہے اور مرکز سے نیم فوجی دستوں کی دس کمپنیاں بھی طلب کی گئی ہیں جبکہ علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔بوڈو قبائلیوں کا الزام ہے کہ سرحد پار بنگلہ دیش سے آنے والے مسلمان غیر قانونی طور پر اس علاقے میں آباد ہوگئے ہیں۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ تشدد کے ان واقعات کا پارلیمانی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس علاقے میں 24 اپریل کو ووٹ ڈالے گئے تھے جس میں ایک قبائلی اور ایک غیر قبائلی امیدوار کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔پولیس کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ سے بتایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ 2012 ءمیں آسام میں بوڈو قبائل اور مسلمانوں کے درمیان خوں ریز تصادم ہوئے تھے جن میں 100 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے تھے۔ مرنے والوں اور بے گھر ہونے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں


loading...