کیری لوگر بل: امریکہ پاکستان کو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر دینے کے وعدے سے مکر گیا

کیری لوگر بل: امریکہ پاکستان کو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر دینے کے وعدے سے مکر گیا
کیری لوگر بل: امریکہ پاکستان کو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر دینے کے وعدے سے مکر گیا

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کیری لوگر برمن معاہدے کے تحت پاکستان کو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر فراہم کرنے کے اپنے ہی وعدے سے پھر گیا، جب سے بل پاس ہوا ایک بار بھی سال میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد نہیں ملی جبکہ دونوں ممالک کے مابین معاہدہ اکتوبر 2014ءمیں ختم ہوجائے گا۔ گزشتہ اڑھائی سالوں میں صرف 1.189ارب ڈالر کی امداد دی گئی اس میں سے بھی بڑا حصہ امریکی ٹھیکے دار لے گئے جو 49 کروڑ ڈالر ہے جبکہ حکومت پاکستان کو براہ راست 2 سال میں صرف 30 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہی مل سکے، نواز شریف حکومت نے نہ صرف کیری لوگربل کے تحت امداد براہ راست حکومت کو دینے بلکہ ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کا وعدہ پورا کرنے کا بھی امریکہ سے مطالبہ کردیا۔ پارلیمنٹ میں پیش کی جانیوالی وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاک امریکہ شراکت داری بڑھانے کے لیے کیری لوگر برمن قانون سازی 2009ءمیں ہوئی تھی جس کے تحت پاکستان کو سماجی، معاشی، تعلیمی ترقی اور صحت سمیت انفراسٹرکچر کے دیگر منصوبوں کیلئے امریکہ کی طرف سے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر ملنا تھے یہ معاہدہ پانچ سال کے لیے ہے اور اکتوبر 2014ءمیں یہ ختم ہوجائے گا تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2011، 2012اور 2013 میں مجموعی طور پر 73کروڑ 90 لاکھ ڈالر دئیے گئے رواں مالی سال میں 31 دسمبر 2013 تک صرف 15 کروڑ 66 لاکھ ڈالر ہی مل سکے اس طرح اڑھائی سالوں میں صرف 1189ملین ڈالر ملے یعنی کسی بھی سال میں وعدہ کی گئی ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کی امداد نہیں ملی اور جو امداد دی گئی اس میں مجموعی طور پر حکومت پاکستان کو ملنے والی براہ راست امداد صرف 30 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھی زیادہ رقم امریکہ نے اپنے نامزد کردہ ٹھیکے داروں، غیر سرکاری تنظیموں اور عالمی این جی اوز و اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ذریعے استعمال کی۔ سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے کیری لوگربل کے تحت آنے والی رقم میں سے 31 ملین ڈالر ملکی این جی اوز، 65.4 ملین ڈالر عالمی این جی اوز، سب سے زیادہ 490.5ملین ڈالر یو ایس ایڈ کے اپنے نامزد کردہ ٹھیکے داروں اور 47.5ملین ڈالر کی رقم یو این ایجنسیوں کے ذریعے خرچ کی گئی یعنی امریکہ نے پاکستانی اداروں اور حکومت پر اس امداد کے استعمال کے حوالے سے اعتماد نہیں کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے کئی بار امریکی اعلیٰ حکام پر زور دیا ہے کہ کیری لوگر بل کے تحت زیادہ سے زیادہ امداد حکومت کو دیا کرے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ معاہدے کے تحت سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر دینے کا وعدہ پورا کیا جائے بلکہ امداد اس سے بھی زیادہ بڑھائی جائے تاہم امریکہ نے پاکستان کے ان مطالبات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے یو ایس ایڈ کے ذریعے ہی رقم کی تقسیم کرنا شروع کررکھی ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...